نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت تاریخ انسانی کی سب سے مثالی، کامل اور آفاقی قیادت ہے، اُمت اس کو اپنا کر ہر دور کے بحران سے نکل سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: August 29, 2025, 3:48 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت تاریخ انسانی کی سب سے مثالی، کامل اور آفاقی قیادت ہے، اُمت اس کو اپنا کر ہر دور کے بحران سے نکل سکتی ہے۔
مسلمانوں میں قیادت کا بحران بلاشبہ موجودہ دَور کا ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے، کیونکہ امت کے بیشمار اجتماعی اور انفرادی مسائل اسی سے جڑے ہوئے ہیں۔ قائدین تو بہت ہیں اور ان میں سے کچھ مخلص بھی ہیں لیکن آج امت کو وہ رہنمائی میسر نہیں ہے جو اسے ایک مضبوط، منظم اور باوقار قوم بنا سکے؛ حالانکہ مسلمان جس شخصیت کو اپنا رہنما اور رول ماڈل مانتے ہیں وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے، جو تاریخِ انسانی کے سب سے عظیم قائد اور کامل لیڈر ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قیادت کی اصل بنیاد کمالات و صفات کی وہ ہم آہنگی ہے جو دلوں کو مسخر کرے، عقل کو مطمئن کرے اور ارادوں کو ایک سمت میں مجتمع کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت اسی ہمہ گیر توازن کا مظہر تھی، جہاں روحانیت اور دنیا کی فہم، عدل و رحمت، قوت و حکمت سب ایک ہی شخصیت میں جمع تھے۔ یہ وہ کمالات و صفات ہیں جو موجودہ دور کے قائدین میں مطلوبہ درجے میں مفقود ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قیادت کی صورت تو موجود ہے مگر اس کا جوہر مفقود ہے اور جس قیادت میں جوہر نہ ہو وہ کشتی کے اس ناخدا کی مانند ہے جو سمندر کی وسعتوں میں موجود ہو مگر ساحل تک پہنچانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔ یہیں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہےکہ ظاہری قیادت کا ہونا ہی کافی نہیں، بلکہ اس میں وہ روحانی و اخلاقی توانائی ہونا ضروری ہے جو ملت کی نیا کو پار لگا سکے۔
یہ بھی پڑھئے:ووٹ کی حفاظت کیجئے
قرآن مجید کی روشنی میں اگر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ آپؐ کی ذات اقدس رہنمائی کا وہ مینار ہے جس سے ہر دور اور ہر شعبۂ زندگی کے لئے روشنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ (کی ذاتِ مبارکہ) میں بہترین نمونہ ہے۔ ‘‘ (الاحزاب: ۲۱ ) یہ اعلان اس امر کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت محض وقتی یا جزوی نہیں بلکہ ہمہ گیر اور دائمی ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا گیا: ’’اور ہم نے آپؐ کو تمام جہان کے لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے ۔ ‘‘ (الانبیاء:۱۰۷)، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت کا جوہر رحمت اور شفقت ہے، جس میں دشمن بھی امن پاتا ہے اور کمزور بھی سہارا حاصل کرتا ہے۔ مزید ارشاد ہوا: ’’اور معاملات میں ان سے مشورہ کرو۔ ‘‘(آل عمران: ۱۵۹)۔ یہ اصول ظاہر کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت آمرانہ نہیں بلکہ عادلانہ اور مشاورتی تھی جس میں امت کے ہر فرد کو وقعت اور احترام حاصل تھا۔ ان آیات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت عدل، رحمت اور حکمت کا وہ جامع نمونہ ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لئے مثالی ہے۔
احادیث نبویہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت کے اصول پوری وضاحت کے ساتھ ملتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے۔ ‘‘(بخاری) اس ارشاد میں قیادت کو اقتدار نہیں بلکہ امانت اور خدمت قرار دیا گیا ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ قائد اپنی رعایا کی خوشحالی اور بھلائی کا ضامن ہو۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تو بس اسی لئے بھیجا گیا ہے کہ میں اخلاق کے اعلیٰ ترین معیار کو کامل کر دوں۔ (موطا مالک) یہ اعلان ظاہر کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت کا بنیادی جوہر اخلاق ہے، کیونکہ بغیر اخلاق کے قیادت جبر اور ظلم میں بدل جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت کی اصل عظمت کا راز یہ ہے کہ وہ عدل و انصاف، اخوت و مساوات اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پر قائم تھی۔ یوں قرآن اور حدیث دونوں یہ بتاتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت تاریخ انسانی کی سب سے مثالی، کامل اور آفاقی قیادت ہے، جسے اپنا کر امت ہر دور کے بحران سے نکل سکتی ہے۔
موجودہ دور کے قائدین کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ قیادت کو خدمت کے بجائے حاکمیت اور برتری کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اگر منطق کی رو سے دیکھا جائے تو رہبری کا اصل مفہوم ہی خدمت ہے، کیونکہ رہبر وہ ہوتا ہے جو اپنی قوم کی ضرورتوں کو اپنی ضرورت پر مقدم رکھے، ان کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھے اور اپنی صلاحیتوں کو قوم کے فائدے کیلئے استعمال کرے۔ جب قائد خادم بنتا ہے تو قوم اسے دل سے اپنا رہنما تسلیم کرتی ہے اور اس کی قیادت پر اعتماد کرتی ہے لیکن جب وہ مخدوم بننے لگتا ہے، اپنی حیثیت کا سہارا لیتا ہے اور قوم کو اپنی خدمت پر مجبور کرتا ہے تو قیادت ایک بوجھ اور قوم ایک مجبور ہجوم میں بدل جاتی ہے۔ اسلئے حقیقی قائد وہی ہے جو خادم کی صفت سے متصف ہو کیونکہ خدمت ہی قیادت کا منطقی اور لازمی تقاضا ہے۔
اس پس منظر میں دیکھا جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امت کے سب سے بڑے قائد اور حاکم تھے، لیکن عملاً سب سے بڑے خادم بھی تھے۔ مثال کے طور پر، مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبویؐ کی تعمیر میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ اینٹیں اٹھاتے، مٹی ڈھوتے اور کام میں شریک ہوتے تھے۔ غزوات کے مواقع پر بھی یہ حال تھا کہ کھانا پکانے کے تعلق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے: میں لکڑیاں جمع کروں گا، حالانکہ صحابہ عرض کرتے تھے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ خدمت ہم انجام دے لیں گے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی تمہارے ساتھ شریک رہوں گا، کیونکہ مجھے امتیاز پسند نہیں۔ (ابوداؤد) یہ معمولی سا واقعہ نہیں بلکہ قیادت کے اصل مفہوم کو اجاگر کرتا ہے کہ قائد وہی ہے جو خدمت میں سب سے آگے ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سیرتِ طیبہ سے یہ اصول دیا کہ قوم کا رہبر سب سے پہلے قوم کا خادم ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:تقویٰ والی زندگی ہی کامیابی کا نسخہ ہے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف تاریخ انسانی کے سب سے عظیم قائد تھے بلکہ آپؐ نے قیادت سازی کی ایسی شاندار مثال قائم کی جو دنیا کی کسی اور شخصیت کے حصے میں نہیں آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تربیت، صحبت اور رہنمائی کے ذریعہ ایسے مردانِ کار تیار کئے جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی قیادت نے مرتدین کو شکست دی اور قرآن مجید کے نسخے کو محفوظ کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عدل و انصاف، فتوحات اور فلاحی نظام کی وہ مثال قائم کی جسے آج بھی دنیا حیرت سے دیکھتی ہے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کو ایک مصحف پر جمع کر کے امت کو وحدت بخشی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے علم، عدل اور شجاعت کے ایسے باب رقم کیے جو قیامت تک روشن رہیں گے۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت ایک ایسی اکیڈمی تھی جس نے ابو بکر، عمر، عثمان اور علی جیسے بےمثال قائدین کے ساتھ ساتھ خالد بن ولید، معاذ بن جبل، عبداللہ بن مسعود (رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین) اور بے شمار دیگر قائدین پیدا کئے۔ اس سے بڑھ کر قیادت کی کامیابی کی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک لیڈر نہ صرف خود عظیم ہو بلکہ اپنی امت کے اندر قیادت کا پورا قافلہ چھوڑ کر جائے۔
یقیناً یہی وہ نکتہ ہے جو امت مسلمہ کے لئے مشعلِ راہ ہے کہ قیادت سازی کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے۔ لہٰذا آج کی امت اگر قیادت کے بحران سے نجات چاہتی ہے، اگر وہ دوبارہ عزت و عروج کے آسمانوں پر پہنچنا چاہتی ہے، تو اس کے پاس ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ قیادت سازی کے باب میں سیرتِ نبویؐ کو اپنایا جائے۔ کیونکہ سیرت نبویؐ ہی وہ سرچشمہ ہے جو مخلص، باکردار اور بصیرت سے بھر پور قائدین پیدا کرسکتا ہے۔ یاد رکھیں ! جب تک امت اس منبع سے نہیں جڑے گی، قیادت کا بحران بڑھتا رہے گا اور ہم اندھیرے میں بھٹکتے رہیں گے۔