شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) مہر فاطمی کی مقدار۔ (۲) صدقات نافلہ سے صدقات واجبہ کی ادائیگی۔ (۳) مسجد کے لئے رقم مختص کرانا۔ (۴) ایام اضحیہ کے بعد قربانی؟
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 3:20 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) مہر فاطمی کی مقدار۔ (۲) صدقات نافلہ سے صدقات واجبہ کی ادائیگی۔ (۳) مسجد کے لئے رقم مختص کرانا۔ (۴) ایام اضحیہ کے بعد قربانی؟
مہر فاطمی کی مقدار
سونے چاندی کی قیمتیں بڑھنے کے بعد موجودہ دور میں مہر فاطمی کی مقدار کیا بنتی ہے؟ پیسوں کے اعتبار سے نیز چاندی کی کتنی مقدار مہر فاطمی میں دینا چاہئے ؟ اشرف حسین، بھیونڈی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق:پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ مہر فاطمی کیاہے ؟عام تصور یہ ہے کہ یہ صرف حضرت فاطمہ ؓکا مہر تھا حالانکہ یہ اکثر ازواج مطہرات اور دیگر صاحبزادیوں کا بھی مہر تھا۔ روایات میں جس کی مقدار ۵۰۰؍ درہم چاندی مذکور ہے ،موجودہ اوزان کے مطابق علماء حضرات اس کا وزن ایک کلو ۵۳۰؍ گرام ۹۰۰؍ ملی گرام بتاتے ہیں (اگرچہ بعض اکابر نے اس سے کچھ کم زیادہ بھی بتایا ہے مگر اکثر کا یہی قول ہے ) لہٰذا جب نکاح میں مہر فاطمی مقرر کیا جائے تو بوقت ادائیگی چاندی کی یہ مقدار واجب الادا ہو گی۔ چاندی سونے کی قیمتوں میں کمی بیشی عام ہے اسلئے اگرقیمت دینی ہو تو ادائیگی کے وقت کی قیمت ادا کرنی چاہئے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: مساجد و مدارس کی تعمیر میں غیر مسلم کے پیسے لگانے کا شرعی حکم
صدقات نافلہ سے صدقات واجبہ کی ادائیگی
زید نے اپنے کاروبار کے منافع میں دس فیصد اللہ کے لئے مختص کر دیا ہے۔ اب اگر زید اس دس فیصد میں سے پانچ فیصد غریبوں کو دینے کے بعد بقیہ پانچ فیصد کی رقم سے اپنی زکوٰۃ ادا کردے تو کیا اس کا ایسا کرنا درست ہوگا؟ محمد شمام ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: فقہاء کے مطابق صدقات کی تین قسمیں ہیں: فرض جیسے زکوٰۃ ، واجب جیسےصدقۂ فطر وغیرہ، انہیں میں سے نذر (منت)بھی ہے اور نفلی صدقات۔ فرض اور واجب صدقات کا مصرف فقراء ومساکین ہیں۔ انہیں بغیر کسی معاوضہ کے مالک بناکر دینا ضروری ہے۔ انہیں نہ مالداروں کو دے سکتے ہیں نہ مسجد وغیرہ کی تعمیر میں صرف کرسکتے ہیں اور نہ ہی خود اپنے یا اپنے اہل وعیال پر خرچ کرسکتے ہیں۔ لہٰذا بندہ صدقات واجبہ سے اپنی زکوٰۃ بھی ادا نہیں کرسکتا۔ یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ آمدنی میں سے کچھ فیصد اللہ کے لئے مختص کرنے کی نوعیت نذر اور منت کی ہے یا نہیں، نذر کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ بندہ زبان سے اللہ کے لیے اپنے اوپر کوئی چیز لازم کرلے مثلاً یہ کہ میں اللہ کے لئے آمدنی کا اتنا فیصد صدقہ کرنے کا پابند ہوںگا وغیرہ۔ اس صورت میں یہ صدقہ بھی واجبات میں شمار ہوگا اس لئے اس سے اپنی زکوٰۃ کی ادائیگی درست نہ ہوگی لیکن خود کو اللہ کے لئے خرچ کرنے کاپابند نہیں بنایا تو یہ نفلی صدقہ ہو گا، اس میں اپنے اور اہل عیال کی ضروریات میں بھی خرچ کرسکتاہے اور زکوٰۃ بھی ادا کرسکتا ہے تاہم بہتر یہی ہے کہ اسے خود پر خرچ کرنے کے بجائے غریبوں ہی پر خرچ کرے تاکہ فقرا ءکو زیادہ سے زیادہ نفع پہنچے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: ٹول کا حکم، قربانی کے جانور کی عمر، مطلوبہ مال نہ ملنے پر واپس کرنا
مسجد کے لئے رقم مختص کرانا
شادیوں میں مسجد کے لئے لڑکے والوں سے سامان منگوانا کیسا ہے اور مسجد کے لئے روپیہ رکھوانا رخصتی کے وقت کیسا ہے۔ شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔ اقبال احمد ، اکولہ
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: شرعاً مسجد کے لئے کوئی سامان یا رقم نہ لڑکی والوں کے ذمے ہے نہ لڑکے والوں کے البتہ اپنی خوشی سے کوئی کچھ دے تو اس کے لئے باعث سعادت ہوگا بشرطیکہ دینے والے پر کوئی جبر یا دباؤ نہ ہو۔ در اصل ہمارے (ہندوستانی) معاشرے میں بہت سی خود ساختہ رسمیں عام ہیں جس کا اثر مسلمانوں نے بھی قبول کیا ہے۔ یہ رسم بھی انہی کا حصہ ہے لہٰذا اس کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے البتہ نکاح مسجد میں ہو تو روشنی اور پنکھوں کے استعمال کی صورت میں مسجد کی جو بجلی صرف ہو تی ہے اس کا معاوضہ نکاح والوں کو خود دینا چاہے جبکہ مسجد والے بھی مناسب حد تک مطالبہ کرسکتے ہیں ۔والله ا علم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: حجر اسود کا بوسہ، دونوں طرف سے نفع، قرض کے بدلے نفع، شراب نوش دکاندار
ایام اضحیہ کے بعد قربانی؟
ایک شخص جس پر قربانی واجب تھی وہ قربانی کے ایام میں مسافر بھی نہیں تھا لیکن کسی وجہ سے قربانی نہیں کرسکا تو کیا حکم ہے ؟ کیا اگلے سال اس کی قضا کرے یا ایام قربانی کے بعد قربانی کی نیت سے کوئی جانور ذبح کرے اور اگر جانور خرید رکھا ہو تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا نیز اگر یہ شخص غریب تھا تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟ عبد اللہ ،راجستھان
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: قربانی صرف ایام اضحیہ (۱۰۔۱۱؍ اور ۱۲؍ ذی الحجہ) ہی میں ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد یعنی غیر ایام اضحیہ میں کوئی قربانی نہیں، اگلے سال اس کی قضا کا بھی کوئی تصور نہیں لہٰذا مالدار جو قربانی نہیں کرسکا اس پر واجب ہے کہ متوسط بھیڑ یا بکری کی قیمت مساکین میں صدقہ کرے، جانور خرید رکھاہوتو اسی جانور کو زندہ صدقہ کردے یاچاہے تو اس کی قیمت صدقہ کرے لیکن اگر ایام قربانی کے بعد جانور کو ذبح کردیا تو اس کا پورا گوشت غرباء میں صدقہ کردے ، اس میں نہ خود کھا سکتا ہے نہ کسی مالدار کو دے سکتا ہے۔ خود کھالیا تو جو کھایا ہے اس کی قیمت کا صدقہ واجب ہوگا۔ یہ حکم (گوشت کا صدقہ) غریب اور مالدار دونوں کیلئے ہے ۔غریب کا ارادہ تھا مگر جانور نہیں خریدا تھا تو کچھ بھی اسکے ذمے نہیں۔ گھر کے پالتو جانور کی قربانی کی نیت کرنے پر بھی جانور کا صدقہ کرنا واجب نہ ہو گا۔ خریدتے وقت نیت نہیں تھی بعد میں قربانی کی نیت کرنے پر بھی جانور کے صد قہ نہ کرنے ہی کا حکم ہوگا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم