Inquilab Logo Happiest Places to Work

محاسبہ کیجئے، کس کی غلطی ہے؟

Updated: July 31, 2026, 4:32 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

اسلام نےدینی احکامات پر عمل کرنے کو آسان بنایا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر گزرتے وقت کے ساتھ ہم خود اسے مشکل بنا رہے ہیں۔

The problems that arise for girls in our society are self-created and need to be addressed. Photo: INN
ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کے لئے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں وہ خود ساختہ ہیں جن پر توجہ دینا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

دنیا کا ہر نظام ایک مقررہ وقت کا پابند ہے۔ سورج اگر اپنی گھڑی سے چند گھنٹے پہلے طلوع ہو جائے یا موسم اپنی حدود سے تجاوز کر جائیں تو پوری کائنات کا توازن بگڑنے لگتا ہے۔ بیج اگر وقت پر زمین میں نہ ڈالا جائے تو اس کی قوتِ نمو کمزور پڑ جاتی ہے، اور پھل اگر اپنی مدت سے زیادہ درخت پر چھوڑ دیا جائے تو اس کی تازگی باقی نہیں رہتی۔ قدرت کا یہ اصول صرف درختوں، موسموں اور ستاروں تک محدود نہیں، بلکہ انسانی زندگی بھی اسی ضابطے کے تحت چلتی ہے۔ انسان کی ہر جسمانی، ذہنی اور جذباتی ضرورت کا ایک مناسب وقت ہوتا ہے۔ جب اس وقت کو بلاوجہ مؤخر کیا جاتا ہے تو نقصان صرف وقت کا نہیں ہوتا بلکہ شخصیت، جذبات اور پورے معاشرے کا ہوتا ہے۔

اسلام نے اسی فطری حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے نکاح کو محض ایک معاشرتی رسم نہیں، بلکہ عفت، سکون، ذمہ داری اور پاکیزہ معاشرے کی بنیاد قرار دیا۔ شریعت نے نکاح کو آسان بنایا اور اس کے راستے میں غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ لیکن اسی مقام پر ایک سوال ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے کہ  اگر اسلام نے نکاح کو پاکیزگی کا ذریعہ بنایا ہے تو پھر ہماری بیٹیاں برسوں تک اسی دروازے کے کھلنے کا انتظار کیوں کرتی رہتی ہیں؟ آخر وہ کون سی دیواریں  اور رکاوٹیں ہیں؟

یہ بھی پڑھئے: قرآن سے تعلق کی لذت نے صحابۂ رسولؐ کو ہر دکھ اور تکلیف سے بے نیاز کر دیا تھا

اس کے جواب میں معاشرے کی کئی تلخ حقیقتیں سامنے آتی ہیں۔ کہیں برادری کی قید ہے، کہیں خاندان کی انا، کہیں مال و دولت کا غرور، کہیں ظاہری حسن کو معیار بنا لیا گیا ہے، اور کہیں ایسی بے جا توقعات جنہیں پورا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ تمام شرائط انسان نے خود بنائی ہیں، مگر ان کی قیمت بیٹیوں کی جوانی ادا کرتی ہے۔ شرائط والدین کی ہوتی ہیں، انتظار بیٹیوں کا ہوتا ہے اور وقت ان کی عمر سے کٹتا رہتا ہے۔بعض والدین کہتے ہیں کہ ’’ہم اپنی بیٹی کے لئے بہترین رشتہ چاہتے ہیں۔‘‘ سوال یہ ہے کہ بہترین کی تعریف کیا ہے؟ کیا بہترین وہ ہے جس کے پاس دولت زیادہ ہو، یا وہ جو اللہ سے ڈرتا ہو، کردار کا پاکیزہ ہو اور ذمہ داری اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہو؟ اگر معیار صرف مال، برادری اور ظاہری حیثیت بن جائے تو پھر دینداری صرف تقریروں کا موضوع رہ جاتی ہے، گھروں کے فیصلوں کا نہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رزق کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں۔ انسان اپنی قسمت کا رزق لے کر دنیا میں آتا ہے۔ اگر معاشی تنگی ہی نکاح میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ ہوتی تو دنیا کے غریب ترین گھر کبھی آباد نہ ہوتے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کتنے ہی گھر ایسے ہیں جن کی بنیاد دولت پر نہیں بلکہ اعتماد، قناعت اور اللہ پر توکل پر رکھی گئی، اور وہی گھر بعد میں خوشیوں اور برکتوں کی مثال بن گئے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اپنی دینداری کے اظہار میں تو بہت حساس ہے، مگر اپنی بیٹیوں کے بنیادی حقوق کے معاملے میں غیر معمولی غفلت کا شکار ہے۔  حیرت ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کی نگاہ اللہ رسولؐ کی اس تنبیہ پر کیوں نہیں پڑتی، یا شاید وہ اسے دین کے عملی احکام میں شمار ہی نہیں کرتے۔ آپؐ  نے فرمایا:مسکین ہے، مسکین ہے وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کیا: اگرچہ وہ بہت مال والا ہو تب بھی؟ آپؐ  نے فرمایا:ہاں، اگرچہ وہ بہت مال والا ہو۔ پھر فرمایا: مسکین ہے، مسکین ہے وہ عورت جس کا خاوند نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کیا: اگرچہ وہ بہت مالدار ہو تب بھی؟ آپؐ  نے فرمایا: ہاں، اگرچہ وہ مالدار ہو۔ 

(مجمع الزوائد، ج:۴بحوالہ معجم طبرانی اوسط)

یہ بھی پڑھئے: مساجد مسلمانوں کو جوڑنےاور اُن میں محبت پیدا کرنے میں معاون ہوسکتی ہیںا

یہ حدیث محض ایک فضیلت بیان نہیں کرتی بلکہ ایک ایسا آئینہ سامنے رکھتی ہے جس میں والدین، سرپرست اور صاحبِ اختیار اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ رشتے کم ہیں؛ افسوس اس بات کا ہے کہ شرائط زیادہ ہیں۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ وسائل محدود ہیں؛ افسوس اس بات کا ہے کہ خواہشات بے حد بڑھ گئی ہیں۔ آج بعض گھروں میں کردار سے زیادہ بینک بیلنس ، دینداری سے زیادہ ملازمت کا عہدہ، اخلاق سے زیادہ خاندان کا نام اور انسان سے زیادہ اس کی جیب کا وزن دیکھا جاتا ہے۔ پھر حیرت بھی کی جاتی ہے کہ نیک رشتے کیوں نہیں ملتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب معیار بدل جاتے ہیں تو برکتیں بھی رخصت ہونے لگتی ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کریں۔ اگر اپنی برادری میں مناسب رشتہ نہ ملے تو ایک مسلمان ہونے کا رشتہ کافی ہونا چاہیے۔ اگر آمدنی کم ہو لیکن کردار بلند ہو تو ایسے رشتے کو دولت کی کمی کی وجہ سے رد نہ کیا جائے۔ مال بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے، حسن ڈھل جاتا ہے، دنیاوی مرتبے بدلتے رہتے ہیں، مگر ایمان، حسنِ اخلاق اور ذمہ داری وہ سرمایہ ہے جس پر ایک پائیدار خاندان کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: خبردار!فتنۂ قادیانیت میں اسلامی اصطلاحات استعمال ہورہی ہیں

قیامت کے دن انسان سے صرف اپنی عبادتوں کا حساب نہیں ہوگا، بلکہ اپنی ذمہ داریوں کا بھی سوال ہوگا۔  اس دن نہ برادری کام آئے گی، نہ معاشرتی وقار، نہ لوگوں کی تعریفیں؛ وہاں صرف نیت، ذمہ داری اور عمل کا وزن ہوگا۔

اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی سوچ بدل لیں۔ نکاح کو مشکل بنانے اور بنائے رکھنے کے بجائے آسان کریں، رسموں کے بجائے سنت کو زندہ کریں، لوگوں کی رضا کے بجائے اللہ کی رضا کو مقدم رکھیں، اور اپنی اولاد کے لیے وہ دروازہ کھول دیں جسے اللہ اور اس کے رسولؐ  نے عزت، سکون اور پاکیزگی کا دروازہ قرار دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK