Inquilab Logo Happiest Places to Work

عزت، ذلت، زندگی اور معافی کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے

Updated: July 31, 2026, 5:03 PM IST | Dr. Mufti Nadeem Ahmed Ansari | Mumbai

دنیا کا کوئی بلیک میلر، کوئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم یا کوئی بھی انسان آپ کی آخرت کا فیصلہ نہیں کر سکتا البتہ گناہوں سے ہر حال میں بچنا بھی ضروری ہے۔

The number of people who are experts in digital crime and harass people is increasing. Photo: INN
ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جو ڈیجیٹل کرائم کے ماہر ہیں اور لوگوں کو پریشان کرتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

انسان مجموعہ ہے خطاؤں، نادانیوں اور بھول چوک کا۔ خاص طور پر جوانی کا دور زندگی کا ایک ایسا طوفانی مرحلہ ہوتا ہے جہاں خواہشات، جذباتیت اور ماحول کی ناپختگی مل کر انسان کی عقل و شعور پر غالب آ جاتی ہیں۔ اس عمر میں بسا اوقات انسان ایسے گناہوں اور بداعمالیوں کا مرتکب ہو جاتا ہے جن کا تصور ہی روح کو کانپنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

ڈیجیٹل دور اور سائبرکرائم

آج کے دور میں  سائبر کرائم اور ڈیجیٹل بلیک میلنگ نے گناہ کو ایک انتہائی خوفناک رخ دے دیا ہے۔ بعض مرتبہ تو خود وہ ’دوست‘ جس کے ساتھ مل کر آدمی نے گناہ کیا ہوتا ہے، وہی اپنی ڈیمانڈ پوری کروانے کی خاطر بلیک میل کرنے لگتا ہے۔ جب کوئی نوجوان نادانی میں کوئی غلطی کر بیٹھتا ہے اور کسی شریر شخص کے ہاتھ میں اس کے ثبوت (اسکرین شاٹس، ویڈیوز، آڈیو ریکارڈنگز، چیٹنگ) ہوتے ہیں، تو وہ اس نوجوان کی زندگی کو جہنم بنا دیتا ہے۔ اسے سماجی رسوائی اور خاندان میں بدنامی کا ڈر دلا کر بلیک میل کرنے لگتا ہے۔اس کے نتیجے میں نوجوان شدید ڈپریشن اور خوف کا شکار ہو کر بسا اوقات خودکشی جیسا انتہائی اور حرام و الم ناک قدم اٹھا لیتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: کیا آپ نے قرآنی آیات کو تصوّر میں محسوس کیا ہے؟

سچی توبہ کیجئے

اگر کسی انسان سے جوانی کی نادانی یا نفس کے بہکاوے میں آ کر کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہو،خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو،تو اسلام کا سب سے پہلا اور بنیادی حکم ’سچی توبہ‘ ہے۔ اسلام انسان کو امید کا پیغام دیتا ہے اور مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر رب کی رحمت کے سایے میں لاتا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سورۃ الزمر میں ارشاد فرمایا:آپ کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو ! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے، یقینا ًوہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔ (الزمر) 

  نیز سورۃ الفرقان میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے والوں کی تبدیل شدہ حالت کا ذکر اس طرح فرمایا: ہاں مگر جو کوئی توبہ کرلے، ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کردے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (الفرقان)

اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ سچی توبہ انسان کا ماضی بالکل صاف کر دیتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓکہتے ہیں، حضورؐ  نے فرمایا : گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص ایسا ہے  جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔ (ابن ماجہ)حضرت انس ؓسے روایت ہے، اللہ رسولؐ نے فرمایا: تمام ابنِ آدم خطاکار ہیں اور بہترین خطاکار توبہ کرنے والے ہیں۔ (ترمذی) 

مومن کی سب سے بڑی طاقت 

ایک مومن کی سب سے بڑی طاقت اس کا عقیدۂ توحید ہوتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ انسان کی عزت، ذلت، زندگی اور معافی کا اختیار صرف اور صرف اللہ رب العزت کے پاس ہے۔ دنیا کا کوئی بلیک میلر، کوئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم یا کوئی بھی انسان آپ کی آخرت کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔ جب بندہ تنہائی میں ندامت کے آنسو بہاتا ہے، تو اللہ اس کے عیبوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔قرآن مجید میں فرمایا گیا:  اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے، اور گناہوں کو معاف کرتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اس کا پورا علم رکھتا ہے۔ (الشوریٰ) جب آپ کا معاملہ اس ذات کے ساتھ طے ہو گیا جو کائنات کا مالک اور قاضی ہے، تو پھر انسانوں کی باتوں اور ان کی دھمکیوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔

یہ بھی پڑھئے: قرآن سے تعلق کی لذت نے صحابۂ رسولؐ کو ہر دکھ اور تکلیف سے بے نیاز کر دیا تھا

حرام موت اور ابدی خسارہ

سماجی رسوائی کے خوف یا شدید ڈپریشن کی حالت میں بعض نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ خودکشی  ہی مسئلے کا حل ہے۔ لیکن یہ شیطان کا سب سے بڑا دھوکا اور دجل (فریب) ہے۔ اسلام میں خودکشی حرام مطلق ہے۔ یہ موت ہی حرام موت کہلاتی ہے۔ خودکشی کر کے انسان کسی مسئلے سے نجات  نہیں پاتا بلکہ ایک عارضی دنیوی تکلیف سے بھاگ کر جہنم کی ابدی سزا میں چھلانگ لگا دیتا ہے۔ قرآن میں رب العزت کا صریح حکم ہے: اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، یقین جانو اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔ (النساء) اور اگلی ہی آیت میں اس کی بھیانک سزا یہ بیان فرمائی: اور جو شخص زیادتی اور ظلم کے طور پر ایسا کرےگا، تو ہم اس کو آگ میں داخل کریں گے، اور یہ بات اللہ کیلئے بالکل آسان ہے۔ (النساء) حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، نبی کریمؐ  نے فرمایا: جو اپنے آپ کو گلا گھونٹ کر مارتا ہے وہ جہنم میں اپنے آپ کو گلا گھونٹ کر مارتا رہے گا، اور جو شخص نیزہ چبھو کر مارتا ہے وہ جہنم میں اپنے آپ کو نیزہ چبھو کر مارتا رہے گا۔ (بخاری)

 عیب جوئی اور پردہ دری کرنے والوں کے لئے سخت وعید

جو لوگ اس طرح نوجوانوں کو بلیک میل کرتے ہیں، ان کی چیٹس اور ویڈیوز لیک کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں یا ان کے عیبوں کو سرِعام پھیلاتے ہیں، اسلام نے ان کے لئے سخت ترین وعیدیں بتائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (النور)  حضور  نے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کی بہت تاکید کی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے،  حضورؐ  نے فرمایا: جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائےگا۔ (مسلم)

خلاصۂ کلام

نوجوانوں کا جذبات میں بہہ جانا یا گناہ میں مبتلا ہو جانا انسانی کمزوری تو ہو سکتی ہے، لیکن اس گناہ پر قائم رہنا، مایوس ہو جانا، والدین کو عمر بھر کا غم دینا یا بلیک میلر کے ڈر سے خودکشی کر لینا انتہائی نا سمجھی اور حرام قدم ہے۔ اگر ماضی میں آپ سے کوئی غلطی ہوئی ہو، کوئی گناہ سرزد ہوا ہو یاد رکھیں کہ اللہ کی معافی کا در ہمیشہ کھلا ہے۔ انسانوں کا کام باتیں بنانا ہے اور اللہ کا کام گناہ چھپا کر معاف کرنا ہے۔ کسی بھی بلیک میلر کی دھمکی سے ڈرنے کے بجائے سچی توبہ کریں، ہمت سے کام لیں، اپنے ماں باپ کو اعتماد میں لیں، قانونی راستے اپنائیں، اور اپنے رب پر پورا توکل رکھیں۔ جب اللہ آپ کے ساتھ ہے، تو دنیا کی کوئی طاقت رسوا نہیں کر سکتی۔

یہ بھی پڑھئے: انسانی حقوق کا دائرہ بہت وسیع ہے

ذہنی سکون کیلئے مسنون اذکار 

شدید تناؤ اور خوف میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کیلئے مسنون اعمال و اذکار کا اہتمام کریں جیسے قرآن پاک کی یہ آیت ’’ ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔‘‘  (آل عمران)  اور آپؐ کے ذریعےسکھائی گئی یہ دعا :

’’اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں ہر طرح کے آرام اور راحت کا سوال کرتا ہوں ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے معافی اور عافیت کا طلب گار ہوں، اپنے دین و دنیا میں اور اپنے اہل و مال میں ۔ اے اللہ ! میرے عیب چھپا دے، مجھے میرے اندیشوں اور خطرات سے امن عنایت فرما ۔ یا اللہ ! میرے آگے ، میرے پیچھے ، میرے دائیں ، میرے بائیں اور میرے اوپر سے میری حفاظت فرما ۔ اور میں تیری عظمت کے ذریعے سے اس بات سے پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے نیچے کی طرف سے ہلاک کردیا جاؤں۔‘‘ (ابوداؤد)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK