Inquilab Logo Happiest Places to Work

عید ایک روشن صبح

Updated: March 20, 2026, 4:47 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

جس میں عبادت کی شب بیداریوں کا نور، دلوں کی طہارت اور روح کی بالیدگی ایک حسین منظر پیش کرتی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

رمضان المبارک کی طویل ریاضتوں کے بعد جب عید کا چاند طلوع ہوتا ہے تو گویا بندگی کی محنتوں پر ربِ کریم کی طرف سے مسرتوں کی مہر ثبت ہوجاتی ہے۔ یہ دن محض خوشی کا نہیں بلکہ شکر، عاجزی اور روحانی کامیابی کا اعلان ہوتا ہے، جو اسلامی تہذیب کے حسن کو نمایاں کرتا ہے۔
اسلامی تہذیب میں عید کا پہلا درس شکر گزاری کا ہے۔ ایک مہینہ روزے، قیام اور تلاوت میں گزارنے کے بعد بندہ جب عید کی نماز کے لئے نکلتا ہے تو اس کے دل میں شکر کا ایک سمندر موجزن ہوتا ہے۔ نبی اکرم ؐ  عید کے دن تکبیرات کا اہتمام فرماتے تھے اور اللہ کی بڑائی بیان کرتے تھے (صحیح بخاری) جو اس بات کی علامت ہے کہ عید کا اصل پیغام اللہ کی نعمتوں کا اعتراف ہے۔عید کا ایک نمایاں پہلو مساوات اور اخوت کا عملی اظہار بھی ہے۔ اس دن امیر و غریب، چھوٹے بڑے سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر عید کی نماز ادا کرتے ہیں، جو اسلامی تہذیب کی اس عظیم تعلیم کو اجاگر کرتا ہے کہ انسانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں سوائے تقویٰ کے۔ نبی اکرم ؐکا ارشاد گرامی ہے:’’اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم) اس اعتبار سے عید کا دن انسانی برابری کا جیتا جاگتا نمونہ بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: موجودہ حالات میں ہمیں سیرت نبویؐ سے کون کون سی رہنمائی ملتی ہے!

اسی طرح عید اسلامی تہذیب میں ضرورت مند، فقراء و مساکین کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا حسین مظہر بھی ہے۔ صدقۃ الفطر کی ادائیگی اسی لئے واجب کی گئی کہ غریب بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۃ الفطر کو فرض قرار دیا تاکہ روزہ دار کی لغزشوں کا کفارہ ہو اور مسکینوں کے لئے کھانے کا انتظام ہوجائے۔ (سنن ابی داؤد) یہ پہلو اسلامی معاشرت کی رحمدلی اور اجتماعی فلاح کا بہترین عکاس ہے۔
عید کا دن محبتوں کو تازہ کرنے اور رشتوں کو مضبوط بنانے کا بھی موقع ہے۔ اسلامی تہذیب ہمیں سکھاتی ہے کہ اس دن دلوں کی کدورتوں کو مٹایا جائے اور ایک دوسرے سے گلے مل کر اخوت کا اظہار کیا جائے۔ نبی اکرم ؐکا ارشاد گرامی ہے: ‘‘تم ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو… اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔‘‘ (صحیح بخاری) عید اس تعلیم کو عملی جامہ پہنانے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔اسی طرح عید بڑوں کی تکریم اور چھوٹوں پر شفقت و محبت نچھاور کرنے کا بھی حسین موقع ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خاندان اور معاشرہ احترام اور محبت کے دو مضبوط ستونوں پر قائم ہوتا ہے۔ نبی اکرمؐ کا فرمان ہے: ’’وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے اور ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے۔‘‘ (سنن ترمذی) 
اسلامی تہذیب میں عید سادگی اور اعتدال کا بھی پیغام دیتی ہے۔ اگرچہ خوشی منانا مشروع ہے، لیکن اس میں اسراف، نمود و نمائش اور فضول خرچی کی کوئی گنجائش نہیں۔ قرآن کریم میں بھی اسراف سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے، جو عید کی خوشیوں کو مزید بامقصد بناتی ہے۔عید کا ایک روحانی پہلو یہ بھی ہے کہ یہ دن اللہ سے قربت کے احساس کو تازہ کرتا ہے۔ بندہ جب رمضان کے بعد عید مناتا ہے تو اسے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اس نے اللہ کے حکم پر عمل کیا اور اب وہ اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آئیے! پھر ایک بار ہم رمضان کا سبق تازہ کریں!

خلاصہ یہ ہے کہ عید اسلامی تہذیب کی ایک جامع تصویر پیش کرتی ہے جس میں عبادت، اخلاق، معاشرت، محبت اور روحانیت سب یکجا نظر آتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے، جس میں خوشی بھی عبادت بن جاتی ہے اور مسرت بھی بندگی کا حصہ۔ اگر ہم عید کی ان حقیقی روحانی اور تہذیبی اقدار کو اپنالیں تو ہماری زندگی واقعی اسلامی تہذیب کی حسین جھلک بن  جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK