• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روزہ متنوع قسم کے اعمال کا مجموعہ ہے

Updated: February 27, 2026, 9:29 AM IST | Maulana Sayed Mohammad Rabey Hasani Nadwi | Mumbai

ہرانسان نفس ونفسانیت سے بھی مرکب ہے، انسان کا نفس لذت کوش اورراحت طلب ہوتا ہے۔ اس میں طمع کا مادہ بھی ہوتا ہے اور خودغرضی کا جذبہ بھی ہوتا ہے۔ نفس ہی زندگی کی بہت سی برائیوں کواختیارکرنے میں انسان کا نفس محرک بنتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

رمضان المبارک کا مہینہ خیروبرکت کا مہینہ ہے، ایمان وعبادت کا مہینہ ہے، مسلمان کومسلمان بن کر  اوراپنے اعمال کو خدا کی خوشنودی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کا مہینہ ہے، دولت مند کواپنی دولت مندی کے ذریعہ خدا کو راضی و خوش کرنے کا، اورغریب کواپنی غریبی کے باوجود نیک عمل کرنے کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ آتا ہے توفضا کو پُرنور بنادیتا ہے، اہل ایمان کے میں مسرّت کی لہردوڑا دیتا ہے، مسلمانوں کی صبح ومساء میں دل پزیر  رونق پیدا کر دیتا ہے، بڑے عمر کے لوگ خلوص عمل کے ساتھ نیکی پر کاربند ہوتے ہیں، چھوٹی عمر کے افراد اس ماہ کی پُرلذت افطاری سے سرور ولطف حاصل کرتے ہیں۔ نمازِ فجر سے قبل کی سحریاں اور غروب شمس کے بعد کی افطاریاں، اس کی راتوں کا ذکر وعبادت، اس کے دنوں کی تلاوت، سب اس ماہ کی رونق کودوبالاکرتی ہیں، پھر ان سب باتوں پرحاصل ہونے والا اجر ہرمومن کے دل کو پُرسرور بناتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر مخصوص اجر دینے کا وعدہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آج کی تراویح میں اُن تین سو تیرہ مسلمانوں کا ذکر ہےجو فتح و ظفر سے ہمکنار ہوئے

رمضان کا روزہ درحقیقت متنوع قسم کے اعمال کا مجموعہ ہے، اس میں مسلمان کواپنے پروردگار کی رضاء کی طلب میں اپنے نفس کومارنا پڑتا ہے، اس میں آخرت کے اجر کیلئے اپنے مال کوصرف کرنے کا اور اپنے پروردگار کی یادکودل میں جگانے کے لئے نماز وتلاوت کاخاص موقع ملتا ہے، اپنی زبان کوخوبی اورنیکی کا پابند بنانے کا ماحول ملتا ہے، اپنے وقت کو ستھرے اورپاکیزہ کام کے ساتھ وابستہ کرنے کا داعیہ ملتا ہے اورنیک عمل کی توفیق ہوتی ہے۔
رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے شیاطین قید سلاسل کردئیے جاتے ہیں، شیاطین جن کا کام بس یہ ہے کہ وہ انسانوں کواچھے کامو ں سے برگشتہ بنائیں اوربرے کاموں کے سبزباغ دکھائیں، وہ اس ماہ میں اپنے اس ظالمانہ اورگندے کام سے روک دئیے جاتے ہیں، اس کے نتیجہ میں نیکی کرنے والوں کے نیک عمل میں آسانی ہوتی ہے اوربرائی اختیارکرنے والوں کوبرائی کی طرف مائل ہونے میں اتنا داعیہ نہیں باقی رہتا جتنا سال کے باقی مہینوں میں ہوتا ہے۔
ہرانسان نفس ونفسانیت سے بھی مرکب ہے، انسان کا نفس لذت کوش اورراحت طلب ہوتا ہے۔  اس میں طمع کا مادہ بھی ہوتا ہے اور خودغرضی کا جذبہ بھی ہوتا ہے۔ نفس ہی زندگی کی بہت سی برائیوں کواختیارکرنے میں انسان کا نفس محرک بنتا ہے۔  اس میں شیطان کی کوشش پر ہی انحصار نہیں شیطان اس میں صرف بڑھاوا دیتا اورطاقت پہنچاتاہے اورمزید بڑی برائیوں کی طرف مائل کرتا ہے اوران میں معاونت کرتا ہے۔رمضان میں جوبرائیاں کی جاتی ہیں وہ اس لئے کم ہوتی ہیں کہ وہ صرف نفس کے اثر سے ہوتی ہیں،  ان کوشیطان کا سہارا نہیں ملتا۔ لیکن انسانی نفس بعض انسانوں میں اور بعض موقعوں پر اتنا قوی اور توانا  ہوجاتا ہے کہ اس کواپنے برے اقدامات کے لئے شیطان کے سہارے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ نفس رمضان کے مہینہ میں بھی اپنا کام کرسکتا ہے اورکرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے روزہ میں یہ بھی اثررکھا ہے کہ وہ نفس کو کمزور کردے  اوراس کو اس کے برے اثرات سے روکے اوراس کے اثر کو کم کردے، کیونکہ روزہ درحقیقت نفس کے خراب اثرکوتوڑنے کا عمل ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کیا آپ راہِ خدا میں خرچ کرنے کیلئے تیار ہیں؟

روزہ کی ساخت اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ وہ نیکیوں کی راہ بناتا ہے اورگناہوں کی راہ روکتا ہے لیکن روزہ کے اثرات اوراس کی نیک فضا اسی وقت اپنا عمل کرتی ہے جب روزہ کو اس کے آداب اوراس کی مقررہ احتیاطوں کے ساتھ رکھا جائے،  وہ خدا کے لئے ہو، اپنے کسی مادی یاخود غرضانہ مقصدکے لئے یا دکھاوے کے لئے نہ ہو۔  روزہ میں جوباتیں ممنوع قراردی گی ہیں ان سے پورا پرہیز ہو، اورروزہ کی فضاء کو قائم کرنے کے لئے جواعمال بتائے گئے ہیں وہ اختیار کئے جائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK