• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا آپ راہِ خدا میں خرچ کرنے کیلئے تیار ہیں؟

Updated: February 27, 2026, 9:21 AM IST | Imam Hassan Al Banaa | Mumbai

رمضان کے روزوں کے فوائد و ثمرات سے متاثر ہو کر، آپ اس حقیقت تک پہنچیں گے کہ یہ دنیوی سازو سامان اور یہ فنا پذیر اموال محض ذرائع ہیں، ان کی لذتیں مقصود نہیں اور نہ ان کی بذات خود کوئی قدر و قیمت ہی ہے۔ یہ مال و متاع تب ہی اعلیٰ و اشرف ہے جب آپ اسے بھلائی کے کاموں میں خرچ کریں

There are countless people in poverty, what is needed is that we first become ready to spend happily. Photo: INN
مفلوک الحال افراد بے شمار ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے ہم خوشدلی سے خرچ کرنے کیلئے تیار ہوجائیں۔ تصویر: آئی این این

میں چاہتا ہوں کہ آج آپ کو یہ بتاؤں کہ ماہِ رمضان ماہ جود و سخا ہے، ماہِ کرم و عطا ہے، خرچ کرنے کامہینہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے اس موقف کے ساتھ ہم آہنگ ہوں اور اسی نتیجے تک پہنچیں جس تک میں پہنچا ہوں مگر ایک علمی طریق کار سے، ایک سائنٹیفک ریسرچ کے ذریعے، ایک خالصتاً تحقیقی و علمی زاویۂ نظر سے اور باریک بینی پر مبنی تجزیاتی نقطۂ نظر سے۔

اے عزیزانِ گرامی قدر! آپ رمضان کے دنوں میں کھانے پینے سے اجتناب کرتے ہیں، خوردونوش سے بچتے ہیں، آپ جسمانی لذات و شہوات کے خلا ف لڑتے ہیں،  آپ اپنے پروردگار کے حضور روزے، نماز، عبادت اور تلاوت قرآن کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی لذیذ غذا ہے، یہ روح کی من بھاتی لذیذ خوراک ہے، پاکیزہ نفس اس سے لطف اندوز ہوتا ہے،  اس سے فکرونظر میں جلا پیدا ہوتی ہے اور  اس سے نور بصیرت میں چمک دمک پیدا ہوتی ہے۔ رمضان کے روزوں کے فوائد و ثمرات سے متاثر ہو کر، آپ اس حقیقت تک پہنچیں گے کہ یہ دنیوی سازو سامان اور یہ فنا پذیر اموال محض ذرائع ہیں، ان کی لذتیں مقصود نہیں اور نہ ان کی بذات خود کوئی قدر و قیمت ہی ہے۔ یہ مال و دولت اور یہ سازو سامانِ دنیا، یہ مال و متاع جہاں اس وقت اعلیٰ و اشرف ہے جب آپ اسے بھلائی کے کاموں میں خرچ کریں، جب کہ یہی مال و منال گھٹیا، ہیچ اور حقیر و معمولی ہے، جب آپ اسے حقیر کاموں میں ضائع کریں ۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان: تزکیۂ نفس، سماجی احساس اور انسانی وحدت کا مہینہ

رمضان خرچ کرنے کا مہینہ ہے۔ اگر آپ روزے کی اصل روح سے سرشار ہو جائیں اور روزے آپ پر مثبت اثرات ڈالیں تو آپ محسوس کریں گے کہ بہت سے لوگ بھوکے ہیں، ان کے حلق پیاسے ہیں، ان کی آنتیں قل ھو اﷲ پڑھ رہی ہیں، جب کہ آپ میں اتنی استطاعت ہے کہ آپ ان کی بھوک کا ازالہ کر سکتے ہیں، ان کے پیاسے حلق تر کر سکتے ہیں۔ اب روزہ آپ کو اس بات پر آمادہ کرے گا کہ آپ ان بھوکے پیاسے انسانوں کے لئے دُنیا کا مال و متاع خرچ کریں۔ روزے کی برکات و سعادات کا ہی یہ ثمرہ ہے کہ آپ خوشی و مسرت بلکہ فخر سے اﷲ کی راہ میں خرچ کریں گے۔

ماہ رمضان جود و سخا اور بذل و عطا اور داد و دہش کا مہینہ ہے۔ آپ جب اس کے روزوں کے تجربات سے گزریں گے تو محسوس کریں گے کہ آپ کے دل میں ایک نازک جذبہ جاگزیں ہو چکا ہے۔ ایک دقیق و رقیق احساس نے آپ کی ذات کا احاطہ کر لیا ہے۔ ایک نرم و نازک،  رقت آمیز شعور مگر انتہائی طاقتور سوچ نے آپ کے دل و دماغ اور حواس پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ جذبہ ، یہ احساس، یہ شعور، یہ سو چ کیا ہے؟ لوگ اسے نرم دلی، رحمت اور شفقت و ہمدردی کا نام دیتے ہیں۔ اسے آپ خواہ کوئی سا بھی نام دیں، رحمت و شفقت کہیں یا محبت و الفت، مگر آپ  یہ ضرور محسوس کرینگے کہ آپ کی ذات میں کسی ایسے جذبے نے جگہ بنا لی ہے جو آپ کو مجبور کرتا ہے کہ پریشان حال اور مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی و غمخواری کریں، محروموں کو عطا کریں، غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور بے سہارا لوگوں کے آنسو پونچھیں۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۸): ماہِ رمضان آگیا، نور ہر سو‘ چھا گیا، رب کا یہ انعام ہے!

معلوم ہوا کہ رمضان بذل و عطا کا مہینہ ہے،  آسان لفظوں میں دینے دلانے کا مہینہ ہے اور خرچ کرنے کا مہینہ ہے۔ روزوں کی عملی تربیت سے اگر آپ کی ذات میں یہ جذبہ پیدا ہو، یہ خیال ابھرے اور یہ سوچ پیدا ہو کہ یہ مال و متاعِ دنیا سب بتانِ و ہم وگمان ہیں۔ انسانوں کو آزمائش پر آمادہ کرنے والی فانی شے ہے۔ لوگ جسے مال و منال کہتے ہیں، یہ دراصل وبال ہے۔ اس کے بعد آپ میں یہ جذبہ جنم لے گا کہ جس مال کا آپ کو جانشین بنایا گیا ہے، اسے آپ کو بھوکی پیاسی انسانیت کی خاطر اور نیکی اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا ہے۔ اس مال میںسے آپ کیلئے صرف وہی ہے جسے آپ اپنے ذاتی تصرف میں  لے آئے ، یا صدقہ کر کے اپنے مال کو بقائے دوام  دے دی۔ قارئین محترم، ذرا اس ارشاد الٰہی کا مطالعہ کیجئے:

 ’’ایمان لاؤ اﷲ اور اس کے رسولؐ پر ، اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے۔‘‘ (الحدید: ۷) آپ بلاشک و شبہ اﷲ کے راستے میں، نیکیوں اور بھلائیوں کے کاموں میں ہنستے مسکراتے، بطیب خاطر اپنا مال و دولت خرچ کریں گے۔ آپ کو اس کار خیر تک کس نے پہنچایا؟ صحیح شرعی روزے نے…!

اس ساری تمہید ِطولانی کے بعد آپ میں یہ صلاحیت پیدا ہو چکی ہے کہ درج ذیل حدیث نبویؐ کے بھید کو پا سکیں اور اس میں مضمر راز کی تہہ تک پہنچ سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: آج کی تراویح میں مالِ غنیمت، غزوۂ بدر اور پھر زکوٰۃ کے مصارف کی بابت سنئے!

امام بخاریؒ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کی ہے،  فرمایا: ’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے۔ آپؐ رمضان میں بہت زیادہ سخاوت فرماتے تھے جب حضرت جبریل ؑ آپ سے ملتے تھے۔ حضرت جبریل ؑ آپؐ سے رمضان کی ہر رات میں ملاقات کرتے تھے، اور آپؐ سے مل کر قرآن کریم کا دور کرتے تھے۔ حضوؐر اکرم خیر و بھلائی کی سخاوت کرنے میں تند و تیر آندھی سے بھی زیادہ سخی تھے۔‘‘ 

کیا آپ نے غور کیا؟ رسولِؐ انور کی ذات گرامی روحانی درجات میں کس قدر بلند و بالا تھی۔ پھر اس پر حضرت جبریل ؑ سے ملاقات کی روحانیت۔ پھر تلاوت قرآن کی روحانیت۔ رمضان کے روزوں کی روحانیت۔   چنانچہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ و السلام مال و متاع دنیا کی سخاوت اس طرح کرتے تھے، جیسے تندوتیز ہوا ہو کہ وہ ہر چیز پر سے گزرتی ہے، ہر شے کو سرفراز کرتی ہے۔

 ہو سکتا ہے کہ اس مالی بحران کے دور میں، مسلمانوں کو اپنا مال خرچ کرنے کیلئے کہنا قارئین محترم کو کچھ عجیب سا لگے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ  اعتراض کریں کہ جب لوگ معیشت کی تنگی میں مبتلا ہیں اور مالی بحران نے ان کا جینا دو بھر کر رکھا ہے، تو ایسی حالت میں انہیں انفاق فی سبیل اﷲ کی ترغیب دینا غیر موزوں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: زکوٰۃ کا مقصد صرف وقتی مددکرنا نہیں بلکہ ایمان کی مضبوطی اور معاشرتی بہتری ہے

میں آپ سے کہوں گا: عزیز محترم، ذرا رُک جایئے:

آپ بینکوں کی عمارات دیکھئے، عوام کی ان بینکوں میں آمدورفت اور بھیڑ بھاڑ پر نظر ڈالئے، مارکیٹوں اور بازاروں میں خریداروں کے ہجوم کو دیکھئے، آپ بڑی بڑی آرام دہ گاڑیوں اور کاروں کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں، بلند و بالا کوٹھیوں اور بنگلوں سے کیسے صرف نظر کر سکتے ہیں۔ آپ کے سامنے دنیا کی زندگی کی چمک دمک ہے، دنیا کا پھول خوب کھلا ہوا ہے۔ دنیوی امارت اور  شان و شوکت کے مظاہر کے اثرات آپ کو ہمارے سرمایے پر اور ہمارے نوجوانوں پر نظر آئیں گے۔ آپ ذرا سی دیر کے لئے ہی، یہ سب کچھ دیکھئے اور پھر بتایئے کہ غربت کا مسئلہ سرے سے ہے ہی نہیں، نہ کوئی بحران ہے۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ ہم لوگ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں صرف کرنے میں کنجوس و بخیل واقع ہوئے ہیں۔  ہمارے نفوس میں بخل ہی بخل ہے۔ ہم لوگ اپنے اموال ان کاموں میں خرچ کرتے ہیں جو اﷲ کو پسند نہیں۔ ہم اعلیٰ و برتر اُمور کے طلبگار نہیں، معمولی و حقیر اورگھٹیا قسم کے کاموں میں الجھتے ہیں، معمولی باتوں کی طرف لپکتے ہیں، چھوٹے درجے کے کاموں میں ہمارا دل لگتا ہے۔ 

اگر مسلمانوں میں ’خیر‘ کی محبت رچی بسی ہوتی، مقاصد ِ عالیہ کی طلب و جستجو ان کے دل و دماغ پر چھائی ہوتی اور وہ اس سلسلے میں قرارواقعی جدوجہد کرتے، تو آپ دیکھتے کہ ہر مسلمان اس بات کی استطاعت رکھتا ہے کہ وہ میانہ روی سے کام لے اور اپنی آمدنی میں سے غریبوں، محتاجوں اور ناداروں کی مدد کیلئے کچھ نہ کچھ خرچ کر دے۔ زیادہ ہے تو زیادہ دے، کم ہے تو کم دے مگر دے ضرور۔

یہ بھی پڑھئے: آج کی تراویح میں اُن تین سو تیرہ مسلمانوں کا ذکر ہےجو فتح و ظفر سے ہمکنار ہوئے

اے مال دارو! اے سرمایہ دارو! اے اصحاب ثروت! آپ لوگوں سے اس مال کے بارے میں اﷲ تبارک و تعالیٰ پوچھے گا: تم نے یہ مال کہاں سے کمائے؟ تم نے یہ مال کن کاموں میں صرف کیے؟… خواہ تمہیں یہ سوال پسند ہو یا نا پسند، بہر حال یہ تم سے پوچھا ضرور جائے گا۔  ابھی سے اس سوال کا جواب تیار کر لو!

صاحبو،  یہ ماہ رمضان ہے… سخاوت کا مہینہ، راہ خدا میں اپنے مال و دولت کو خرچ کرنے کا مہینہ! ہمارے سامنے بہت سے منصوبے ہیں۔ یہ ہمیں خرچ کرنے پر آمادہ کر رہے ہیں۔ تو کیا ماہِ رمضان کے روحانی موسم میں، اس پاکیزہ فضا میں، اس کیف انگیز ماحول میں ہم اپنے آپ کو اﷲ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی تربیت و تجربہ کا موقع دیں گے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK