احمد نگر میں عید کو برہمن گلی میں کچرے کے ڈھیر سے گوشت ملا تھا جس پر خوب ہنگامہ ہوا تھا، معلوم ہوا وہ گوشت سواتی بھوسلے نے پھینکا تھا۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 10:49 AM IST | Ahmednagar
احمد نگر میں عید کو برہمن گلی میں کچرے کے ڈھیر سے گوشت ملا تھا جس پر خوب ہنگامہ ہوا تھا، معلوم ہوا وہ گوشت سواتی بھوسلے نے پھینکا تھا۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر احمد نگر کی برہمن گلی میں اس وقت حالات کشیدہ ہو گئے جب کچرے کے ڈھیر میں گوشت پڑا ہوا ملا۔ میونسپل اہلکاروں نے فوری طور پر پولیس میں شکایت درج کروائی۔ احمد نگر جہاں پہلے بھی کئی بار منافرت پھیلانے کی کوشش کی جا چکی ہے وہاں ایک غیر مسلم علاقے میں (وہ بھی برہمن گلی میں) گوشت کے ملنے سےاشتعال انگیزی لازمی تھی لیکن پولیس نے حالات کو قابو میں کیا اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ ۱۳؍ دنوں کی جانچ کے بعد پولیس کو معلوم ہوا کہ جس برقع پوش خاتون نے برہمن گلی میں گوشت پھینکا تھا وہ ایک غیر مسلم تھی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ۲۸؍ مئی کو مہاراشٹر بھر میں عید الاضحی منائی گئی تھی میں جانور کی قربانی دی جاتی ہے۔ اسی دن احمد نگر شہر کی برہمن گلی میں کچرے کے ڈھیر میں گوشت پڑا ہوا ملا۔ صاف صفائی کی نگرانی کرنے والے میونسپل افسر نے اس کی اطلاع کوتوالی پولیس اسٹیشن کو دی۔ اس دوران حالات کشیدہ کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں لیکن پولیس نے حالات کو قابو میں رکھا اور جانچ کی شروعات سی سی ٹی وی فوٹیج سے کی۔ فوٹیج میں معلوم ہوا کہ عید کے دن کسی برقع پوش خاتون نے یہ گوشت وہاں پھینکا تھا۔ اب پولیس نے اس خاتون کی تلاش شروع کی۔ اس کیلئے پولیس کو الگ الگ علاقوں میں لگے ہوئے تقریباً ڈیڑھ سو سی سی ٹی وی اور کھنگالنے پڑے تب جاکر اس خاتون کی شناخت ہو پائی۔ پولیس نے ان خواتین سے بھی پوچھ تاچھ کی جن کے ساتھ یہ خاتون کسی نہ کسی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھائی دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: آسام میں یکساں سول کوڈ کے خلاف احتجاج
بالآخر پولیس ۱۳؍ یا ۱۴؍ دنوں کے بعد پولیس اس خاتون تک پہنچنےمیں کامیاب ہوئی مگر حیرانی اس وقت ہوئی جب پو چھ تاچھ میں خاتون نے بتایا کہ وہ احمد نگر کے نگر تعلقےمیں واقع کامر گائوں کی رہنے والی ہے اور اس کانام سواتی وکر م بھوسلے ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ اس نے برقع پہن کر اس مقام پر گوشت کیوں پھینکا؟ اس پر سواتی نے بتایا کہ وہ بھیک مانگ کر اپنا اور اپنے ۳؍ بچوں کا پیٹ پالتی ہے۔ عید کے دن وہ مسلم علاقوں میں گوشت مانگنے گئی تھی۔ اس لئے اس نے برقع پہن لیا تھا۔ ایک جگہ سے اسے گوشت دیا گیا لیکن اسے وہ گوشت نہیں چاہئے تھا اس لئے اس نے وہ گوشت برہمن گلی میں کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا۔ پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ سواتی کے اس طرح گوشت کو ایک مخصوص گلی میں لے جا کر پھینکنے کا کیا مقصد تھا؟ پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ سواتی بھوسلے واقعی بھیک مانگ کر گزارا کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ہمیں مزاحمتی راہ اختیار کرنی ہوگی کیوں کہ الیکشن آزاد و منصفانہ نہیں ہوں گے‘‘
شیوسینا(ادھو) کے مقامی لیڈر کرن کالے نے اس تعلق سے کہا ہے کہ خاتون کے بیان سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اول تو یہ کہ بھیک مانگنے کیلئے اسے برقع پہننے کی ضرورت کیا تھی؟ پھر کیا عید کے موقع پر بھیک میں کوئی گوشت دیتا ہے؟ اور اگر اسے گوشت نہیں چاہئے تھا تو وہ واپس کر دیتی کچرے میں لے جا کر پھینکنے کی کیا ضرورت تھی؟ انہوں نے کہا کہ یہ سماج میں منافرت پھیلانے اور لوگوں کو آپس میں لڑوانے کی سازش بھی ہو سکتی ہے۔ پولیس کو چاہئے کہ وہ ہر زاویے سے معاملے کی تفتیش کرے اور اگر کوئی سازش نظر آئے تو سازش کرنے والے اصل لوگوں کو سامنے لائے۔