دنیا نے محنت کشوں کے حقوق کو ابھی ابھی تسلیم کیا لیکن رسولؐ اللہ نے ۱۴۰۰؍ سال قبل محنت کشوں کو معاشرہ میں ان کا صحیح مقام دلانے کیلئے جو ہدایات فرمائیں اور قرآن و حدیث میں محنت کشوں کے معاشرتی مقام کا جو نقشہ کھینچا گیا دنیا کا کوئی نظام بھی اس کی مثال پیش نہیں کر سکتا۔ آج یوم مزدور پر پڑھئے اسلامی نقطۂ نظر ۔
اسلام محنت کو عظمت دیتا ہے اور محنت کش کو تکریم عطا کرتا ہے۔ تصویر: آئی این این
اللہ رب العزت نے اپنی حکمت اور تدبیر ِ کاملہ سے کائناتِ انسانی کو مختلف طبقات اور مراتب میں تقسیم فرمایا ہے تاکہ معاشرتی نظام ایک متوازن اور مستحکم بنیاد پر قائم رہ سکے۔ چنانچہ انسانوں میں کوئی صاحبِ علم بنایا گیا، کوئی صاحبِ سرمایہ اور کوئی محنت و مشقت کا پیکر بن کر میدانِ عمل میں اتارا گیا۔ یہی تنوع دراصل اجتماعی زندگی کی بقا اور ترقی کا راز ہے۔ اس حکیمانہ نظام کے تحت کچھ افراد بطور مزدور بھی اپنی محنت سے معاشرے کی بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں؛ اس طرح وہ اینٹیں اٹھاتے ہیں، عمارتیں کھڑی کرتے ہیں اور پسینہ بہا کر دوسروں کی زندگی کے پہیے کو رواں رکھتے ہیں۔ گویا مزدور محض ایک فرد نہیں بلکہ پورے سماجی وجود کا ایک ناگزیر ستون ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جلد بازی فطرت کا حصہ ہے
یہ اسلام ہی کا حسن اور اس کی جامعیت ہے کہ اس نے معاشرے کے ہر طبقے کے حقوق کو نہ صرف واضح کیا بلکہ ان کی حفاظت کی ضمانت بھی فراہم کی۔ مزدور کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ’’مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کر دو‘‘ (ابن ماجہ)ایک ایسا اصول ہے جو انسانی ہمدردی، عدل اور ذمہ داری کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ یہ تعلیم ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مزدور محض ایک وسیلہ نہیں بلکہ ایک باوقار انسان ہے جس کے حقوق کی ادائیگی میں تاخیر بھی ظلم کے زمرے میں آتی ہے۔ درحقیقت اسلامی تصورِ عدل اس بات پر قائم ہے کہ ہر شخص کو اس کی محنت کے مطابق بروقت اور مکمل حق دیا جائے، ورنہ معاشرہ اندرونی طور پر کھوکھلا ہو جاتا ہے۔
دنیا بھر میں یکم مئی کو عالمی یومِ مزدور کے طور پر بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، جلسے جلوس نکالے جاتے ہیں، تقاریر ہوتی ہیں اور حقوقِ مزدور کے نعرے بلند کئے جاتے ہیں۔ لیکن اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ سب محض ایک نمائشی مظاہرہ محسوس ہوتا ہے۔ آج بھی مزدور استحصال کا شکار ہے، اس کی محنت کا پورا صلہ نہیں دیا جاتا اور اس کی زندگی مسائل کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یومِ مزدور کا یہ جشن ایک غیر معقول رسم بن کر رہ گیا ہے جس کا عملی فائدہ مزدور طبقے کو بہت کم پہنچتا ہے۔ گویا نعرے اور حقیقت کے درمیان ایک گہری خلیج حائل ہے جسے پاٹنے کے لئے محض تقریریں کافی نہیں۔ اس دن کو علامتی طور پر منانا اسی وقت بامعنی اور معقول قرار پا سکتا ہے جب ہم اس موقع پر سنجیدگی کے ساتھ یہ عہد کریں کہ ہم مزدوروں کو ان کا جائز مقام دیں گے، ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں گے اور ان کے مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کریں گے۔ اگر یہ دن ہمیں جھنجھوڑ کر ہماری ذمہ داریوں کا احساس دلا دے اور ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لے آئیں تو یقیناً یہ دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک تحریک بن سکتا ہے، ایک ایسا نقطۂ آغاز جہاں سے اصلاحِ معاشرہ کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جب ملکہ زبیدہ نے کہا: حساب، یوم حساب کے لئے چھوڑ دیا ہے!
زیر بحث موضوع کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ جدید دور میں ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے انسانی زندگی کو تو آسان بنایا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک نیا چیلنج بھی پیدا کر دیا ہے۔ بہت سے شعبوں میں مشینوں نے انسانوں کی جگہ لے لی ہے، جس کے نتیجے میں بے شمار مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال میں یہ ہماری مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم مزدوروں اور ان کے بچوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرائیں، انہیں نئی مہارتیں سکھائیں تاکہ وہ بدلتے ہوئے حالات میں خود کو ڈھال سکیں اور اپنی معاشی حالت کو بہتر بنا سکیں۔ بصورتِ دیگر یہ ترقی چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ جائے گی اور معاشرتی عدم توازن مزید بڑھ جائے گا۔عقلی زاویے سے اگر دیکھا جائے تو مزدور کا مسئلہ محض معاشی نہیں بلکہ ایک گہرا اخلاقی اور وجودی مسئلہ بھی ہے؛ کیونکہ کسی بھی معاشرے کی اصل قدر اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین افراد کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ اگر ایک مزدور اپنی بنیادی ضروریات سے محروم ہے تو درحقیقت پورا معاشرہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرمایہ اور محنت کا تعلق محض لین دین کا نہیں بلکہ اعتماد اور انصاف کا رشتہ ہے؛ جب یہ توازن بگڑتا ہے تو معاشرہ طبقاتی کشمکش کا میدان بن جاتا ہے۔مزید غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ محنت (Labor) دراصل انسانی وقار کا ایک مظہر ہے۔ اس اعتبار سے انسان اپنی محنت کے ذریعے اپنے وجود کو معنی دیتا ہے، اپنی شناخت قائم کرتا ہے اور دنیا میں اپنا نقش چھوڑتا ہے۔ اگر اس محنت کی قدر نہ کی جائے تو گویا انسان کی شخصیت کو مجروح کیا جاتا ہے۔ اسلام اسی لئے محنت کو عبادت کا درجہ دیتا ہے، بشرطیکہ وہ حلال اور دیانت داری پر مبنی ہو۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو مزدور کا استحصال دراصل انسانیت کی توہین ہے، نہ کہ صرف ایک معاشی ناانصافی۔
ایک اور اہم عقلی پہلو یہ ہے کہ معاشرتی استحکام صرف قوانین سے نہیں بلکہ اخلاقی شعور سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر دلوں میں احترامِ انسانیت نہ ہو تو بہترین قوانین بھی بے اثر ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے صرف احکام نہیں دیے بلکہ اخلاقی تربیت پر بھی زور دیا، تاکہ انسان خود اپنے ضمیر کی آواز پر انصاف کرے۔ مزدور کے ساتھ حسنِ سلوک اسی اخلاقی شعور کا عملی اظہار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مسجد محض عبادت کا محور نہیں بلکہ شعور و فکر کی بیداری کا مرکز بھی ہے
خلاصہ یہ ہے کہ ہم مزدوروں کے حقوق کو عملی جامہ اسی وقت پہنا سکتے ہیں جب ہم ان کے ساتھ محض ہمدردی کا اظہار ہی نہ کریں بلکہ ان کے دکھ درد کو محسوس کریں اور انہیں بھی اپنے جیسا انسان تسلیم کریں۔ یہی وہ جذبہ ہے جس کی تعلیم اسلام ہمیں دیتا ہے۔
تکریم انسانیت
اگر ہم واقعی مزدوروں کو ان کا حق دینا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اسلام کے پیش کردہ تصورِ احترامِ انسانیت کو سمجھنا ہوگا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔‘‘(الاسراء:۷۰)اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ: ’’تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں۔‘‘ (بخاری) یہ تعلیمات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ اسلام میں انسان کی عزت اس کے پیشے سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت سے وابستہ ہے۔ لہٰذا مزدور کو کمتر سمجھنا یا اس کے ساتھ تحقیر آمیز سلوک کرنا اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔ نتیجتاً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مزدور کے حقوق کی ادائیگی محض سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ بھی ہے، جس کی ادائیگی پر آخرت میں بازپرس ہوگی۔