Inquilab Logo Happiest Places to Work

جب ملکہ زبیدہ نے کہا: حساب، یوم حساب کے لئے چھوڑ دیا ہے!

Updated: May 01, 2026, 4:56 PM IST | Khalid Khurshid | Mumbai

سرزمین حجاز کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے یہاں کئی تاریخی مقامات کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ بچپن میں واقعہ سن رکھا تھا کہ عباسی خلیفہ ہارون رشید کی اہلیہ ملکہ زبیدہ نے دریائے دجلہ سے نہر نکال کر مکہ مکرمہ تک لائیں۔

The walls of the Zubaida Canal in Mecca still exist. Photo: INN
مکہ مکرمہ میں نہر زبیدہ کی دیواریں اب بھی موجود ہیں۔ تصویر: آئی این این

سرزمین حجاز کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے یہاں کئی تاریخی مقامات کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ بچپن میں واقعہ سن رکھا تھا کہ عباسی خلیفہ ہارون رشید کی اہلیہ ملکہ زبیدہ نے دریائے دجلہ سے نہر نکال کر مکہ مکرمہ تک لائیں۔  بات یہ ہے کہ لوگ نہر زبیدہ (عین زبیدہ) اور درب زبیدہ کو گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ حاجیوں کے  لیے پانی کی فراہمی کیلئے مکہ مکرمہ کے قریب وادی نعمان سے نہر نکالی گئی تاہم ملکہ زبیدہ نے بغداد سے مکہ مکرمہ تک حاجیوں کے قافلوں کیلئے جو گزر گاہ بنائی اسے درب زبیدہ کہا جا تا ہے۔

نہر زبیدہ ۱۲۰۰؍ برس تک مشاعر مقدسہ اور مکہ مکرمہ میں پانی کی فراہمی کا بڑا ذریعہ رہی۔ آج کے دور میں ماہر آرکیٹکٹ اور انجینیئرحیران ہیں کہ صدیوں پہلے فراہمی آب کے اس عظیم الشان منصوبے کو کیسے تکمیل تک پہنچایاگیا۔ نہر زبیدہ کا منصوبہ اُس وقت کے ماہرین نے ۱۰؍سال کے عرصے میں مکمل کیا۔ اس کی کُل لمبائی ۳۸؍کلومیٹر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس منصوبے پر ۱۷۰؍ ملین دینار لاگت آئی تھی۔ آج اس کاحساب لگایا جائے تو ایک دنیار ۱۰؍گرام سونے کے برابر ہوگا جو بہت بڑی رقم بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اصل فتح اپنی انا کو شکست دینا ہے

نہر زبیدہ صدیوں تک مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ میں حاجیوں کی پانی کی ضروریات کو پورا کرتی رہی۔ یہ نہر ۱۹۵۰ء تک چلتی رہی۔ بعدازاں پمپوں کے ذریعے پانی کھینچے جانے کے باعث خشک ہوکر بند ہوگئی۔ آج بھی اس کا ایک بڑا حصہ محفوظ حالت میں ہے۔ ۱۹۲۶ء  میں  شاہ عبدالعزیز نے نہر زبیدہ کی بحالی کیلئے مصری ماہرین کی خدمات حاصل کی تھیں۔ 

نہر زبیدہ کی تاریخ 

عباسی خلیفہ ہارون رشید کے انتقال کے بعد ملکہ زبیدہ حج کے لئے مکہ مکرمہ میں حاجیوں کے لئے آئیں تو پانی کی قلت کا نوٹس لیا۔ بغداد واپسی پر انہوں نے ماہر انجینئرز اور آرکیٹکٹ کو بلا کر مکہ مکرمہ میں پانی کا مسئلہ حل کرنے کا حکم دیا۔  ماہرین نے ملکہ کو سروے کے بعد رپورٹ دی کہ نہر کی تعمیر کا کام انتہائی مشکل ہے۔ تاریخ کے حوالوں میں ملکہ زبیدہ کایہ جملہ مشہور ہے کہ ’’ہر قیمت پر نہر کی تعمیر کی جائے خواہ ہرکدال کی ضرب پر ایک دینار ہی کیوں نہ دینا پڑے۔‘‘

نہر تیار ہونے پر اس کے خازن نے پورا حساب کتاب پیش کیا  تو ملکہ زبیدہ نے حساب کتاب پر مشتمل  فائل کو  لے کر نہر میں  ڈال دیا اور کہا کہ ’’حساب یوم حسا ب کے لئے چھوڑ دیا  ہے۔‘‘ یعنی انہیں لاگت نہیں بلکہ مسلمانوں خصوصاً   ضیوف الرحمان کی  منفعت مطلوب ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اب جس کے پاس اس منصوبے سے باقی ماندہ جو بھی رقم ہو  وہ اس کی ہوگی اور اگر کسی کا حساب ہماری طرف نکلتا ہو  تو ہم اسے ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے: مسجد محض عبادت کا محور نہیں بلکہ شعور و فکر کی بیداری کا مرکز بھی ہے

 مکہ کے قریب وادی ٔنعمان سے پانی لایا گیا

اس وقت کے انجینئرز نے سروے کے بعد وادیٔ نعمان سے میدان عرفات اور پھر مکہ مکرمہ پانی کی فراہمی کا فیصلہ کیا۔ اس وادی میں بارش اورپہاڑوں سے پانی آنے کے باعث زمین میں پانی کا لیول زیادہ تھا ۔ عرفات سے ۱۰؍کلومیٹر مشرق میں طائف کی طرف جبل کرا کے دامن میں وادی نعمان واقع ہے۔ یہاں زمین میں پانی کی سطح خاصی بلند ہے۔ اس علاقے میں بارش کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔  مصری ماہرین کی رپورٹ کے مطابق وادی نعمان سے پانی پہلے عرفات لے جایا گیا۔ اس کے لیے ڈھلوان کی شکل میں پختہ انڈر گراؤنڈ واٹر چینل بنایا گیا تاکہ پانی خود بخود بہتا ہوا جا ئے۔ پانی کا لیول یکساں رکھنے کے لئے کہیں یہ چینل نہر زمین سے اوپر ہے اور کہیں زمین سے نیچے ہے۔ چینل کوپتھر اور چونے کی مدد سے پختہ کیا گیا تاکہ زمین سے حاصل ہونے والا پانی دوبارہ جذب نہ ہوجائے یعنی پوری نہر زبیدہ کو خواہ وہ زمین کے اوپر ہو یا اندر پتھروں کو چونے سے جوڑ کر پلاسٹر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جلد بازی فطرت کا حصہ ہے

 میدان عرفات میں جبل رحمہ پر سبیل

نہر زبیدہ کو وادی نعمان سے پہلے میدان عرفات، مزدلفہ اور پھر مکہ مکرمہ تک ایک ڈھلوان کی صورت میں لایا گیا۔ آج عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس وقت کس طرح یہ کام انجام دیا گیا۔ سروے کے بغیر اتنا درست حساب کیسے لگایا گیا۔ نہر اونچے نیچے راستوں سے گھومتی ہے لیکن اس کا لیول برقرار رہتا ہے۔اسی نہر کے ساتھ جبل رحمہ پر ایک سبیل بنائی گئی۔ انجینئرنگ کی یہ خوبصورتی ہے کہ نہر اتنے دُرست لیول پر تھی کہ سبیل میں پانی خود بھرتا تھا اور اس لیول پر تھا کہ لوگ اسے پی سکتے تھے۔

مزدلفہ میں نہر زبیدہ مسجد مشعر الحرام کے قریب کنویں کی شکل میں تھی اور وہاں سے لوگ پانی نکالتے تھے۔ منیٰ کو بھی پانی یہاں سے فراہم کیا جاتا تھا بعد میں نہر پر پمپ لگاکر پانی منیٰ تک پہنچانے کا بندوبست کیاگیا۔ منیٰ میں بھی حوض بنائے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق نہر زبیدہ سے ۶۰۰؍ سے ۸۰۰؍ کیوبک میٹرپانی روزانہ مکہ مکرمہ آتا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK