Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوشل میڈیا پر ’منقول‘ کلچر اور قباحت

Updated: July 24, 2026, 1:41 PM IST | Tazeen Hasan | Mumbai

ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’کوئی فاسق (گناہگار) تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔‘‘ (الحجرات :۶) اب سوال یہ ہے کہ ’منقول پوسٹ‘ میں تو خبر لانے والے کا نام ہی نہیں معلوم ہوتا۔ ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ اس کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہر زمانے کے اپنے وسائل اور اپنے مسائل ہوتے ہیں، لیکن بنیادی قدروں میں ردوبدل نہیں ہوتا۔ ہمارے اس عہد میںسوشل میڈیا ایک نیا وسیلۂ ابلاغ و خبر ہے۔ اس وسیلے سے وابستہ جس کلچر نے جنم لیا ہے اسے ہم ’منقول کلچر‘ کہہ سکتے ہیں۔ یعنی اپنے طور پر کوئی چیز لکھنے یا تشکیل کرنے سے زیادہ، دوسروں کی چیزوں کو نقل کرنے کا کلچر۔ منقول کلچر کا جو رُوپ ہمارے سامنے آیا ہے، اس میں دو خرابیاں حددرجہ ہیں: ایک یہ کہ ہمیں خبر، پوسٹ یا تحریر کے مصنف کا علم نہیں ہوتا کہ جس کی بنیاد پر اس کے جعلی یا غلط ہونے کی صورت میں مواخذہ کیا جاسکے۔ اس کمی کے باعث احتساب یا اصلاح ممکن نہیں ہوتی۔ دوسرے، تحریر کے خالق کو اس کے حق سے محروم کر دینا بھی بڑی زیادتی کی بات ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ؕسورۃ الحجرات کی حیثیت جامع دستور کی ہے اتحادِ اُمت کیلئے

آج کل سوشل میڈیا پر یہ کلچر بہت عام ہو گیا ہے کہ لوگ مصنف کا نام دینے کے بجائے ’منقول‘ لکھ دیتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اخلاقی ذمہ داری پوری ہو گئی۔ اکثر ایسی پوسٹس یا پورے پورے مضامین فیس بک اور وہاٹس اَیپ پر نظر آتے ہیں، جو بہت محنت سے لکھے گئے ہوتے ہیں لیکن اُن پر مصنف کا نام موجود نہیں ہوتا۔ اگر بھیجنے والے سے پوچھا جائے کہ یہ کس نے بھیجا ہے؟ تو وہ کہتا ہے ہمیں کسی نے فارورڈ کیا تھا،  اچھا لگا تو ہم نے آگے بڑھا دیا۔ سوشل میڈیا پر رائج   اس رواج اور چلن کو ’منقول کلچر‘ کے علاوہ کوئی اور نام بھی دیا جاسکتا ہے مگر یہ ہے نقل ہی کا کلچر، وہ بھی آنکھ بند کرکے۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ مصنف کے نام کے بجائے ’منقول‘ لکھ دینے سے وہ ’فکری ملکیت‘ (Intellectual Property) کی چوری کے اخلاقی جرم سے بری ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ چوری چوری ہوتی ہے چاہے وہ مفاد عامہ کیلئے مخلصانہ نیت سے ہی کیوں نہ ہو۔ ’منقول‘ کا یہ استثنا صرف اس صورت میں ممکن العمل ہے، جب تحریر کی اشاعت ناگزیر ہو اور مصنف کا نام معلوم ہونے کا کوئی طریقہ نہ ہو۔ مثلاً تحریر ماضی بعید میں لکھی گئی ہو اور کسی وجہ سے سر ورق نہ مل پایا ہو یا اُس پر مصنف کا نام دھندلا ہو اور جس کا پڑھنا ممکن نہ ہو۔ لیکن یہاں صورت حال یہ ہے کہ پورا پورا مضمون کاپی کر کے بڑے خلوص سے مصنف کے نام کی جگہ ’منقول‘ لکھ کر پوسٹ کو پھیلا دیا جاتا ہے اور چونکہ پھیلانے والے کا ذوق بہت اچھا یا سنسنی خیز ہوتا ہے تو پیغام (Post) عام (Viral) ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں افسوس کہ مصنف اپنے استحقاق سے محروم ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دُنیا سے محبت اور ظلم کے خلاف خاموشی ہماری زبوں حالی کا سبب ہیں!

قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’کوئی فاسق(گناہ گار) تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔‘‘ (الحجرات :۶)اب سوال یہ ہے کہ ’منقول پوسٹ‘ میں تو خبر لانے والے کا نام ہی نہیں معلوم ہوتا۔ ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ اس کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے۔ جہاں تک کاپی رائٹس کا تعلق ہے، تو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر میں یہ ایک حق ہے کہ کسی قسم کے آرٹ (تحریریں، موسیقی، مجسمہ سازی، نقاشی و صورت گری، آرٹ کی تعریف میں شامل ہیں) کی تخلیق کرنے والا اس کی اشاعت سے متعلق فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہے۔

 یعنی اس کے نام سے شائع ہونے کی صورت میں بھی اس کی اجازت لینا ضروری ہے، اِلّا یہ کہ ٹیکسٹ کی تھوڑی بہت مقدار کاپی کی جائے یا مصنف نے خود استعمال کی اجازت دی ہو۔ 

ہم میں سے کتنے لوگوں کو اس بات کا احساس ہے کہ مال کی طرح تخلیق بھی جائیداد میں شمار ہوتی ہے، اور تخلیقی ملکیت کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں ،اور آپ کسی کا ایک جملہ بھی اگر نقل کرتے ہیں تو آپ اخلاقی اور قانونی طور پر اس کا نام، یعنی ریفرنس دینے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

ہمارا عذر یہ ہوتا ہے کہ ’’کیا ہوا اگر ہم نے پبلک کے فائدے کے لیے آگے شیئر کر دیا تو۔ اسی لیے تو لکھا تھا اس نے، اور ہمیں تو خود فارورڈ کیا تھا کسی نے۔‘‘یہ ’عذر گناہ بد تر از گناہ است‘ (گناہ سے زیادہ بُری بات اُس کا جواز پیش کرنا ہے) والی بات ہے۔ چوری چاہے اپنے فائدے کے لئے ہو یا پبلک کے فائدے کے لئے، چوری ہی ہوتی ہے۔ اور آپ چاہے چیز کسی کے گھر سے چرائیں یا سڑک پر پڑی ہو اُٹھا لیں اور اسے بغیر تحقیق کئے فلاح کے واسطے بانٹنا شروع کر دیں تو وہ چوری ہی رہے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: فضیل بن عیاضؒ نے اپنے غلام سے بندگی سیکھ لی!

سوشل میڈیا کے اس دور میں، بڑے پیمانے پر لوگ خبر بنانے اور اسے پھیلانے میں شریک ہیں، اوروہ بھی اکثر بے سوچے سمجھے۔ ایک عام شہری کو ہی نہیں، اسکول کے بچے کو بھی   ذمہ دارصحافت کے اصولوں کی تربیت دینا آج کی اہم ضرورت ہے کہ غیر ذمہ دار صحافت فرد کے ساتھ ریاست اور معاشرے کو بھی کمزور کرتی ہے۔ اسی لئے دین اسلام نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے اس کے اصول متعین کر دیئےتھے کہ معاشرہ فکری بے راہ روی اور معلوماتی انتشار کا شکار نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK