Inquilab Logo Happiest Places to Work

ماحولیات کا تحفظ دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ

Updated: June 05, 2026, 4:31 PM IST | Dr. Mujahid Nadvi | Mumbai

آج عالمی یوم ماحولیات پر ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم زبانی دعوؤں سے پرے جاکر ٹھوس عمل والا طریقۂ کار اختیار کریں اور فرد اس بات کا عہد کرے کہ وہ ماحولیات کو بچانے اور اس کو خوبصورت بنانے کےلئے ہر ممکن تگ ودو کرے گا۔

Wars also play a role in causing severe damage to the environment. Modern explosive weapons destroy land and wreak havoc on the environment. Photo: INN
ماحولیات کو شدید تر نقصان پہنچانے میں جنگوں کا بھی رول ہے۔ دور جدید کا دھماکہ خیز اسلحہ زمینوں کو تلف کرتا ہے اور ماحول میں تباہی مچاتا ہے۔ تصویر: آئی این این

اسلام ایک ایسا مذہب ہےجو انسانی زندگی کا،  اس کے اتار چڑھاؤ کا، اور اس سے وابستہ تمام اشیاء کا احاطہ کرتا ہے۔ انسان کو ہر اس چیز کی جانب راغب کرتا ہے جو اس کیلئے مفید ہے اور اس چیز سے منع کرتا ہے جو اس کے لئے نقصاندہ ہے۔ مثلاً اسلا م میں کھانے پینے کی حلال چیزوں سے  انسانی صحت کے لئے فائدے ہی فائدے ہیں۔ اور شراب، خنزیر کا گوشت وغیرہ جیسی حرام چیزیں انسان کے لئے سراپا نقصان ہیں۔  اسلام کی اس وسعت کی وجہ سے دنیا کا کوئی موضوع ایسا نہیں ہے جو اس درخت کی چھاؤں میں نہ آتا ہو۔ انہی موضوعات میں سے ایک ’ماحولیات کاتحفظ‘ ہے ، جو ساری دنیا میں ہر سال ۵؍ جون کو منایا جاتا ہے۔ 
سوال یہ ہے کہ کیا محض دن منالینے سے ہماری دنیا کے مسائل حل ہوجائیں گے؟ یا پھر اس کے لئے ایک مستقل احساس اور کبھی نہ رکنے والی جد وجہد کی ضرورت ہوتی ہے؟ اسلام مسلمانوں کو قول کے ساتھ ساتھ قوت عمل کی بھی ترغیب دیتا ہے اور زبانی جمع خرچ اور کھوکھلے دعوؤں سے باز رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ’’اے ایمان والو! تم وہ بات کہتے کیوں ہو جس پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘ ہم غور کریں کہ مغربی دنیا نے پورے سال کے کیلنڈر کو دنوں سےبھر کر رکھ دیا ہے لیکن عملی دنیا میں ان سارے دنوں کے منانے کا فائدہ سوائے شوروشغف کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ جبکہ اسلام ہمیں ترغیب دیتا ہے کہ عمل ٹھوس اور قول کے مطابق ہونا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: قربانی : ایک عظیم عبادت جسے ہم نے ریاکاری، نمائش اور فیشن بنا دیا!

آج عالمی یوم ماحولیات پر ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم زبانی دعوؤں سے پرے جاکر ٹھوس عمل والا طریقۂ کار اختیار کریں اور ہر ہر فرد اس بات کا عہد کرے کہ وہ ماحولیات کو بچانے اور اس کو خوبصورت بنانے کےلئے ہر ممکن تگ و دَو کرے گا۔ اس لئےکہ ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنا ہمارا دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے۔ قرآن مجید اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اللہ عزوجل کو زمین میں فساد اور بگاڑ پسند نہیں ہے۔ اسی بگاڑ کے متعلق اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ’’ خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب خرابی پھیل گئی۔‘‘  اگرچہ  اسلام کے قدیم مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں جن چیزوں کو شامل کیا ہے وہ قحط، برکت کی کمی اور گناہوں کے اثرات ہیں۔ لیکن جدید دور کے علماء نے اس آیت کی تفسیر میں زمین ،فضا اور ماحولیات میں ظاہری بگاڑ کو بھی شامل کیا ہے اور اس میں ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی تباہی، آبی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کو بھی بگاڑ میں شامل کیا ہے۔ گویا کہ ہر وہ عمل جس کا تعلق ظلم وستم  اور گناہ سے ہے اور ہر وہ عمل جس کا تعلق اس زمین کی ظاہری  بناوٹ کو بگاڑنے سے ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔ اسے ہر اہل ایمان کا شیوہ ہونا چاہئے۔  
اب ہم غو رکرتے ہیں ان چند احادیث پر جن میں نیکی پر ابھارنے کے لئے ماحولیات سے منسلک مثال دی گئی ہے۔ ایک حدیث ملتی ہے کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا:’’جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کھیتی بوتا ہے، پھر اس میں سے کوئی پرندہ، انسان یا جانور کھاتا ہے، تو وہ اس کیلئے صدقہ شمار ہوتا ہے۔‘‘ اس حدیث میں اگرچہ کہ صدقہ کی  ایک شکل بیان کی گئی ہے لیکن غور کریں کہ اس میں مثال ایک درخت لگانے اور کھیتی بونے کی دی گئی ہے۔ اور یہ وہی صدا ہے جس کو آج ساری دنیا میں ماحولیات کے تحفظ کے لئے بلند کیا جارہا ہے کہ انسان جتنا ہوسکے درخت لگائے تاکہ اس سے فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مردم شماری میں حصہ لیں، غفلت نہ ہو، یہ آپ کی اہم ذمہ داری ہے

اگر ہم ماحولیات کے تحفظ کے متعلق اسلامی تعلیمات میں مزید کھوج کریں تو یہ بات ملتی ہے کہ حضرت ابو بکرؓ نے ایک اسلامی لشکر کو جنگ کے لئے روانہ کرتے وقت چند باتوں کی تلقین فرمائی تھی ، جن میں سے چند یہ بھی تھیں:’’کسی پھلدار درخت کو نہ کاٹنا، کسی آباد بستی یا کھیتی کو تباہ نہ کرنا، اور نہ کھجور کے درخت جلانا، کسانوں اور کھیتوں میں کام کرنے والوں (مزدوروں) پر حملہ نہ کرنا۔‘‘
ماحولیات کے تعلق سے مطالعے کے بعدیہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام دراصل انسانی زندگی کو مکمل کرتا ہے اور انسان کو ایسا پاکیزہ نظام زندگی عطا کرتا ہے  جو ساری انسانیت کے لئے سراسر نجات دہندہ ہے۔ مثال کے طور پر اسلام نے صفائی اور ستھرائی کے تعلق سے جتنی تعلیمات دی ہیں، انہی کو انسان اگر مدنظر رکھ لے تو ماحولیات میں ایک زبردست تواز ن آجائے۔ نماز ہو یا حج، قرآن کی قرأت ہو یا کوئی اور عبادت، ہر جگہ اسلام نے مسلمانوں کو صفائی برتنے کا شدت کے ساتھ حکم دیا ہے۔   اس کے علاوہ بھی اسلام کے بیشمار احکامات ہیں جو آج کے دور کے انسان کو ماحولیات کے تحفظ کے معانی بہت اچھے سے سمجھاسکتےہیں۔ اور اگر ان احکامات کو دیکھا جائے تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی حکم زبانی اعلان اور بلند بانگ دعوؤں پر مشتمل نہیں ہے، بلکہ اسلام کا ہر ہر حکم عمل پر زوردیتا ہے اور انسان کو پریکٹیکل بننے کی دعوت دیتا ہے۔ اس لئے کہ سال میں ایک دن بڑی شد ومد کے ساتھ عالمی یوم ماحولیات منانے سے تبدیلی ہر گزنہیں آئے گی۔ بلکہ اس کے لئے ہر انسان کو خود اپنے اندر، اپنی سوچ میں ، اپنے عمل میں تبدیلی لانی ہوگی،تب جاکر ہی ماحولیات کے تحفظ کے دعوے عمل کی کسوٹی پر صدفیصد کھرے اتریں گے،اور دن بہ دن دم توڑتی اس زمین کے ماحول کی بہتری کیلئے فوری، ٹھوس اور تیر بہ ہدف اقدامات کئے جاسکیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: شہری آبادکاری اور تعمیرات کے سلسلے میں سردار الانبیاءؐ کی بے مثال منصوبہ بندی

قیامت قریب آجائے تب بھی درخت بونے کا حکم
ایک حدیث مبارکہ میں  نبی کریم ﷺنے  ارشاد فرمایا: ’’اگر قیامت قائم ہو جائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا ایک پودا ہو، اور وہ اس بات کی قدرت رکھتا ہو کہ  اسے بودے، تو اسے چاہئے کہ وہ ایسا کر گزرے۔ ‘‘ غور کیجئے کہ اس حدیث میں آپؐ نے قیامت قائم ہوتی ہوئی نظرآنے پر بھی نیک عمل کر گزرنے کا حکم دیا ہے اور اس میں بھی مثال ایک درخت بونے کی دی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK