• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُمت میں یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ وہ آخری حد تک سو‘د سے بچے

Updated: September 23, 2026, 4:26 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

آج کی دنیا میں کسب ِمعاش کے مواقع بہت بڑھ گئے ہیں، ہرشعبۂ زندگی میں افرادی وسائل کی ضرورت ہے اور بہت سے ایسے فنی کام ہیں، جن کو سیکھنے کے لئے تعلیم کی بھی ضرورت نہیں۔ جب معاش کی طرف توجہ ہوگی تو سود جیسی لعنت سے بھی نجات رہے گی۔

Avoid taking loans on interest for ceremonies and similar occasions as much as possible. Photo: INN
تقریبات کیلئے اوراس طرح کی دوسری چیزوں کیلئے سود پر قرض لینے سے ہر ممکن گریز کیجئے۔ تصویر: آئی این این

اسلام نے سود کو نہایت مذموم ، حد درجہ ناپسندیدہ گناہ اور ظالمانہ فعل قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں چار آیتوں میں سود کی مذمت اور ممانعت ہے۔  ارشاد فرمایا گیا کہ سود خوار قیامت کے دن اس طرح اٹھیںگے کہ گویا وہ آسیب زدہ ہیں۔ (البقرۃ : ۲۷۵) یہ بھی فرمایا گیا کہ اگر سود چھوڑنے کو تیار نہ ہو تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کیلئے تیار ہوجاؤ ۔ (البقرۃ : ۲۷۸) یہودی سود خواری میں پیش پیش تھے، ان کی اس بُری حرکت کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ سود کا لین دین مال میں اضافہ کیلئے کرتے ہو؛ لیکن اللہ کے نزدیک اس سے مال میں حقیقی اضافہ نہیں ہوگا اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے جذبہ سے جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اس میں اللہ کی طرف سے برکت ہوگی اورکئی چند اضافہ ہوگا۔ (الروم : ۳۹)
نبی کریم ﷺ نے سود کی اس درجہ مذمت فرمائی ہے کہ کم گناہ ہوں گے ، جن کی اس درجہ مذمت کی گئی ہوگی ۔حضرت عبد اللہ بن حنظلہ ؓ سے مروی ہے کہ آپؐ  نے سود کے ایک درہم کو چھتیس زنا سے بڑھ کر قرار دیا ہے۔ (الترغیب والترہیب:  ۳؍۷) عوف بن مالک ؓ راوی ہیں کہ آپؐ  نے ارشاد فرمایا : ان گناہوں سے خوب بچو ، جو بخشے نہیں جائیں گے، پھر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ سود کھانے والا قیامت کے دن مخبوط الحواس مجنون کی صورت میں اُٹھایا جائے گا ۔( مجمع الزوائد : ۴؍۱۱۰)

یہ بھی پڑھئے:قرآن نے واضح کیا ہے کہ قوموں کا عروج و زوال، فرد کی زندگی سے مختلف ہوتا ہے

ایک موقع پر آپؐ نے سات مہلک چیزوں کا ذکر کیا،  اور ان اُمور کو گناتے ہوئے پانچویں نمبر پر سود کھانے کا ذکر فرمایا۔ (بخاری ، حدیث نمبر : ۲۷۶۶) اسلام کی نگاہ میں سود کی شناعت کا یہ حال ہے کہ آپؐ نے نہ صرف سود لینے کو بلکہ سودی کاروبار میں ہر طرح کے تعاون کو بھی باعث ِلعنت قرار دیا۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا:  اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو سود لینے والے، سود دینے والے، سودی معاملہ میں گواہ بننے والے اور سودی کاروبار کو لکھنے والوں پر۔ (دیکھئے: الترغیب والترہیب: ۳؍۵) اور بعض روایتوں میں ہے کہ وہ سب برابر ہیں۔ (مسلم ، عن جابر ؓ ، حدیث نمبر : ۱۵۹۸) 
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے سرکار دو عالمؐ   کا یہ ارشاد بھی مروی ہے کہ جس قوم میں زنا اور سود عام ہوجائے، اس نے اپنے آپ کو عذابِ الٰہی کا مستحق بنالیا۔  (مستدرک حاکم : ۲؍۳۷، الترغیب والترہیب : ۳؍۸) اور اس دَور میں سود خوری کی جو کثرت ہے، وہ اس پیشین گوئی کی عملی تصدیق ہےکیونکہ حضورؐ نے فرمایا: قیامت کے قریب سود ، زنا اور شراب کی کثرت ہوجائیگی۔ (الترغیب و الترہیب : ۳؍۹)
اسلام کی نظر میں سود کی جو شناعت ہے، اس کے تحت آپؐ  نے حجۃ الوداع کے موقع سے مجمع عام میں اس کی حرمت کا اعلان فرمایا، آپؐ  نے فرمایا: زمانۂ جاہلیت میں جو سود کا رواج تھا، اسے میں اپنے قدموں کے نیچے دفن کرجاتا ہوں اور سب سے پہلے اپنے چچا عباس بن عبد المطلب ؓ کے سود کو کالعدم قرار دیتا ہوں۔ (مسلم ، حدیث نمبر : ۱۲۱۸، عن جابر بن عبد اللہ ؓ ) سود کے سلسلہ میں شریعت ِاسلامی میں جو سخت رویہ اختیار کیا گیا ہے،  اس پس منظر میں سلف صالحین نے ہمیشہ اس میں احتیاطی پہلو کو اختیار کیا ہے۔ حضرت عمر ؓ تلقین فرمایا کرتے تھے کہ سود سے بھی بچو اور سود کے شبہ سے بھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے تھے کہ اگر اسلامی حکومت میں کوئی شخص سودی کاروبار میں ملوث ہو تو امام المسلمین کی ذمہ داری ہے کہ اس سے تائب ہونے کا تقاضہ کرے۔ (شرح الترغیب والترہیب : ۳؍۱۵)
سود کی حقیقت کیا ہے؟ اس کو خود اللہ کے رسولؐ  نے بیان فرمایا ہے چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ  فرماتے ہیں کہ آپؐ  نے ارشاد فرمایا : دینار کا دینار سے اس طرح تبادلہ ہونا چاہئے کہ کسی طرف سے کمی بیشی نہیں ہو ، درہم کا درہم سے تبادلہ اس طرح ہونا چاہئے کہ کمی بیشی نہ ہو۔ (مسلم ، حدیث نمبر :  ۱۵۸۸) کیوںکہ اس تبادلہ میں کمی بیشی ہوئی تو وہ سود ہے۔ دینار سونے کا سکہ تھا اور درہم چاندی کا،  موجودہ دور میں کاغذی نوٹ سونے سے مربوط ہیں؛ اس لئے جو حکم دینار کے دینار اور درہم کے درہم سے تبادلہ کا ہے، موجودہ دور میں روپیہ یا کسی ملک کی کرنسی کا اسی ملک کی کرنسی سے تبادلہ ہو، اس کا بھی یہی حکم ہوگا۔ اگر کسی شخص کو روپے دیئے جائیں اور اس سے زیادہ روپے وصول کئے جائیں یا کسی مالی ادارہ میں روپیہ جمع کیا جائے اور جمع کردہ رقم سے زیادہ رقم وصول کی جائے تو یہ بھی یقیناً سود ہی کی ایک صورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ایسے تھے وہ اساتذۂ کرام اور طلباء!

اللہ تعالیٰ کی شریعت کا خطاب پوری دنیا کے مسلمانوں سے ہے؛ اس لئے جو بھی حلال و حرام کے احکام ہیں، اگر قوی دلیل کے ذریعہ ان میں استثناء ثابت نہ ہو تو وہ حکم پوری دنیا کے مسلمانوں سے متعلق ہوگا، خواہ وہ کسی مسلمان ملک میں رہتا ہو،  یا ایسے ملک میں جس میں زمام اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہو۔ امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمدؒ اور اکثر فقہاء و محدثین کی رائے یہی ہے۔  (المدونۃ الکبری : ۳؍۲۷۹، شرح المہذب : ۱؍۳۹۱، المغنی : ۴؍۴۷)  
یہ تو ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو خود سودی قرض حاصل کرنے والوں سے متعلق ہے، جیسا کہ ذکر کیا گیا،  جیسے سود کا لینا حرام ہے اسی طرح سودی قرض حاصل کرنا اور اس پر سود ادا کرنا بھی حرام ہے۔   سرکاردوعالمؐ نے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ سود لینے اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔ (صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ، باب الصرف وبیع الذہب بالورق نقدا ، حدیث نمبر:   ۱۵۸۴) کیوںکہ اگر سود لینے والے افراد کسی سماج میں نہ ہوں، تو سود خواروں کا کاروبار خود بخود بند ہوجائے گا؛ اس لئے مسلمانوں میں یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ وہ آخری حد تک اپنے آپ کو سود سے بچائیں، شادی کی فضولیات کے لئے ، عید کے کپڑوں کے لئے، دعوتوں اور سماجی تقریبات کیلئے اوراس طرح کی دوسری چیزوں کیلئے سود پر قرض حاصل کرنا قطعاً حرام ہے؛ اس لئے اپنے آپ کو فضول خرچی سے بچائیں۔ اس وقت ہمارے سماج میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی جو کوشش ہورہی ہے ، اس سے ہمیں اپنے آپ کو دُور رکھنا ہے ، پریشانیوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیداکریں اور محبت اور جفاکشی کے ذریعہ اپنی ضروریات کو پورا کریں لیکن سود خواروں کے دروازوں پر نہ پہنچیں ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کی دنیا میں کسب ِمعاش کے مواقع بہت بڑھ گئے ہیں۔ ہرشعبۂ زندگی میں افرادی وسائل کی ضرورت ہے اور بہت سے ایسے فنی کام ہیں، جن کو سیکھنے کیلئے تعلیم کی بھی ضرورت نہیں ، اسی طرح بہت سے ایسے کام ہیں ، جن کو غیر تعلیم یافتہ خواتین بھی معمولی تربیت کے ذریعہ انجام دے سکتی ہیں ۔ اگر لوگوں میں محنت اور جفاکشی کا مزاج پیداہوجائے، ہر طرح کے جائز کام انجام دینے کیلئے لوگ تیار ہوں، آمدنی کی ایک خاص مقدار اور زندگی کیلئے ایک خاص معیار پہلے سے اپنے ذہن میں نہ رکھیں، اپنے پیشہ کے ساتھ پوری وفاداری برتیں اور دیانت، امانت اور وعدہ کی پابندی کے ساتھ خدمت انجام دیں تو کسی کے بے روزگار رہنے کی نوبت نہیں آئیگی ؛ اس لئے ضرورت ہے کہ ہم معاشرہ میں محنت ، جفاکشی ، صبر و قناعت، آمد و خرچ میں تنظیم کا مزاج پیدا کریں اور رفاہی تنظیمیں سلم آبادیوں میں ایسے ووکیشنل کورسز کا انتظام کریں ، جن کے ذریعہ ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ افراد  باعزت روز گار حاصل کرسکیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK