فرد اس بات پر مجبور ہے کہ وہ موت کی طرف جائے۔ اس میں اُس کی اخلاقی زندگی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ کوئی صالح ہوگا تو اس کو بھی موت آئے گی اور اگر کوئی فاسق ہوگا تو اُس کو بھی موت کا سامنا کرنا ہوگا، لیکن قوموں کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ قومیں لازماً موت سے ہم کنار نہیں ہوتیں۔ اُن کی موت اس لئے واقع ہوتی ہے کہ وہ اپنے نفس کے اُوپر ظلم کرتی ہیں۔
قوموں کے عروج و زوال کی داستان انسانی تاریخ کے صفحات پر اس طرح ثبت ہے کہ انسان اس پر غوروفکر کئے بغیر نہیں گزر سکتا۔ جماعتیں اور گروہ گم نامی کے گوشے سے اٹھتے ہیں اور دنیا کے اُوپر چھا جاتے ہیں، تہذیب و تمدن کے عروج پر پہنچتے ہیں اور اس کے بعد بعض سو جاتے ہیں، بعض قعر مذلت میں گر جاتے ہیں اور بعض کی فصل تو اس طرح کٹ جاتی ہے کہ اُن کا نام تاریخ کے صفحات میں ایک داستانِ عبرت بن کر رہ جاتا ہے: ’’آخرکار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تتر بتر کر ڈالا۔‘‘ (السبا :۱۹) تہذیب و تمدن کی ساری سربلندیوں کے باوجود، بعض کا خاتمہ اس طرح ہوتا ہے گویا آگ بجھ گئی ہو یا کھیتی کٹ چکی ہو: ’’یہاں تک کہ ہم نے ان کو کھلیان کر دیا، زندگی کا ایک شرارہ تک ان میں نہ رہا۔‘‘ (الانبیاء :۱۵)
ہماری عادت یہ ہے کہ ہم چیزوں کو سمجھنے کے لئے ایسی مثالیں لاتے ہیں جو ہمارے لئے زیادہ قابل فہم ہوں۔ جب انسان نے قوموں کے عروج و زوال پر غور کیا تو اُس نے خیال کیا کہ قوموں کی زندگی کا عمل بھی شاید اُسی طرح ہے جس طرح ایک فرد کی زندگی ہوتی ہے جس کو وہ جانتا اور پہچانتا ہے۔ انسان پیدا ہوتا ہے، بچپن کی حدود میں داخل ہوتا ہے، جوانی کے دور میں داخل ہوتا ہے، اور پھر اس پر بڑھاپا طاری ہو جاتا ہے اور بالآخر وہ موت کا شکار ہو جاتا ہے۔ انسان نے سوچا شاید قوموں کی زندگی بھی اسی طرح ایک حیاتیاتی عمل ہے اور یہ بھی بالکل انسانی زندگی کی طرح بچپن، جوانی، بڑھاپا اور موت کی منازل سے گزرتی ہے۔ کبھی انسان شام و سحر کی طرف نظر دوڑاتا ہے کیونکہ تاریخ کا زمانے سے بڑا گہرا تعلق ہے، لہٰذا اس نے یہ فتویٰ صادر کر دیا کہ قوموں کی زندگی ایک چکر کی مانند ہے۔ جس طرح صبح کے بعد شام اور پھر صبح ہوتی ہے، اسی طرح قوموں کی زندگی میں بھی یادگار لمحے آتے رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:عمدہ لباس پہننا منع نہیں، اس پرتکبر اور فخر وغرور کرنا منع ہے
کچھ لوگوں نے اندازہ لگایا کہ ان سارے چکروں کے نتیجے میں انسانیت بحیثیت مجموعی ترقی اور ارتقا کی طرف بڑھ رہی ہے، بالخصوص پچھلی تین چار صدیوں میں جب یورپ نے سائنس اور ٹکنالوجی کی طرف عظیم الشان جست لگائی اور فطرت کے راز بے نقاب کئے اور قدرت کی طاقتوں پر کنٹرول حاصل کیا تو یورپ نے دیکھا کہ اب ہم بغیر الہامی ہدایت کے قدرت کے اُوپر قابو حاصل کرتے جا رہے ہیں۔ اب یہ نظریہ پیش کیا گیا کہ انسانیت بحیثیت مجموعی ترقی کی طرف جا رہی ہے بلکہ تاریخ کے اندر ترقی ایک لازمی امر ہے جو کہ روپزیر ہو کر رہے گا۔ اگر قوموں پر ادوار آتے ہیں تو یہ ان کے اپنے معاملات ہیں، انسانیت بحیثیت مجموعی ترقی پزیر ہے۔ اس نظریے کو ابھی چند سال ہی گزرے تھے کہ پہلی جنگ عظیم میں انسانیت کو ۸۰؍ لاکھ لاشوں اور ڈھائی کروڑ معذور و اپاہج انسانوں کا تحفہ ملا۔ یوں ترقی کے یہ سارے خواب چکناچور ہو گئے اور یورپ کو سوچنا پڑا کہ انسان کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے، اُس کی عقل کتنی ہی آگے کیوں نہ بڑھ جائے، قدرت کی طاقتوں اور فطرت کے رازوں پر اُس کو خواہ کتنا ہی کنٹرول حاصل ہو جائے لیکن ضروری نہیں کہ انسانیت ترقی کی طرف جا رہی ہو۔
قوموں اورانسانیت کے عروج و زوال اور ترقی پزیری کے بارے میں پائے جانے والے ان نظریات کے جائزے کی ضرورت اس لئے تھی کہ اس کی روشنی میں قرآن مجید نے اس حوالے سے جو عظیم الشان اور فکرانگیز تعلیمات پیش کی ہیں ان کو سمجھنے کی کوشش کی جائے، سمجھنا آسان ہو جائے اور ان کی قدروقیمت کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے۔
قرآن کا نقطۂ نظر
اگر دعوے کا لفظ کتاب الٰہی کے لئے درست ہو تو میں کہوں گا کہ یہ بڑا زبردست دعویٰ ہے جو قرآن نے کیا ہے کہ قوموں کا عروج و زوال، نہ مادی قوتوں پر منحصر ہے، نہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا اس میں عمل دخل ہے اور نہ علمی ترقیوں پر ہی اس کا انحصار ہے۔ یہ خالصتاً اخلاقی اور معنوی اقدار کے اُوپر منحصر ہے۔ یہ انسان کے اخلاقی کسب اعمال کا نتیجہ ہے جس کے نتیجے میں قومیں عروج یا زوال کی طرف جاتی ہیں۔
قرآن مجید نے بہت وضاحت کے ساتھ، قوموں کے عروج و زوال کا جو بیان کیا ہے، وہ ایک فرد کی زندگی سے بالکل مختلف ہے۔ فرد اس بات پر مجبور ہے کہ وہ موت کی طرف جائے، اور اس میں اُس کی اخلاقی زندگی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اگر کوئی صالح ہوگا اس کو بھی موت آئے گی اور اگر کوئی فاسق ہوگا تو اُس کو بھی موت کا سامنا کرنا ہوگا، لیکن قوموں کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ قومیں لازماً موت سے ہم کنار نہیں ہوتیں۔ اُن کی موت اس لئے واقع ہوتی ہے کہ وہ اپنے نفس کے اُوپر ظلم کرتی ہیں، حالانکہ فرد کی موت کا تعلق اُس کے اپنے نفس پر ظلم کے ساتھ نہیں ہوتا۔ وہ اپنی فطری موت مرتا ہے۔ کسی قوم کا مٹ جانا یا اس کی موت واقع ہونا، یہ ناگزیر عمل نہیں ہے جو اسے لازماً پیش آئے۔ جس طرح کوئی فرد اپنی اخلاقی زندگی میں اچھا بننا چاہے تو اچھا بن سکتا ہے، اور برا بننا چاہے تو برا بن سکتا ہے ، اس طرح قومیں بھی آزاد ہیں کہ وہ اچھائی کی روش پر چلنا چاہیں تو چل سکتی ہیں، ترقی کی راہیں طے کر سکتی ہیں، اخلاقی اور معنوی اقدار حاصل کر سکتی ہیں، اور اگر برائی کی طرف جانا چاہیں، اپنے اُوپر ظلم کریں، دنیا کے اندر ظلم اور فساد کا دروازہ کھولیں تو وہ تباہی کی طرف جاسکتی ہیں، اور یہ عمل ایسا بھی نہیں ہے کہ لوٹایا نہیں جا سکتا۔ آدمی جوان ہونے کے بعد بچہ نہیں بن سکتا، اور بوڑھا ہونے کے بعد جوان نہیں ہو سکتا، لیکن قومیں زوال پزیر ہونے کے بعد ایک بار پھر عروج کی طرف آسکتی ہیں اور سربلند ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: محبت اور عقیدت: مفہوم، فرق اور آداب
اگر یہ بات صحیح نہ ہوتی تو انبیاء کرام گری ہوئی قوموں کے سامنے اپنی دعوت لے کر کھڑے نہ ہوتے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ نسخہ ایسا ہے کہ جس سے کوئی قوم خواہ کتنی ہی نیچے گر چکی ہو، اگر وہ چاہے تو دوبارہ عروج کی طرف گامزن ہو سکتی ہے۔ انہوں نے قوموں سے اس بات کا وعدہ کیا، اور خوش خبری بھی دی کہ اگر تم نے یہ دعوت قبول کر لی تو بالآخر تم عروج کی طرف جائو گے۔ خود نبی کریم ؐ نے عرب کے لوگوں کو یہ مژدہ سنایا کہ اگر تم نے میری دعوت مان لی تو تم عرب اور عجم کے مالک بن جائو گے۔ چنانچہ اس کا انحصار نہ سائنس پر تھا نہ ٹیکنالوجی پر، نہ مادی ترقی پر اور نہ معاشی ترقی کے منصوبوں پر۔ اس کا انحصار انبیاء کرام کی پیش کردہ دعوت پر تھا۔
انگریزی میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ قوموں کے زوال کا عمل Irreversible نہیں ہے، جب چاہے اس کو روکا اور پلٹا جا سکتا ہے۔ کسی قوم کی زندگی میں کبھی کوئی مقام ایسا نہیں ہوتا کہ جہاں مایوسی اور افسردگی ہمیشہ کے لئے ہو۔ جب بھی کوئی قوم چاہے اپنے آپ کو اُوپر اُٹھا سکتی ہے۔
قرآن نے اس بات کو مختلف انداز سے واضح کیا ہے، اور ہر مرتبہ یہی بات کہی ہے کہ اس کا تعلق صرف اعمال اور اخلاق سے ہے:’’نافرمان قوم کے سوا دیگر لوگ ہلاک نہیں کئے جائینگے۔‘‘ (الاحقاف :۳۵) ، ’’یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمہارے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انہیں ہلاک کر دیا۔‘‘ (الکہف : ۵۹) مزید فرمایا: ’’خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے۔‘‘ (الروم : ۴۱) اس فساد کی لوگوں کی بداعمالیوں کے علاوہ کوئی اور وجہ نہ تھی۔ قوم عاد کا تذکرہ یوں کیا: عاد کو دیکھو، جب انہوں نے یہ نعرہ بلند کیا کہ ’’ہم سے طاقتور کون ہے؟‘‘ اُن میں یہ غرور آیا تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔ قوم عاد پر خدا کی پھٹکار پڑنے اور انہیں دور پھینک دینے کا سبب یہ تھا: ’’اور یہ (قومِ) عاد ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اپنے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر جابر (و متکبر) دشمنِ حق کے حکم کی پیروی کی۔‘‘ (ھود :۵۹)
لہٰذا یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ جس قوم کو بھی زوال و تباہی سے سابقہ پیش آیا، وہ صرف اس لئے آیا کہ اس نے بغاوت، نافرمانی، بدامنی اور ظلم کی راہ اختیار کی۔
کلامِ الٰہی میں ایک پوری تہذیب کے زوال کا ذکر
قرآن مجید نے ایک پوری تہذیب کی مثال ان الفاظ میں دی ہے، ترجمہ: ’’اور اللہ نے ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرمائی ہے جو (بڑے) امن اور اطمینان سے (آباد) تھی، اس کا رزق اس کے (مکینوں کے) پاس ہر طرف سے بڑی وسعت و فراغت کے ساتھ آتا تھا پھر اس بستی (والوں) نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کے عذاب کا لباس پہنا دیا ان اعمال کے سبب سے جو وہ کرتے تھے۔‘‘ (سورہ النحل :۱۱۲)۔
ایک ایسی قوم جس پر ہر طرف سے معاشی ترقی کے دروازے کھلے ہوئے تھے، رزق بے پناہ آ رہا تھا لیکن جب اُس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے تھے، ٹیکنالوجی میں گھسٹ رہے تھے یا اُن کے پاس معاشی ترقی کے پنج سالہ منصوبے نہیں تھے بلکہ وہ جو جو اعمال کرتے تھے اس کی بنا پر زوال آشنا ہوئے۔ اسی وجہ سے اللہ نے خوف، حزن، مصیبتوں اور پریشانیوں کو ان پر مسلط کر دیا۔ اگر بظاہر آفات ارضی و سماوی کسی قوم کو تباہ کرتی دکھائی دیں، تو قرآن کہتا ہے کہ اس کی ذمہ داری ان آفات ارضی و سماوی پر نہیں ہے، بلکہ اس انسان کے اُوپر ہے جس نے سرکشی اور نافرمانی کی روش اختیار کی۔ اللہ نے کہا کہ کسی پر ہم نے پتھروں کی بارش برسائی، کسی کو کڑک نے آن پکڑا، کسی کو ہم نے زمین میں دھنسادیا، کسی کو ہم نے پانی میں غرق کر دیا، لیکن یہ مت خیال کرنا کہ ان کی تباہی کڑک، طوفان یا زلزلے کی وجہ سے ہوئی تھی بلکہ اصل وجہ یہ تھی: ’’آخرکار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا۔‘‘(سورہ العنکبوت : ۴۰)۔ اس عنوان پر مزید فرمایا: ’’اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔(العنکبوت :۴۰) یہ قرآن کا اتنا واضح، کھلا اور بیّن سبق ہے کہ ممکن نہیں کہ انسان قرآن کو پڑھے اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جائے کہ قوموں کی ترقی مادی عوامل اور مادی عناصر کے اوپر ہے۔