Inquilab Logo Happiest Places to Work

تواضع محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ انسانی شخصیت کا باطنی توازن بھی ہے

Updated: June 05, 2026, 4:22 PM IST | Mohammed Tauqeer Rahmani | Mumbai

انسان جتنا بڑا ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی اس کے اندر یہ خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنی برتری کے احساس میں دوسروں سے فاصلہ بنانے لگے؛ لیکن اگر وہ تواضع کی صفت سے آراستہ ہے تو اس احساسِ برتری کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیتا۔

A gentle and humble teacher doesn`t just impart information, he also builds character. Photo: INN
ایک نرم مزاج اور متواضع استاد صرف معلومات منتقل نہیں کرتا، وہ شخصیت سازی بھی کرتا ہے۔ تصویر: آئی این این

انسان جتنا بڑا ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی اس کے اندر یہ خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنی برتری کے احساس میں دوسروں سے فاصلہ بنانے لگے؛ لیکن اگر وہ تواضع کی صفت سے آراستہ ہے تو اس احساسِ برتری کو  خود پر حاوی نہیں ہونے دیتا۔ تواضع محض ایک اخلاقی خوبی نہیں، بلکہ وہ انسانی شخصیت کا وہ باطنی توازن ہے جو علم کو قبولیت، صلاحیت کو تاثیر اور تعلقات کو دوام عطا کرتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ معاشرہ ہمیشہ اس شخص کے قریب رہتا ہے جس کے علم میں نرمی، گفتگو میں کشادگی اور رویّے میں انسان دوستی ہو۔ 
اسی لئے ہم زندگی کے ہر میدان میں دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات کم صلاحیت رکھنے والا شخص زیادہ مقبول اور زیادہ مؤثر ہوجاتا ہے، جبکہ غیر معمولی مہارت رکھنے والا انسان اپنی سخت مزاجی یا خود پسندی کے باعث لوگوں کے دلوں سے دور رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان صرف فائدہ نہیں ڈھونڈتا، وہ احترام اور سکون بھی تلاش کرتا ہے۔ ایک مریض جب ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو وہ صرف دوا نہیں چاہتا، بلکہ ایک ایسا رویّہ بھی چاہتا ہے جو اس کی تکلیف کو محسوس کرے۔ یہی سبب ہے کہ کبھی ایک معمولی ڈگری رکھنے والا مگر متواضع ڈاکٹر لوگوں کے لیے زیادہ قابلِ اعتماد بن جاتا ہے، جبکہ اعلیٰ اسناد اور ڈگریاں رکھنے والا مغرور معالج اپنی مہارت کے باوجود دلوں میں جگہ نہیں بنا پاتا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسوۂ براہیمی اور ملت ِ اسلامیۂ عالم

تعلیم کے میدان میں بھی یہی حقیقت اور زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے۔ ایک استاد صرف معلومات منتقل نہیں کرتا، وہ شخصیت سازی بھی کرتا ہے۔ اگر اس کے لہجے میں تحقیر، مزاج میں سختی اور رویّے میں فاصلے ہوں تو اس کا علم ذہن میں اُتر کر رہ  جاتا ہے، دل تک نہیں پہنچتا۔ برخلاف اس کے، ایک نرم مزاج اور متواضع استاد طلبہ کے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے۔ طالبعلم کو اس سے سوال کرتے ہوئے خوف نہیں ہوتا اور اگر غلطی ہوجائے تو  شرمندگی  نہیں اٹھاتا بلکہ سیکھنے کے سفر کو ایک رحمت سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اساتذہ کی علمی عظمت سے زیادہ ان کی اخلاقی عظمت طلبہ کو متاثر کرتی ہے۔ 
حقیقت یہ ہے کہ تواضع انسان کو چھوٹا نہیں کرتی بلکہ اس کی بڑائی کو قابلِ قبول بناتی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ بوجھل وہ شخص ہوتا ہے جو ہر وقت اپنی اہمیت کا احساس دلانا چاہے، جبکہ سب سے زیادہ پُرکشش وہ انسان ہوتا ہے جس کی عظمت اس کی سادگی میں چھپی ہو۔ درخت جتنا پھل دار ہوتا ہے اتنا ہی جھک جاتا ہے کیونکہ فطرت نے بڑائی کی علامت اکڑ کو نہیں بلکہ جھکاؤ کو بنایا ہے۔ جو انسان اپنے مقام کے باوجود دوسروں کو اہمیت دیتا ہے، وہ دراصل اپنے ظرف کی وسعت ظاہر کرتا ہے۔ تکبر انسان کو بلند کر کے تنہا کردیتا ہے، جبکہ تواضع انسان کو جھکا کر دلوں کے قریب لے آتی ہے۔
اسی لئے آسمانی تعلیمات میں تواضع کو محض سماجی آداب کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ اسے انسانی روح کی پاکیزگی سے جوڑا گیا ہے۔ رحمت ہمیشہ نیچے کی طرف بہتی ہے؛ بادل اگر زمین سے اوپر رہ کر بھی جھکیں نہیں تو بارش نہیں بنتے۔ انسان جب اپنے آپ کو دوسروں سے بلند سمجھنے لگتا ہے تو اس کے اندر احساس کی نمی خشک ہونے لگتی ہے، اور جب وہ عاجزی اختیار کرتا ہے تو اس کے اندر دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت بیدار ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی زندگیاں عظمت کے باوجود تواضع کا اعلیٰ نمونہ تھیں۔ ان کی مجلسوں میں خوف نہیں، قربت محسوس ہوتی تھی؛ ان کی گفتگو میں حکم کم اور خیر خواہی زیادہ محسوس ہوتی تھی۔ انہوں نے انسان کو یہ سکھایا کہ اصل بلندی دوسروں کو چھوٹا ثابت کرنے میں نہیں، بلکہ دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے میں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قربانی : ایک عظیم عبادت جسے ہم نے ریاکاری، نمائش اور فیشن بنا دیا!

تواضع دراصل انسان کے اندر موجود رحمت کا ظاہری اظہار ہے۔ جب دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے تو زبان نرم ہوجاتی ہے، رویّے نرم ہوجاتے ہیں، فیصلے نرم ہوجاتے ہیں۔ اور جس معاشرے میں نرم دل لوگ بڑھ جائیں وہاں نفرت کم اور اعتماد زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ آج کا انسان علم، طاقت اور کامیابی تو حاصل کر رہا ہے، اس کے باوجود دلوں میں فاصلے بڑھتے جارہے ہیں؛ کیونکہ ترقی نے سہولتیں دی ہیں، اپنائیت نہیں۔ ایسے وقت میں تواضع صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ انسانی بقا کی ضرورت بن چکی ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کو انسان سے جوڑتی ہے، علم کو نافع بناتی ہے، اور صلاحیت کو رحمت میں بدل دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK