Inquilab Logo Happiest Places to Work

دینی تعلیم پر مشتمل ’گرمائی کلاسیز‘ کا اہتمام کیجئے

Updated: April 24, 2026, 3:51 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

انبیاء و رسل میں ایک اہم ترین ہستی سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے۔ مسلمان ، عیسائی اور یہودی گویا دنیا کی آبادی کا قریب قریب تین چوتھائی حصہ آپ علیہ السلام کی عظمت پر متفق ہے اور آپ کی نبوت پر ایمان رکھتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نہ صرف خود نبی تھے ؛ بلکہ ابوالانبیاء بھی تھے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

انبیاء و رسل میں ایک اہم ترین ہستی سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے۔ مسلمان ، عیسائی اور یہودی گویا دنیا کی آبادی کا قریب قریب تین چوتھائی حصہ آپ علیہ السلام کی عظمت پر متفق ہے اور آپ کی نبوت پر ایمان رکھتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نہ صرف خود نبی تھے ؛ بلکہ ابوالانبیاء بھی تھے۔ آپ کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام بھی نبی تھے، پھر حضرت اسحاق ؑکے صاحبزادے حضرت یعقوب علیہ السلام نبی ہوئے  اور  حضرت یوسف علیہ السلام بھی نبی بنائے گئے جو حضرت یعقوبؑ کے فرزند تھے۔ یہی حضرت یعقوب جن کے آباء واجداد تین پشت سے پیغمبر تھے اور آئندہ بھی بنی اسرائیل کے تمام انبیاء آپ ہی کی نسل میں پیدا ہوئے ، قرآن مجید نے ان کی وفات کا واقعہ ذکر کیا ہے ، جو اس طرح ہے  : 

’’کیا تم (اس وقت) حاضر تھے جب یعقوبؑ کو موت آئی، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا: تم میرے (انتقال کے) بعد کس کی عبادت کرو گے؟ تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق (علیہم السلام) کے معبود کی عبادت کرینگے جو معبودِ یکتا ہے، اور ہم  اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔ وہ ایک امت تھی جو گزر چکی، ان کے لئے وہی کچھ ہوگا جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے وہ ہوگا جو تم کماؤ گے اور تم سے ان کے اعمال کی باز پُرس نہ کی جائے گی۔‘‘  (البقرۃ :۱۳۳۔ ۱۳۴)

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: قران، تمتع اور افراد: حج کی تین اقسام ہیں

یہ آیت بظاہر حیرت میں ڈالتی ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام جیسی شخصیت جن کے یہاں چار پشتوں سے نبوت چلی آرہی تھی ، جن کی اولاد میں بھی نبی تھے اور آئندہ سلسلۂ اولاد میں بنی اسرائیل کے بہت سے انبیاء کو پیدا ہونا تھا، ایسا شخص اپنی موت کے وقت اس بارے میں فکر مند ہے کہ خانوادۂ نبوت کے چشم و چراغ کس کی پرستش کرینگے ؟ جب ان کے بچے اطمینان دلاتے ہیں کہ وہ توحید ، تعلق مع اللہ اور خدا کی اطاعت و فرماں برداری کے رویہ پر قائم رہیں گے ، تب ان کو اطمینان ہوتا ہے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے۔ اس میں اُمت ِمسلمہ کیلئے حیرت و موعظت کا سامان ہے کہ ایک صاحب ایمان کو کبھی بھی اپنے بچوں کی دینی کیفیت کے بارے میں غافل نہ ہونا چاہئے۔ جیسے ایک تاجر چاہتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کیلئے اعلیٰ سے اعلیٰ تجارت چھوڑ کر جائے، کارخانہ دار کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بچے صنعت کے میدان میں ترقی کریں، ملازم کی تمنا ہوتی ہے کہ اس کے بچے اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز ہوں ؛ بلکہ انسان کا بس چلے تو وہ آئندہ کے لئے سات پشتوں کی معیشت کا انتظام کر جائے، ٹھیک اسی طرح بلکہ اس سے بہت بڑھ کر ایک مسلمان کو اپنی اولاد کے بارے میں فکر مند ہونا چاہئے کہ ایمان اور عمل صالح کے اعتبار سے اس کی اولاد صحیح راہ پر گامزن ہو اور خدا کی پرستار اور اس کی فرماں بردار ہو ۔ 

اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ کتنا بھی دین دار خاندان ہو ، خاندان میں علماء اور حفاظ ہوں ، دین کی دعوت و اشاعت کا کام کرنے والے لوگ ہوں ، اسلامی شعور رکھتے ہوں لیکن اپنی اولاد کی طرف سے مطمئن نہ رہیں اور یہ نہ سمجھیں کہ یہ بہر حال دین پر قائم رہیں گے ؛ کیوں کہ انبیاء سے بڑھ کر خدا ترس خانوادہ اور کون ہو سکتا ہے ؟ اس کے باوجود انبیاء اپنے خاندان او راہل و عیال کے بارے میں کبھی بے فکر نہیں رہے ، خود پیغمبر اسلام ﷺ اپنی پھوپھی اور اپنی صاحبزادی کو خطاب کر کے فرماتے کہ آخرت سے پہلے کچھ کر لو ، ورنہ مجھ سے قرابت بھی تمہارے کام نہیں آئے گی۔ اسی لئے قرآن مجید نے حضرت یعقوب علیہ السلام کے اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد متنبہ فرمایا ہے کہ ان کے اعمال ان کے ساتھ گئے اور تم بھی گو انہی کی نسل سے ہو ؛ لیکن تمہارے بارے میں فیصلہ تمہارے اعمال کے مطابق ہوگا ۔ 

یہ بھی پڑھئے: یاد رہے، ضرورت مند کی مدد کرنا بہت اونچا عمل ہے!

جو لوگ خدا اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ، جن کا یقین اس بات پر ہے کہ یہی دنیا آخری دنیا ہے ، وہ اگر اپنے بال بچوں کے لئے صرف مال و متاع اور سیم و زر کی فکر کریں ، تو مقام تعجب نہیں کہ ان کے نزدیک تو اس مادی دنیا کے آگے کوئی منزل ہی نہیں ؛ لیکن اگر مسلمان بھی اسی راہ پر چلیں ، تو یہ ایسا ہی ہوگا کہ جیسے کوئی مسافر راستہ کو اپنی منزل سمجھنے لگے۔ ہندوستان کے موجودہ حالات میں اس وقت ہم لوگوں کا حال کچھ ایسا ہی ہے ، ہمارے بچے بہت ہی نو عمری میں مشنری اسکول یا ان کے طرز پر چلنے والے دوسرے اسکولوں کے حوالے کر دیئے جاتے ہیں ، یا جو عام طور سے دین سے بالکل بے بہرہ اور اپنی تاریخ سے قطعاً ناواقف ہوتے ہیں۔ مزید بد قسمتی یہ ہے کہ یہ مادری زبان سے بھی کٹ جاتے ہیں۔ اسلامی علوم کا بہت بڑا سرمایہ اُردو زبان میں ہے ، اس پورے سرمایہ سے ان کا رشتہ ٹوٹ کر رہ جاتا ہے، گھر میں دین کا ماحول پہلے سے نہیں ، سوشل میڈیا نے صورتِ حال اتنی خراب کر دی ہے کہ الفاظ ان کو بیان کرنے سے قاصر ہیں، ان حالات میں آپ کیوں کر اطمینان کر سکتے ہیں کہ آپ کی نسل آپ کے بعد کچھ اس دینی امانت کوتھامے رہے گی، جس کے آپ حامل ہیں اور گمراہ کن نظریات ان کو اپنا اسیر نہ بنا سکیں گے !

اس لئے موجودہ حالات میں یہ بات ضروری ہوگئی ہے کہ مسلمان بنیادی دینی تعلیم کا اپنا آزادانہ نظام قائم کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے مسجدوں کی صورت میں ہمیں ایسا مرکز دیا ہے جس سے بہتر کوئی اور مرکز نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ہر مسجد میں صباحی اور مسائی تعلیم کا ایک مستحکم نظام قائم کرنے کی کوشش کریں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اصلاحِ معاشرہ کیلئے دینی تعلیمات پر عمل ضروری

گرمائی تعطیلات میں کیا کریں؟
فی الحال گرمائی تعطیل جاری ہے ، جس میں ڈیڑھ ماہ ، یا اس سے زیادہ عرصہ طلبہ کو فرصت ملتی ہے ، ۴۵؍ ۵۰ دن کا عرصہ کم نہیں ہے ، اگر ہم ان اوقات کا صحیح استعمال کریں تو اس تعطیل سے بھی بڑا کام لیا جاسکتا ہے ۔ اس میں مڈل اسکول، ہائی اسکول اور کالج کی سطح کے طلباء کیلئے اسلامیات کا علاحدہ علاحدہ مختصر کورس ترتیب دینا چاہئے، جس میں ناظرہ، قرآن مجید ، کچھ سورتوں کا حفظ، سیرت نبوی، اسلامی تاریخ اور اسلامی  فقہ وغیرہ موضوعات پر اسباق دیئے جائیں، تعارف ِ اسلام کے عنوان سے خطبات کانظم کیا جائے اور ان کو اخلاقی تعلیمات سے مزین کیا جائے۔  ایسی گرمائی درس گاہ کا قیام وقت کا اہم ترین تقاضا  ہے۔ کچھ ادارے اس جانب متوجہ  ہیں لیکن ضرورت اس سے بہت زیادہ کی ہے اور جہاں کہیں گرمائی کلاسیز قائم کئے جا رہے ہیں، گو لوگوں کا رُجوع حوصلہ افزا ہے لیکن اتنا نہیں، جتنا ہونا چاہئے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK