اور اسی آیت کے بارے میں یہود کہتے تھے کہ اگر اُن پر نازل ہوتی تو وہ اس دن کو عید ٹھہرا لیتے!
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 3:51 PM IST | Dr. Ayesha Siddiqa Yusuf | Mumbai
اور اسی آیت کے بارے میں یہود کہتے تھے کہ اگر اُن پر نازل ہوتی تو وہ اس دن کو عید ٹھہرا لیتے!
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی سورئہ مائدہ میں دین کی تکمیل اور اتمام کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:
’’ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔‘‘ (المائدہ:۳)
یہ تحریر، اس جزوِ آیت کے الفاظ و تراکیب اور متعلقہ نکات کو سمجھنے کی کوشش ہے۔
اس آیت کی شرح میں یہ روایت صحیح بخاری کے مختلف ابواب میں، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن نسائی اور مسند احمد میں معمولی اختلاف کے ساتھ بیان ہوئی ہے:
’’حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے، ایک یہودی نے ان سے کہا: اے امیر المومنین! تمہاری کتاب (قرآن) میں ایک ایسی آیت ہے جسے تم پڑھتے رہتے ہو، اگر وہ آیت ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن ٹھہرا لیتے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: وہ کون سی آیت ہے؟ یہودی بولا یہ آیت: ’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور دین اسلام کو تمہارے لئے پسند کر لیا۔‘‘ حضرت عمر ؓ نے کہا: ’’ہم اس دن اور اس مقام کو جانتے ہیں جس میں یہ آیت نبی ٔ پاک ﷺ پر نازل ہوئی۔ یہ آیت جمعہ کے دن اتری جب آپ ؐ عرفات میں کھڑے تھے۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب زیادۃ الایمان و نقصانہ)
یہ بھی پڑھئے: ’’وقت اطاعت میں گزرے تو با برکت ورنہ انسان اور معاشرہ کیلئے باعث ِ نحوست ہے‘‘
شانِ نزول
الیوم سے مراد ہے وہ دور اور زمانہ جب یہ آیات نازل ہوئی تھیں۔ مستند روایات ہیں کہ اس حدیث میں مذکورہ سورۃ المائدۃ کی یہ آیت ۱۰ھ میں حجۃ الوداع کے موقع پرنازل ہوئی۔ یہ جمعہ کا دن تھا اور سرکار دو عالمؐ کا آخری حج تھا جس کے تین ماہ بعد آپ ؐدنیا سے تشریف لے گئے۔
سورۃ المائدہ میں جس جگہ یہ آیت ہے، وہ سلسلۂ کلام صلح حدیبیہ کا ہے جو ۶ھ میں ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں بھی، یہ آیت پوری طرح مربوط ہے۔ مفسرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ۶ھ میں ایک دفعہ نزول کے بعد، عرب کی تسخیراور اسلام کے غلبے کے بعد اس آیت کا ۱۰ھ میں دوبارہ نزول ہوا ہو جیسا کہ دیگر آیات کے زمانۂ نزول کے متعلق بھی ایک سے زائد روایات ہیں۔ (تفہیم القرآن)
تکمیل ِدین کا مفہوم
اس آیت میں اَلْيَوْمَ تا دِيْنَكُمْ کے الفاظ کے ذریعے دین کی تکمیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ تکمیل دین کے مفہوم میں مندرجہ پہلو ہیں:
(۱) اللہ تعالیٰ نے تمام ضروری احکام اور حلال و حرام کو آخری شکل میں واضح فرمادیا ہے۔ اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے بعد حلال و حرام کا کوئی بنیادی حکم نازل نہیں ہوا [فتح الباری (شرح صحیح بخاری)]۔ یہ آیت آپؐ کی وفات سے ۸۱؍ دن پہلے نازل ہوئی اور ۹؍ دن پہلے آخری آیت ’’اُس دن کی رُسوائی و مصیبت سے بچو، جب کہ تم اللہ کی طرف واپس ہوگے‘‘ (البقرہ :۲۸۱) نازل ہوئی، جو تقویٰ کا عمومی حکم ہے۔
علامہ بدرا لدین عینی نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ سورۃ المائدۃ کی اس آیت کو سن کر رو پڑے تھے کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن مکمل ہوچکا ہے، اور ’تکمیل‘ کے بعد اب ’جدائی‘ کا وقت قریب ہے۔ (عمدۃ القاری، شرح صحیح بخاری) اس سے صحابہ کرامؓ کے فہم کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبار صحابہ اس آیت کے نزول سے یہ سمجھ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام مکمل ہونے کے بعد، دنیا سے رخصتی کا وقت قریب ہے۔
(۲) یہ دین جامع نظامِ فکر و عمل پر مبنی ہے۔ یہ روحانی اور عملی، انفرادی اور اجتماعی، اصول اور جزئیات،سب پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے، اور ہر لحاظ سے مکمل تہذیب و تمدن کا حامل ہے۔ ’’دین کو مکمل کردینے سے مراد اُس کو ایک مستقل نظام فکر و عمل اور ایک ایسا مکمل نظام تہذیب و تمدن بنا دینا ہے جس میں زندگی کے جملہ مسائل کا جواب اصولاً یا تفصیلاً موجود ہو اور ہدایت و رہنمائی حاصل کرنے کے لئے کسی حال میں اس سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے‘‘ (تفہیم القرآن)۔ یہ دین جامع ہونے کے ساتھ ساتھ بہت معقول اور انسانی فطرت کے بالکل مطابق ہے۔ یہ اس لحاظ سے بھی مکمل ہے کہ یہ ایک کل ہے جس کے اجزاء ایک دوسرے سے مربوط اور پیوست ہیں۔ ’’اس کے اخبار و قصص میں پوری سچائی، بیان میں پوری تاثیر، اور قوانین و احکام میں پورا توسط و اعتدال موجود ہے۔‘‘ (تفسیر عثمانی)
(۳) ایک مفہوم کے مطابق اس دین پر جامعیت کے ساتھ عمل ہی اکمال (تکمیل)ہے۔ اسی طرح علامہ عینیؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ نے اس حدیث کو باب زیادۃ الایمان ونقصانہ کے تحت اس لئے ذکر کیا تاکہ یہ ثابت کریں کہ ایمان میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج میں نے تمہارے لئے تمھارا دین مکمل کر دیا، تو اس سے مراد شرائع (احکامات اور واجبات) کی تکمیل ہے۔ اگر کوئی شخص ان مکمل شدہ احکامات میں سے کسی کو چھوڑتا ہے، تو اس کے ایمان کے کمال میں کمی آ جاتی ہے۔ (عمدۃ القاری)
(۴) پچھلی شریعتوں کے بعض احکام بعد میں آنے والی شریعتوں سے منسوخ ہوتے رہے، لیکن شریعتِ محمدیؐ کے بعد پچھلی سب شریعتیں منسوخ ہوگئی ہیں۔ ’’دین حق اور نعمت الٰہی کا انتہائی معیار جو اس عالم میں بنی نوع انسان کو عطا ہونے والا تھا، آج وہ مکمل کردیا گیا۔ گویا حضرت آدم ؑ کے زمانہ سے جو دین اور نعمت الٰہیہ کا نزول اور ترویج شروع کی گئی تھی اور ہر زمانہ اور ہر خطہ کے مناسب حال اس نعمت کا ایک حصہ اولادِ آدم کو عطا ہوتا رہا، آج وہ دین اور نعمت مکمل صورت میں خاتم الانبیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی امت کو عطا کردی گئی۔‘‘(معارف القرآن)
(۵) شریعتِ محمدیؐ میں بھی کچھ شروع کے احکام کو، بعد والے احکام منسوخ کرتے تھے۔ لیکن اس آیت کے بعد شریعتِ محمدی ؐ کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہوا، اور یہ قیامت تک کیلئے ناقابلِ تبدیلی ہے۔ اس میں اضافوں و ترمیمات کی نہ اجازت ہے ، نہ ضرورت اور نہ ایسا ہونا ممکن ہے۔
(۶) یہ مکمل ہے کیونکہ اس میں کسی تبدیلی کی اجازت نہیں۔ اصولِ دین میں کوئی زیادتی یا کمی نہیں کی جا سکتی، البتہ انہی کی توضیح میں اجتہادی فروعی مسائل ہوں گے۔ اس دین میں باطل جدید نظریات کی گنجائش بھی نہیں ہے ، اور بدعات کی قبولیت بھی نہیں ۔
(۷) یہ دین اس لحاظ سے بھی مکمل ہے کہ خود اس میں کوئی کم تر چیز نہیں ہے اور اس سے بہتر کوئی چیز موجود نہیں ہے کہ اس سے باہر دیکھنے کی ضرورت ہو۔ علامہ بدر الدین عینی نے اس حدیث کی شرح میں حضرت عمرؓ کے جواب کی حکمت بیان کی ہے اور اس کے لئے امام ابن کثیرؒ نے اس آیت کی جو تفسیر کی ہے ، اس کا حوالہ دیا ہے۔ وہ یہ کہ ’’یہ امت پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان ہے کہ اس نے ان کے لئے ان کا دین مکمل کر دیا، اب انہیں کسی دوسرے دین کی ضرورت نہیں ہے اور نہ اپنے نبی کے سوا کسی دوسرے نبی کی ضرورت ہے۔‘‘ (عمدۃ القاری،شرح صحیح بخاری)
(۸) اس میں تبدیلی کاامکان اس لئے نہیں ہے کیونکہ اس کو اسی طرح رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ دین کی حفاظت اللہ تعالیٰ کررہے ہیں۔ اللہ کی ہدایت پر قرآن حکیم کا حرف حرف محفوظ کردیا گیا۔ اس کی عملی شکل یعنی سیرت اور حدیث کے ذخیرے کی حفاظت کا بھی شاندار انتظام کیا گیا۔ مشیت ِ الٰہی سے، دورِ نبوی ؐمیں انسانی معلومات، وسائل اور تمدن اس مرحلے پر پہنچ چکے تھے کہ ہدایت کے ان سب ذرائع کا بوجھ اٹھاسکتے تھے اور اس کی حفاظت بھی کرسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُمت کو حفاظت کی ذمہ داری دی ہے اور دین کو اس شکل میں بھی محفوظ کردیا ہے کہ نقب زنی مشکل ہے۔ اس کی حفاظت اللہ یوں بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین کا حامل گروہ ہمیشہ اس دنیا میں رکھتے ہیں ، جو اس دین کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ ہر وقت اس کا دفاع کرتا رہتا ہے۔یہ دین اس گروہ میں کمال درجے پر موجود رہتا ہے اور ان کی زندگیوں میں محفوظ رہتا ہے اور وہ گروہ اس امانت کو آگے منتقل کرتا رہتا ہے۔ (بحوالہ فی ظلال القرآن) تحفظ کے ان سب ذرائع کے باعث اور تحریف کی ہزار کوششوں کے باوجود، دین اصل صورت میں اور مکمل طور پر موجودہے۔
یہ بھی پڑھئے: تحفہ :محبت کی خاموش زبان اور دلوں کو جوڑنے کا مؤثر ذریعہ
(۹) اس کے شارع اور شارح نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر، نبوت کے سلسلے کو مہر لگادی گئی کہ اس دین کی کوئی نئی تشریع اور تشریح نہیں ہوسکتی۔ آپ ؐسرکار دو عالمؐ کے خاتم النبیین ہونے کو عقیدے کا حصہ بنادیا گیا۔
(۱۰) اس دین کی تکمیل یہ بھی ہے کہ یہ بہترین دین صرف کتابوں یا نظریاتی بحث کی شکل میں نہیں رہ گیا،بلکہ اس پر عمل بھی ہوا اور اس کا ایک ایک اصول عملی شکل میں بروئے کار آیا۔
(۱۱) اس دین کی تکمیل ایسے بھی ہوئی کہ اس کے شارع کی زندگی میں ہی اس دین کا اظہارہوا، غلبہ و نفاذ ہوا، اور اقامت ہوئی اور ہر گوشے اور شعبے میں اس کا اطلاق کیا گیا۔
(۱۲) اس کی تکمیل کا پہلو یہ بھی ہے کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت سے ہزاروں سے زیادہ خدا پرست، اطاعت گزار، فرماں بردار، جانباز اور سرفروش ہادیوں اور معلموں کی ایسی عظیم الشان جماعت تیار ہوچکی تھی جس کو قرآنی تعلیم کا مجسم نمونہ کہا جاسکتا تھا۔‘‘ (تفسیر عثمانی)
(۱۳) اس دین کے مکمل ہونے کا مظہر یہ بھی ہے کہ یہ شریعت ہر زمانےمیں قابلِ عمل رہی۔ سارے خطوں اور ملکوں کی متنوع قوموں اور گروہوں نے اس پر عمل کیا۔ اس دین کے اصول عالم گیریت کے لحاظ سے بھی مکمل تھے۔ درحقیقت یہ ایسا دین ہے جو یکساں اصولوں اور ضابطوں پر نسلِ انسانی کو جمع کرنے والا ہے۔
(۱۴) اس دین کو پہنچانے والی اور قائم کرنے والی ہستی کو بھی قرب کے اس مرتبہ پر پہنچا دیا گیا، جو تمام اگلے پچھلے باکمال انسانوں کیلئے قابلِ رشک اور لائق تقلید ہے۔ (تفسیر مظہری)
اتمامِ نعمت کا مفہوم
اسی آیت میں وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي کے الفاظ میں اتمامِ نعمت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اتمامِ نعمت کا مطلب ہے نعمت کو تمام یا پورا کرنا۔ جن قرآنی آیات و احادیث میں اتمامِ نعمت کا ذکر آیا ہے، ان پر تفکر سے اس ترکیب ’اتمامِ نعمت‘ کے یہ مفہوم نکلتے ہیں:
نعمتوں کا جزئیات کے ساتھ اتمام: انسانی زندگی کے ہر پہلو، ہر گوشے میں نعمت کا جزئیات کے ساتھ اتمام کے بارے میں فرمایا گیا:
’’اور اللہ ہی نے تمہارے لئے اپنی پیدا کردہ کئی چیزوں کے سائے بنائے اور اس نے تمہارے لئے پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنائیں اور اس نے تمہارے لئے (کچھ) ایسے لباس بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور (کچھ) ایسے لباس جو تمہیں شدید جنگ میں بچاتے ہیں، اس طرح اللہ تم پر اپنی نعمت پوری فرماتا ہے تاکہ تم (اس کے حضور) سرِ نیاز خم کر دو۔‘‘(النحل:۸۱)
یہ اور اس سے پچھلی آیت میں مختلف پناہ گاہوں اور پوشاکوں کا ذکر ہے۔ تغذیہ کےذکر کے بعد ان چیزوں کے اہتمام کو، اتمامِ نعمت کہنے کا مطلب ہے کہ انسانی زندگی کے ہرگوشے میں ہرپہلو سے، جزئیات کے ساتھ نعمتیں دی گئی ہیں۔
نعمت ہدایت کی تکمیل: ساری نعمتوں کی تکمیل کا نعمت ِ ہدایت سے ہونا کے بارے میں فرمایا: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نماز کے لئے اٹھو تو چاہئے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔ اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ ۔ اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو، اور پانی نہ ملے، تو پاک مٹی سے کام لو، بس اُس پر ہاتھ مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو ۔اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے، شاید کہ تم شکر گزار بنو۔‘‘ (سورہ المائدہ:۶) طہارت جسمانی و روحانی پہلو رکھتی ہے۔ نفس اور جسم کی طہارت کی ساری ہدایات، اتمام ِنعمت ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دُنیا کی متاعِ حقیر کیلئے آخرت کا سودا کرلینا فائدہ نہیں ، نقصان عظیم ہے
نعمت ہدایت کا بھی درجۂ تکمیل: سورۃ المائدۃ کی آیت ۳؍ کا یہی مفہوم نکلتا ہے کہ نعمت ہدایت کی تکمیل کردی گئی ہے۔ ہدایت کے ساتھ ’تمام ہونے‘ کا ذکر قرآن میں اس طرح بھی ہے:
’’ آپ کے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔‘‘(سورہ الانعام:۱۱۵)
قوموں کی امامت و پیشوائی: اتمامِ نعمت میں قوموں کی امامت اور پیشوائی بھی شامل ہے:
’’اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو، اپنا رُخ مسجد حرام کی طرف پھیرا کرو، اور جہاں بھی تم ہو، اُسی کی طرف منہ کر کے نما ز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے، ہاں جو ظالم ہیں، اُن کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی تو اُن سے تم نہ ڈرو، بلکہ مجھ سے ڈرو اور اس لئے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں اور اس توقع پر کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اسی طرح فلاح کا راستہ پاؤ گے۔‘‘ (سورہ البقرہ:۱۵۰)
ہدایت یافتہ ہونے کے بعد، نعمت کا اتمام یہ ہے کہ حق کی دعوت اور شہادت و اقامت کے لئے، اس گروہ کو قوموں کا امام و پیشوا بنایا جائے۔ یہاں اتمامِ نعمت کا ذکر ہے اور امتِ مسلمہ کو یہ منصب ملنے کی علامت تحویلِ قبلہ کا حکم دینا ہے۔
دُنیا میں غلبہ و عروج، ہدایت میں اضافہ اور ثبات: قرآن مجید کی سورئہ فتح میں فتح و نصرت کی خوش خبری سناتے ہوئے فرمایا گیا:
’’ تاکہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمائے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے اور تمہیں سیدھا راستہ دکھائے۔‘‘ (سورہ الفتح:۲)
یہاں اکملت اور اتممت کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔ پہلے لفظ کا تعلق مکمل ہونے سے ہے جبکہ دوسرے لفظ کا تعلق تمام ہونے سے ہے۔ علامہ عینیؒ نے اپنی شرح میں اکملت اور اتممت کے درمیان فرق کی وضاحت کی ہے کہ ’اکمال‘ کا تعلق دین کے قواعد و ضوابط کی تکمیل سے ہے،جب کہ ’اتمامِ نعمت‘ سے مراد مسلمانوں کو دشمنوں پر غلبہ دینا اور مکہ کی فتح جیسی نعمتوں کا پورا ہونا ہے۔