• Fri, 30 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شب ِ برأت کو رسم نہ بنائیں بلکہ شب ِ توبہ اور شب ِ دُعا کے طور پر گزاریں

Updated: January 30, 2026, 9:22 PM IST | Hafiz Zheer Ahmad Sanadi | Mumbai

شب ِ برأت کے نام پر اکثر لوگ غیرضروری رسم و راج کی ادائیگی میں مصروف ہوجاتے ہیں اور نوجوان طبقہ تفریح میں مشغول ہوجاتا ہے جبکہ یہ شب ہمیں قیام اللیل کی ترغیب دیتی ہے اور ہمارے لئے دعاؤں کا قیمتی موقع فراہم کرتی ہے۔

The midnight of the month of Shaban, known as the Night of Freedom, is the best time to receive God`s mercy. Spend these moments in remembrance and worship. Photo: INN
ماہِ شعبان کی نصف شب، جو شب برأ ت سے مشہور ہے، رحمت ِ خداوندی سمیٹنے کا بہترین وقت ہے ، ان لمحات کو ذکر و عبادت میں گزاریں۔ تصویر: آئی این این

اللہ رب العزت کی رحمت و بخشش کے دروازے یوں تو ہر وقت ہر کسی کے لئے کھلے رہتے ہیں۔ ’’لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰه‘‘ (اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو) کی فضاؤں میں رحمت الہٰی کا دریا ہمہ وقت موجزن رہتا ہے۔ اس کی رحمت کا سائبان ہر وقت اپنے بندوں پر سایہ فگن رہتا ہے اور مخلوق کو اپنے سایہِ عاطفت میں لئے رکھنا اسی ہستی کی شانِ کریمی ہے۔ اس غفّار، رحمٰن و رحیم پروردگار نے اپنی اس ناتواں مخلوق پر مزید کرم فرمانے اور اپنے گناہ گار بندوں کی لغزشوں اور خطاؤں کی بخشش و مغفرت اور مقربین بارگاہ کو اپنے انعامات سے مزید نوازنے کے لئے بعض نسبتوں کی وجہ سے کچھ ساعتوں کو خصوصی برکت و فضیلت عطا فرمائی جن میں اس کی رحمت و مغفرت اور عطاؤں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے اور جنہیں وہ خاص قبولیت کے شرف سے نوازتا ہے۔ ان خاص لمحوں، خاص ایام اور خاص مہینوں میں جن کو یہ مقام حاصل ہے رب کائنات کی رحمت کی برسات معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ آپ جانتے ہیں ان خصوصی ساعتوں میں ماہ شعبان کو خاص اہمیت و فضیلت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اَنا، نہ فرد کیلئے سودمند ثابت ہوتی ہے اور نہ معاشرے کیلئے

 امام بیہقی شعب الایمان میں روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’شعبان میرا مہینہ ہے پس جس نے شعبان کی تعظیم کی اس نے میرے حکم کی تعظیم کی اور جس نے میرے حکم کی تعظیم کی روزِ قیامت مَیں اس کے لئے مسرت اور نجات کا باعث بنوں گا۔‘‘

 مسند دیلمی میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔‘‘ ماہ شعبان کی ذاتِ محمدیؐ کے ساتھ نسبت ہی اس کی قدر و منزلت کو اجاگر کررہی ہے۔

٭ حضور غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ؒ ماہِ شعبان کے متعلق غنیۃ الطالبین میں فرماتے ہیں: ’’اللہ ربّ العزت نے سال کے مہینوں میں سے چار مہینے رجب، شعبان، رمضان اور محرم برگزیدہ فرمائے۔ ان میں سے شعبان کو چن لیا اور اسے رحمت عالم ؐ  کا مہینہ قرار دیا۔ سو جیسے حضور نبی اکرمؐ تمام انبیاء سے افضل و برتر ہیں اسی طرح آپؐ کا مہینہ شعبان بھی تمام مہینوں سے افضل ہے۔‘‘ الغرض شعبان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں تمام بھلائیوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ آسمان سے برکتیں اتاری جاتی ہیں، گناہ گار بخشش پاتے ہیں اور برائیاں مٹادی جاتی ہیں۔ اسی لئے شعبان کو ’’اَلْمُکَفِّر‘‘ یعنی گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بننے والا مہینہ کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قرآن میں قیامت کا پورا منظر کئی پہلوئوں سے نگاہوں میں اُجاگر کردیا گیا ہے!

ماہِ شعبان میں معمولاتِ نبوی ؐ

 صحیح بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے: ’’حضور ﷺ کثرت سے روزہ رکھا کرتے تھے یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوتا کہ اب کبھی افطار نہ کریں گے۔ اور روزہ نہ رکھتے تو ہمیں خیال آتا کہ اب کبھی روزہ نہ رکھیں گے۔ اور میں نے حضور نبی اکرم ﷺکو ماہ شعبان کے علاوہ کسی اور مہینے کے پورے روزے رکھتے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘

٭ امام نسائی ’’السنن‘‘ میں روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسامہ بن زید ؓنے بیان کیا کہ میں نے آپؐ کی خدمت اقدس میں عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں آپ کو سب مہینوں سے زیادہ شعبان المعظم کے مہینے میں روزے رکھتے دیکھتا ہوں۔ آپ ؐ نے فرمایا: یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس سے لوگ غافل اور سست ہیں۔ رجب اور رمضان المبارک کے درمیان یہ وہ مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچائے جاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس طرح سے پیش ہوں کہ میں اس وقت حالت روزہ سے ہوں۔‘‘ 

٭ امام بیہقی حضرت انس بن مالک ؓسے روایت کرتے ہیں: ’’حضور ؐسے پوچھا گیا: (یا رسولؐ اﷲ!) کون سے روزے افضل ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: رمضان کی تعظیم و قدر کے لئے شعبان میں روزے رکھنا۔‘‘

٭ شعب الایمان میں حضرت عثمانؒ  بن محمد سے روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا: ’’ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک انسان کے فوت ہونے کا وقت لکھ دیا جاتا ہے۔ انسان شادی بیاہ کرتا ہے، اس کے ہاں اولاد پیدا ہوتی ہے حالانکہ اس کا نام مُردوں کی فہرست میں لکھا جاچکا ہوتا ہے۔‘‘

٭ مختلف روایات میں آتا ہے کہ آپ ﷺ  نے فرمایا: ’’ماہ شعبان میں روزہ دار کی نیکیوں میں درختوں کی شاخوں کی طرح اضافہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ (عرب میں سب سے زیادہ بکریاں رکھنے والے) قبیلۂ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی بخشش فرماتا ہے،  سوائے مشرک، بغض رکھنے والے، قاتل، متکبر، زانی، والدین کے نافرمان اور شرابی کے (جب تک وہ سچی توبہ نہ کرلیں) ہر ایک اس ماہ میں نفع پاتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: آپؐ اُس وقت تک گھر تشریف نہیں گئے جب تک مال فقراء اور مساکین میں تقسیم نہ ہوگیا

اسی ماہ میں وہ مبارک رات بھی آتی ہے جو ’’شب برأت‘‘ سے موسوم ہے۔ لفظ شب برأت احادیث مبارکہ کے الفاظ ’’عتقاء من النار‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ آقا علیہ السلام کا عطا کردہ لفظ ہے۔  اس رات رحمت خداوندی کے طفیل لاتعداد انسان دوزخ سے برأت یعنی نجات پاتے ہیں اس لئے اسے ’’شب برأ ت‘‘ کہا جاتا ہے۔ امام طبری نے جامع البیان میں اللہ تعالیٰ کے فرمان:  ’’اس شب میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔‘‘ (الدخان) کی تفسیر میں حضرت عکرمہ ؓسے روایت بیان کی کہ شعبان کی پندرہویں رات میں سارے سال کا حال لکھ دیا جاتا ہے۔

اس مبارک مہینہ میں پائی جانے والی اس بابرکت رات کی فضیلت مشکوٰۃ شریف کی اس روایت سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے: ’’حضورؐ نے فرمایا: اے عائشہ! تمہیں معلوم ہے کہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے؟ میںنے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! کیا ہوتا ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا: اس رات سال میں جتنے بھی لوگ پیدا ہونے والے ہیں  اور جتنے بھی لوگ فوت ہونے والے ہیں ان سب کے بھی نام لکھ دیے جاتے ہیں اور اس رات تمام لوگوں کے (سارے سال کے) اعمال اٹھالئے جاتے ہیں اور اسی رات لوگوں کی روزی بھی مقرر کی جاتی ہے۔‘‘

٭ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا: ’’پندرہویں شعبان کی شب  میں بیداری کیا کرو اور دوسرے دن روزہ رکھا کرو کیوں کہ اس شب اللہ تعالیٰ مغرب کے وقت سے ہی آسمان دنیا پر نزولِ اِجلال فرماتا ہے اور اس کی رحمت مسلسل پکارتی ہے کہ ہے کوئی جو مجھ سے مغفرت طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں، ہے کوئی رزق کا طلبگار کہ میں اسے روزی عطا کروں، ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے عافیت بخشوں اور یہ سلسلہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سرورِ کائنات ؐ سے محبت زبانی نہیں قلبی ہو اَور اس کا اظہار سراسر عملی ہو!

یہ کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ شب ِ برأت کی اس قدر فضیلت و اہمیت اور برکت وسعادت کے باوجود ہم یہ مقدس رات بھی توہمات اور فضول  رسومات کی نذر کر دیتے ہیں ۔ من حیث القوم آج ہم جس ذلت و رسوائی، بے حسی، بدامنی، خوف و دہشت گردی اور بے برکتی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، جس طرح کے اندیشے ہمیں لاحق ہیں،  اس سے چھٹکارے اور نجات کی فقط ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ کہ ہم  اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں مغفرت طلب کریں، اس رات کو شب ِ توبہ اور شبِ دعا کے طور پر منائیں اور اللہ سے خوب مانگیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK