• Fri, 30 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اَنا، نہ فرد کیلئے سودمند ثابت ہوتی ہے اور نہ معاشرے کیلئے

Updated: January 30, 2026, 8:49 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

اس سے نجات کیلئے اخلاق حسنہ کو زندگی کا لازمی جز بنانا ضروری ہے۔

Good morals do not merely make a person respectable, but they keep him alive in hearts, and good morals are the attraction that brings people closer without any coercion. Photo: INN
اخلاق حسنہ انسان کو محض قابلِ احترام نہیں بناتے بلکہ اسے دلوں میں زندہ رکھتے ہیںاور خوش اخلاقی وہ کشش ہے جو بغیر کسی جبر کے لوگوں کو قریب لے آتی ہے۔ تصویر: آئی این این

اَنا ترقی کی راہ میں وہ غیر مرئی دیوار ہے جو بظاہر نظر نہیں آتی، مگر قدم قدم پر انسان کی پیشانی سے ٹکرا کر اسے وہیں روک لیتی ہے۔ جب یہ کیفیت انسان کے باطن میں جڑ پکڑ لیتی ہے تو اس کے مزاج میں ایک بے نام سی سختی در آتی ہے؛ طبیعت میں چڑچڑاپن، گفتگو میں تلخی اور سوچ میں یہ گمان راسخ ہوجاتا ہے کہ ہر موقع پر درست وہی ہے اور باقی سب محض پس منظر کا شور ہیں۔ ایسا شخص آہستہ آہستہ اپنی ہی رائے کا قیدی بن جاتا ہے، جہاں ہر اختلاف اسے توہین محسوس ہوتا ہے اور ہر مشورہ اس کے وقار پر حملہ لگتاہے۔ یوں اس کا ذہن وسعت کے بجائے تنگی اختیار کر لیتا ہے، اور تنگ ذہن میں ترقی کے امکانات اسی طرح سمٹ جاتے ہیں جیسے بند کمرہ میں  دم گھٹنے لگتا ہے۔

یہ کیفیت صرف اس کے باطن تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کی پوری زندگی پر سایہ ڈال دیتی ہے۔ وہ خود بھی چین سے محروم رہتا ہے اور اس کے اردگرد بسنے والوں کے لئے بھی سکون ایک نایاب شے بن جاتا ہے۔ اس کی موجودگی مکالمے کے بجائے تصادم کو جنم دیتی ہے اور رفاقت کے بجائے بوجھ کا احساس پیدا کرتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس کے قریب آنے کے بجائے فاصلہ اختیار کر لیتے ہیں، اس کی بات سننے کے بجائے راستہ بدل لینا زیادہ آسان سمجھتے ہیں، کیونکہ ذہنی اذیت کوئی شعوری انتخاب نہیں ہوتی۔ یوں وہ شخص جو خود کو ہر جگہ موزوں سمجھتا ہے، درحقیقت زندگی کے کسی گوشےمیں بھی کھپ نہیں پاتا۔

یہ بھی پڑھئے: سرورِ کائنات ؐ سے محبت زبانی نہیں قلبی ہو اَور اس کا اظہار سراسر عملی ہو!

آخرکار ایسی اَنا نہ فرد کے لئے سودمند ثابت ہوتی ہے اور نہ معاشرے کے لئے؛ یہ نہ تعمیر کرتی ہے، نہ آگے بڑھاتی ہے، بلکہ آہستہ آہستہ انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں وہ خود اپنی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ ترقی جس کا تقاضا کشادگی، سیکھنے کی آمادگی اور خود احتسابی ہے، انا کی اس فضا میں سانس ہی نہیں لے پاتی۔ اور یوں انسان کے اندر سلگنے والی یہ آگ روشنی دینے کے بجائے سب کچھ جلا کر راکھ کر دیتی ہے، حتیٰ کہ خود انسان کو بھی۔

بلاشبہ، اَنا علم کے دروازہ پر کھڑی وہ پہرے دار ہے جو طالب ِ حق کو دہلیز ہی پر روک لیتی ہے۔ یہ رکاوٹ صرف سیکھنے کے عمل تک محدود نہیں رہتی، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی پیش رفت کو آہستہ آہستہ مفلوج کر دیتی ہے۔ جہاں سیکھنے کے لئے جھکنا ضروری ہو، وہاں انا انسان کو سیدھا کھڑا رہنے پر مجبور کر دیتی ہے؛ اور جہاں آگے بڑھنے کے لئے سننا لازم ہو، وہاں یہ خود کلامی کو ترجیح دیتی ہے۔ یوں علم ہو یا عمل، تعلق ہو یا قیادت، ہر میدان میں سب سے بڑی دیوار یہی اندرونی سختی بن جاتی ہے جو انسان کو اپنی ہی ذات کے حصار میں قید کر دیتی ہے۔ایسا شخص نہ نرم خو ہوسکتا ہے اور نہ خوش گفتار، حالانکہ یہی دو اوصاف انسان کو دلوں تک رسائی دیتے ہیں اور معاشرے میں قبولیت کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ گفتگو کی مٹھاس اور مزاج کی نرمی وہ خاموش قوتیں ہیں جو بغیر کسی شور کے لوگوں کو قریب لے آتی ہیں، مگر اَنا ان قوتوں کو کمزوری سمجھ کر رد کر دیتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نرمی اور خوش اخلاقی کسی انسان کی شکست نہیں بلکہ اس کی اخلاقی برتری کی علامت ہوتی ہیں؛ یہ وہ عطا ہیں جو انسان کو انسان سے جوڑتی ہیں اور دلوں میں اس کے لئے جگہ بناتی ہیں۔ اسی لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انا پرستی دراصل خوش اخلاقی کی ضد ہے، جہاں ایک کا راج ہو، وہاں دوسری سانس نہیں لے پاتی۔

یہ بھی پڑھئے: حقوق اللہ کا سب سے عظیم رکن ’’نماز‘‘ اور حقوق الناس کا سرنامہ ’’زکوٰۃ‘‘ ہے

اب سوال یہ نہیں کہ انا نقصان دہ ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس گرفت سے نجات کیسے حاصل کی جائے؟ اس کا ایک مؤثر راستہ یہ ہے کہ انسان اپنے خلاف آنے والی باتوں کو دشمنی کے بجائے خود احتسابی کی نگاہ سے دیکھے۔ جو بات اصلاح کی نیت سے کہی جائے، اسے انا کی توہین نہیں بلکہ اپنی بہتری کا موقع سمجھا جائے؛ اور اگر کوئی بات محض طنز یا بے مقصد تنقید ہو تو صبر کو اپنا ہتھیار بنایا جائے۔ نفس پر چوٹ لگنا ایک فطری امر ہے، مگر اس چوٹ پر ردِعمل دکھانا اختیار ہے۔ جب انسان ضبط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا اور واقعی اپنے اندر تبدیلی کا پختہ ارادہ کر لیتا ہے، تو حالات خود اس کے حق میں ہموار ہونے لگتے ہیں۔  یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ باطنی اصلاح کے سفر میں تنہا قدم اٹھانے والا بھی تنہا نہیں رہتا۔

رسولِ اکرم ﷺ کی ذات ِ مبارکہ اس حقیقت کی روشن ترین دلیل ہے کہ اخلاق محض ذاتی خوبی نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر قوت ہوتے ہیں جو دلوں کو مسخر کر لیتی ہے اور تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہے۔ آپؐ  کی خوش اخلاقی کوئی عارضی وصف نہ تھی بلکہ آپؐ کی پوری شخصیت کا مرکزی جوہر تھی، جس نے انسانیت کو پہلی ہی نظر میں اپنی طرف کھینچ لیا۔ یہی نرم خوئی، یہی شفقت اور یہی انسان دوست رویہ تھا جس نے آپؐ کے پیغام کو دلوں تک پہنچایا اور آپ ؐکی شخصیت ِ مبارکہ کو ہر طبقے کے لئے قابلِ قبول بنا دیا۔ یہ اعتراف محض انسانی تاریخ کا نہیں بلکہ خود کلامِ ِالٰہی کا ہے، جہاں واضح کر دیا گیا کہ اگر سخت مزاجی اور درشتی آپ کی طبیعت کا حصہ ہوتی تو لوگ گرد و پیش سے بکھر جاتے، مگر نرمی نے انہیں جوڑے رکھا اور اعتماد نے ان کے دلوں میں جگہ بنا لی۔ ( سورہ آل عمران:۱۵۹)

یہ بھی پڑھئے: شُح اور صُلح: دو متضاد رویے

یہاں اخلاق کی اصل معنویت آشکار ہوتی ہے: اخلاق حسنہ انسان کو محض قابلِ احترام نہیں بناتے بلکہ اسے دلوں میں زندہ رکھتے ہیں۔ خوش اخلاقی وہ کشش ہے جو بغیر کسی جبر کے لوگوں کو قریب لے آتی ہے، اور یہی وہ وصف ہے جو پیغام کو وزن، بات کو تاثیر اور شخصیت کو دوام عطا کرتا ہے۔ اس کے برعکس انا پرستی اور بد اخلاقی وہ خاموش زہر ہیں جو انسان کو آہستہ آہستہ تنہا کر دیتے ہیں۔ جہاں اخلاق حسنہ تعلق پیدا کرتے ہیں، وہاں انا فاصلوں کو جنم دیتی ہے؛ جہاں خوش خلقی معاشرے میں رچ بس جانے کا ہنر سکھاتی ہے، وہاں بد اخلاقی انسان کو اپنے ہی خول میں قید کر دیتی ہے، اسے تنہا کردیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امت اگر نبیؐ کے طریقوں پر عمل نہ کرے تو اس سے بڑھ کر محرومی اور بدبختی کیا ہوگی؟

یوں کہا جا سکتا ہے کہ اخلاق حسنہ انسان کو سماج کی دھڑکن سے جوڑتے ہیں، اسے دوسروں کے دکھ سکھ کا شریک بناتے ہیں اور اس کی ذات کو نفع بخش بنا دیتے ہیں، جبکہ انا پرستی اور بد اخلاقی علاحدگی، بے گانگی اور تنہائی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دل جیتنے والے ہمیشہ نرم لہجوں اور کشادہ دلوں کے مالک رہے ہیں، اور دل توڑنے والے اپنی ہی سختی کے ملبے تلے دب کر رہ گئے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسان کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں جگہ چاہتا ہے یا محض اپنی انا کی حفاظت، وہ سب کے ساتھ رہنا چاہتا ہے یا اپنا خول میں سمٹنا اُسے گوارا ہوگاکیونکہ یہ دونوں راستے ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK