• Fri, 30 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سرورِ کائنات ؐ سے محبت زبانی نہیں قلبی ہو اَور اس کا اظہار سراسر عملی ہو!

Updated: January 30, 2026, 7:17 PM IST | Dr. Hafiz Muhammad Saadullah | Mumbai

حب ِ رسولؐ کے قدرتی اور فطری نتیجے میں ایک محبِّ رسولؐ کیلئے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنا اور اللہ او ر اس کے رسولؐ کے احکام پر چلنا آسان ہی نہیں ہوتا بلکہ اگر اِس راہ میں اُس کی جان پر بن آئے تو بھی وہ ایک لذت محسوس کرتا ہے۔

The benevolent nature of the Prophet Muhammad (peace be upon him) should be loved more than the entire universe, and even more than oneself. This is a requirement of faith. Photo: INN
نبی اکرم ﷺ کی محسن ذات سے ساری کائنات بلکہ اپنی ذات سے بھی زیادہ محبت کی جائے، یہ ایمان کا تقاضا ہے۔ تصویر: آئی این این

رب العالمین کے آخری نبی معظم و رسول محتشم سیدالمرسلین خاتم النبیین رحمۃ للعالمین حضرت سیدنا محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ کی دائمی و عالمی نبوت و رسالت پر جس طرح ایمان لانا فرض ہے اور جس کے بغیر کوئی آدمی نہ تو شرعاً مومن کہلاسکتا ہے اور نہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوسکتا ہے، نیز جس طرح آپؐ  کی مطلق و غیر مشروط اطاعت و اتباع شرعاً لازم اور ہر لحاظ سے تعظیم و توقیر واجب ہے جو ایک مومن پر نبیؐ کا لازمی حق ہے، ٹھیک اسی طرح قرآن و حدیث کی رو سے رسولِ مقبولؐ  کی ذات والا شان کے ساتھ والہانہ اور ہر چیز سے زیادہ محبت رکھنا بھی واجب ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ گرامی کے ساتھ جب تک اس درجہ کی محبت اور اس قسم کا قلبی تعلق اور عزت و ناموسِ رسالتؐ  پر مرمٹنے کا حقیقی جذبہ و داعیہ پیدا نہ ہو تو آدمی نہ ایمان کی حلاوت پاسکتا ہے، نہ کامل ایمان کے درجہ پر فائز ہوسکتا ہے اور نہ ازروئے قرآن اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں محبتِ نبی  ﷺ  ایمان کی روح ہے اور اس کے بغیر جملہ اعمال اور مقامات و احوال بے جان ڈھانچہ ہیں۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے بالکل سچ کہا ہےکہ:
مغزِ قرآں، روحِ ایماں، جانِ دیں
ہست حبِ رحمۃ للعالمین
علاوہ ازیں تاریخ شاہد ہے کہ محبت ِ رسولؐ  کے قدرتی اور فطری نتیجے میں ایک محبِّ رسولؐ  کے لئے ایمان کے سارے تقاضوں کو پورا کرنا اور اللہ تعالیٰ او ر اس کے رسولؐ  کے احکام پر چلنا نہ صرف یہ کہ آسان ہوجاتا ہے بلکہ اس راہ میں اس کی جان پر بن آئے تب بھی وہ ایک لذت محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایمان کی معنوی حلاوت اور باطنی مٹھاس پانے کیلئے جن خصائل و صفات کو ایک مومن کے لئے ضروری قرار دیا ہے ان میں سرِ فہرست یہ بات رکھی ہے کہ :
’’اللہ اور اس کے رسولؐ  اس کے نزدیک باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں ۔‘‘(صحیح بخاری)
حلاوۃِ ایمان کا معنی امام نوویؒ نے یہ لکھا ہے کہ آدمی کو طاعت (نیکیاں، عبادات) بجا لانے اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی خوشنودی کی خاطر تکالیف اٹھانے میں لذت محسوس ہو اور اس چیز کو دنیا کے مال و متاع پر ترجیح دے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لئے بندے کی محبت یہ ہے کہ اس کی اطاعت کرے اور اس کی مخالفت چھوڑ دے۔ اسی طرح رسولؐ اللہ کے ساتھ محبت کا بھی یہی معنی ہے کہ آپؐ  کی اطاعت کرے اور آپؐ  کی مخالفت ترک کردے۔ (نووی، شرح صحیح مسلم، کتاب الایمان)
اس کے برعکس جس آدمی کے دل میں محبت ِ رسولؐ  کا کوئی جذبہ نہ ہوگا، اس کے لئے روزمرہ کے اسلامی فرائض کی ادائیگی اور عام ایمانی مطالبات کی تعمیل بھی سخت گراں اور بڑی کٹھن ہوجاتی ہے اور جتنا کچھ وہ کرتا بھی ہے تو اس کی حیثیت زیادہ سے زیادہ بس قانونی پابندی یا مجبوری کی سی ہوتی ہے جبکہ قرآن نبی اکرمؐ  کے لئے اس اعزاز اور توقیر و اکرام کا طالب ہے جو قلب کی گہرائیوں کی پیداوار ہو۔ وہ آپؐ  سے جذباتی لگاؤ اور محبت پیدا کرنا چاہتا ہے۔ وہ آپؐ  کی صرف اس اطاعت پر راضی نہیں جو جذبات، محبت اور تعظیم سے خالی ہو جیسے کہ رعایا کا بادشاہ کے ساتھ اور دوسرے فوجی و سول لیڈروں کے ساتھ ایک رسمی یا مجبوری کا تعلق ہوتا ہے۔ قرآن صرف نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر فرائض کی ادائیگی ہی کافی نہیں سمجھتا بلکہ اس کا مطالبہ ہے: ’’تاکہ (اے لوگو!) تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور آپؐ(کے دین) کی مدد کرو اور آپؐ کی تعظیم بجا لاؤ۔‘‘ (سورہ الفتح:۹) اس لئے اس نے ہر اس چیز کا حکم دیا جس میں آپؐ  کی عزت و حرمت کی حفاظت ہوتی ہو اور ہر اس چیز سے منع کردیا جس سے حضورؐکی ادنیٰ بے ادبی ہوتی ہو یا بے ادبی کا شائبہ تک بھی ہو۔

یہ بھی پڑھئے: ڈیجیٹل عہد : نظر کے ہجوم میں ’بصیرت‘کی تلاش

حبِ رسولؐ کی عقلی ضرورت
محبت ِ رسولؐ کی اس دینی، ایمانی، روحانی اور شرعی ضرورت و اہمیت اور حد درجہ افادیت و منفعت کے علاوہ اگر دنیا کے کسی بھی انسان کی آنکھوں پر فکری، مذہبی اورنسلی تعصب کی پٹی نہ بندھی ہو اور پیغمبر اسلامؐ  کی ذات ستودہ صفات سے بغض، عناد اور مخالفت برائے مخالفت نے اس کے دل کے دریچے بند نہ کردیے ہوں تو وہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ عدل و انصاف اور عقلِ سلیم کا لازمی تقاضا ہے کہ آپؐ کی رحمت ِ عالم ذات کے ساتھ ساری دنیا سےبڑھ کر اور ٹوٹ ٹوٹ کر محبت کی جائے۔ 
اس کی وجہ یہ ہے کہ محبت و پیار کی دنیا میں حسی، ظاہری اور باطنی اعتبار سے محبت کے جتنے قدرتی و فطری عوامل، محرکات اور اسباب ہوسکتے ہیں، مثلاً: ظاہری حسن و جمال، باطنی، اخلاقی اور علمی و فنی کمال اور نوازشات و احسان وغیرہ تو یہ سب اسباب و محرکات نبی کریمؐ  کی جامع الصفات اور ہر جہت و زاویے سے بے عیب و محمود ذات میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: حقوق اللہ کا سب سے عظیم رکن ’’نماز‘‘ اور حقوق الناس کا سرنامہ ’’زکوٰۃ‘‘ ہے

مومنین کا آپؐ کی ذاتِ مبارکہ کے ساتھ تعلق کا تقاضا
حضورؐکی سراپا رافت و شفقت ذات کا اہلِ ایمان کے ساتھ جو منفرد، بے مثال، مخلصانہ، خیر خواہانہ، ہمدردانہ، بے غرض، بے لوث اور قریبی تعلق ہے، اس کا بھی فطری تقاضا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی محسن ذات سے ساری کائنات بلکہ اپنی ذات سے بھی زیادہ محبت کی جائے۔ مومنین کے ساتھ اس تعلق کی وضاحت قرآن مجید نے یوں فرمائی ہے:
’’ یہ نبیِ (مکرّم ﷺ ) مومنوں کے ساتھ اُن کی جانوں سے زیادہ قریب اور حقدار ہیں۔‘‘ (الاحزاب:۶)
اس گہرے اور مخلصانہ تعلق کی مزید وضاحت خود نبی کریم ﷺ نے یوں فرمائی ہے:
’’میری اور میری امت کی حالت اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی ہو پھر مختلف پتنگے اس میں گرنے کے لئے دوڑے چلے آرہے ہوں۔ ٹھیک اسی طرح میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر بچانے کی کوشش کررہا ہوں اور تم ہو کہ اس (ہلاکت اور کفر کی آگ) میں گرے جارہے ہو۔‘‘ (کنزالعمال)
حقیقت یہ ہے کہ جو تعلقِ خاطر، پیارو محبت، شفقت، خیر خواہی، ہمدردی اورغم خواری حضور نبی اکرمؐ کو تمام انسانیت اور اپنی امت سے رہی ہے اور جو اس وقت بھی جاری و ساری ہے، اس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔

یہ بھی پڑھئے: امت اگر نبیؐ کے طریقوں پر عمل نہ کرے تو اس سے بڑھ کر محرومی اور بدبختی کیا ہوگی؟

حبِ ّ رسول ﷺ کی شرعی حیثیت
حبِ رسول ﷺ کی درج بالا دینی، دنیوی،عقلی ضرورت اور مومنین کے ساتھ نبی کریمؐ  کے مذکورہ دائمی انمٹ اور دنیا و آخرت میں بے مثال اور مخلصانہ تعلق کی بنا پر ہی آپؐ  کے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرما جانے کے بعد بعض مسلمانوں سے چند موہوم اندیشوں کی وجہ سے جب ہجرت کر جانے کے حکم کی تعمیل میں کچھ کمزوری ، کوتاہی، تاخیر اور سستی کا ارتکاب ہوا تو اللہ نے تنبیہ فرمائی:
’’(اے حبیب ﷺ !) آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے (اولادیں) اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے بگڑ جانے سے تم ڈر رہے ہو اور وہ گھر جنہیں تم پسند کرتے ہو (یہ سب) تم کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے اور اس کی راہ میں جہادکرنے سے زیادہ عزیز ہیں تو منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیج دے اور اللہ نافرمان لوگوں (فاسقوں) کوہدایت نہیں دیتا۔‘‘ (سورہ التوبہ:۲۴)
اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے مفسر قرطبیؒ نے لکھا ہے: ’’آیت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت کے واجب ہونے کی دلیل ہے اور اس مسئلے میں امت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔‘‘
(قرطبی، جامع الاحکام القرآن)
حب  رسول ﷺ کے شرعی اعتبار سے اس وجوب اور ہر چیز پر مقدم ہونے کی صراحت خادم رسول ﷺ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں خود نبی کریم ﷺ نے قسم کے ذریعے موکد کرنے کے بعد یوں ارشاد فرمایا:
’’تم میں سے کوئی بھی آدمی اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک کہ میری ذات اس کے نزدیک اپنے والد، اپنی اولاد اور تمام دوسرے لوگوں سے زیادہ محبوب نہیں بن جاتی۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الایمان،  باب حب الرسول من الایمان)۔یہ حدیث بتلاتی ہے کہ اگر باپ کے لئے کبھی ایسا موقع آئے کہ محض رسولؐ اللہ پر ایمان اور آپؐ  کے ساتھ ایمانی تعلق کی پاداش میں اسے اپنی اولاد چھوڑنی پڑجائے یا اولاد کے لئے ایسا موقع ہو کہ انہیں اپنے والدین ترک کرنا پڑیں تو ایمان کا تقاضا ہے کہ یہ قربانی و ایثار کر گزرے، اس میں تامل نہ کرے۔
ایک دوسری روایت میں اپنی جان حضور ؐسے زیادہ محبوب رکھنے کو بھی ایمان کے منافی قرار دیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن ہشام کہتے ہیں کہ:
’’ہم حضورؐکے ساتھ تھے۔ آپ ؐ حضرت عمر بن خطابؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ اس دوران حضرت عمرؓ نے (اپنی قلبی کیفیت بیان کرتے ہوئے)کہا: یارسولؐ اللہ  ! آپؐ  مجھے اپنی جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں۔ آپؐ  نے فرمایا! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جب تک میں تمہارے نزدیک تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ قرار پاؤں، تم مومن نہیں ہوسکتے۔ تو حضرت عمر ؓنے عرض کیا: اب آپؐ  مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہوگئے ہیں۔ فرمایا: اے عمر! تو اب تم پکے مومن ہوگئے۔‘‘(صحیح بخاری،کتاب الایمان والنذور)
یہ حضرت عمر فاروق ؓ کی صداقت تھی کہ انہوں نے اپنی اندرونی کمزوری یا باطنی ضعف دربارِ رسالت میں صاف صاف بیان کردیا۔ دوسری طرف نگاہِ نبوت اور فیضِ نبوت کاکمال تھا کہ ایک سیکنڈ میں آپؐ نے ایمان کے تمام ارتقائی مدارج انہیں طے کرادیے۔ وہ سینہ جو ابھی ابھی اپنی جان کو عزیز سمجھ رہا تھا، دوسری ساعت آنے نہیں پائی کہ رسول اکرمؐ  کی ذات مبارکہ کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھنے لگتا ہے۔ کہنے کو تو یہ دو فقرے ہیں مگر آپؐ  کے فیض ِ صحبت کی یہ برقی تاثیر عقلِ انسانی کے لئے موجبِ حیرت ہے۔ اب سوچو کہ جہاں سیکنڈوں کی صحبت کے آثار یہ ہوں وہاں ہفتوں، مہینوں اور کئی کئی سالوں کے اثرات کیا ہوں گے۔ ؎قیاس کن زگلستان من بہار مرا
حبِّ رسول ﷺ سے متعلق ان احادیث کی شرح میں محدثین نے اگرچہ یہ بات لکھی ہے کہ یہاں طبعی، جبلی اور فطری محبت مراد نہیں جو انسان کے اختیار میں نہیں ہوتی بلکہ ایمانی، عقلی اور اختیاری محبت ِ رسول ﷺ مراد ہے مگر کمال ایمان کا تقاضا ہے کہ اس محبت میں اس قدر ترقی ہونی چاہئے کہ یہ محبت طبعی محبت پر غالب آجائے اور اتباعِ سنت میں وہ لذت محسوس ہو جو ہر تکلیف کو راحت اور ہر تلخی کو شیریں بنادے۔ یہی محبت کا اعلیٰ اور مطلوب مقام ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آپﷺ کا سیاسی کردار بھی ہر اعتبار سے عدیم المثال اور ہر لحاظ سے بے نظیر تھا

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ و رسولؐ  کے ساتھ اہلِ ایمان کو جو محبت ہوتی ہے، وہ ماں باپ اور بیوی بچوں کی محبت کی طرح خونی رشتوں یا دوسرے طبعی و غیر اختیاری اسباب کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ وہ روحانی، ایمانی اور عقلی وجوہ سے ہوتی ہے مگرجب عقلی محبت کامل ہوجاتی ہے تو اس کے سوا دوسری تمام محبتیں جو طبعی، خود غرضانہ، مفاد پرستانہ یا نفسیاتی اسباب کی وجہ سے ہوتی ہیں، مغلوب ہوجاتی ہیں۔ اس بات کو ہر وہ شخص سمجھ سکتا ہے جس کو اللہ نے اس کا کوئی حصہ نصیب فرمایا ہو۔
یہی وجہ ہے کہ نبی اکرمؐ کی ذاتِ گرامی پر من جانب اللہ سلسلۂ نبوت و رسالت ختم کردینے کی ایک حکمت علماء نے یہ بھی بتائی ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ مومنین کے قلبی تعلق و محبت میں کسی قسم کی کمی اور کمزوری واقع نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK