حضرت عبداللہ ؓہوزنی بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن حضرت بلالؓ سے حلب کے مقام پر ملا۔ میں نے عرض کیا: ’’بلالؓ! آپ مجھے رسولؐ اللہ کے نان و نفقہ کے بارے میں کچھ بتلایئے کہ وہ کیا تھا؟‘‘
EPAPER
Updated: January 30, 2026, 8:18 PM IST | Maulana Abdul Malik | Mumbai
حضرت عبداللہ ؓہوزنی بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن حضرت بلالؓ سے حلب کے مقام پر ملا۔ میں نے عرض کیا: ’’بلالؓ! آپ مجھے رسولؐ اللہ کے نان و نفقہ کے بارے میں کچھ بتلایئے کہ وہ کیا تھا؟‘‘
حضرت عبداللہ ؓہوزنی بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن حضرت بلالؓ سے حلب کے مقام پر ملا۔ میں نے عرض کیا: ’’بلالؓ! آپ مجھے رسولؐ اللہ کے نان و نفقہ کے بارے میں کچھ بتلایئے کہ وہ کیا تھا؟‘‘
انہوں نے جواب دیا: ’’آپؐ کے پاس نفقہ کچھ نہیں ہوتا تھا۔ بعثت سے لے کر دنیا سے پردہ فرمانے تک یہی حال تھا۔ میں اس کا منتظم ہوتا تھا۔ آپؐ کے پاس جب کوئی مسلمان آتا تھا، آپؐ دیکھتے تھے کہ اس کا لباس نہیں ہے،تو آپؐ مجھے حکم دیتے تھے۔ میں جاتا اور قرض لے کر اس کے لئے چادر خرید کر دیتا، اسے کھانا کھلاتا۔ اس طرح سے یہ سلسلہ جاری تھا کہ ایک مشرک شخص میرے پاس آیا اور کہا: بلال! میرے پاس مالی وسعت ہے، میرے سوا کسی اور سے قرض نہ لیا کرو۔ چنانچہ میں نے اس سے قرض لینا شروع کر دیا۔ ایک دن میں وضو کر کے اذان دینے کھڑا ہونے لگا تھا کہ وہی مشرک، تاجروں کی ایک جماعت لے کر آپہنچا۔ جب دیکھا تو آواز دی: اے حبشی! میں نے کہا: حاضر جناب! اس نے منہ چڑایا اور مجھے نہایت سخت سست کہا۔ کہنے لگا، جانتے ہو مہینے میں کتنے دن رہ گئے ہیں؟ میں نے کہا، قریب آپہنچا ہے۔ کہنے لگا،تیرے وعدے کے صرف چار دن رہ گئے ہیں۔ پھر میں تجھے قرض کے بدلے میں گرفتار کر لوں گا اور تجھے پہلے کی طرح دوبارہ بکریاں چرانے پر لگا دوں گا۔
یہ بھی پڑھئے: شُح اور صُلح: دو متضاد رویے
اس کی گفتگو سن کر اور رویہ دیکھ کرمیں پریشان ہو گیا۔ آپﷺ جب عشاء کی نماز پڑھ کر اپنے گھر کی طرف واپس ہوئے تو میں نے بھی آنحضورؐ کے گھر مبارک کا رُخ کیا۔ اجازت مانگی، آنحضورؐ نے اجازت عنایت فرما دی۔ میں نے عرض کیا: یارسول ؐاللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! جس مشرک سے میں قرض لیا کرتا تھا، اس نے مجھے یہ اور یہ سخت سست باتیں کہی ہیں۔ آپؐ کے پاس اس وقت ادائیگی کیلئے کچھ نہیں ہے اور میرے پاس بھی کچھ نہیں۔ اس شخص کے رویے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مجھے رسوا کرنا چاہتاہے اس لئے آپؐ مجھے اجازت دے دیجئے کہ میں (وقتی طور پر) مدینہ کے باہر ان قبائل کے پاس چلا جائوں جو مسلمان ہو گئے ہیں، اور اس وقت تک اُدھر رہوں جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ کے پاس اتنا مال نہ آجائے جس سے قرض کی ادائیگی ہو سکے۔
یہ بھی پڑھئے: عہدِ اضطراب میں نماز کی معنویت
آپؐ سے یہ باتیں عرض کر کے میں آپؐ کے پاس سے نکل آیا۔ اپنے گھر پہنچا تو اپنی تلوار ، تھیلا، جوتے اور ڈھال اپنے سرہانے رکھ لیں تاکہ صبح سویرے نکل جائوں۔ صبح طلوع ہونے لگی اور میں نے نکل جانے کا ارادہ کیا ۔ تبھی دیکھا کہ ایک آدمی دوڑتا ہوا آ رہا ہے۔ زور زور سے بلال ؓبلالؓ کی آوازیں دے کر کہہ رہا ہے کہ رسولؐ اللہ بلا رہے ہیں، فوراً آپہنچو۔ میں پہنچا تو دیکھتا ہوں کہ چار اُونٹنیاں بیٹھی ہوئی ہیں اور ان پر سازوسامان لدا ہوا ہے۔ آپؐ نے مجھے فرمایا: بلالؓ، خوش خبری قبول کرو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے قرض کی ادائیگی کے لئے سازوسامان بھیج دیا ہے۔ دیکھتے نہیں ہو چار اونٹنیاں سامان سے لدی بیٹھی ہیں۔ یہ اونٹنیاں اور ان پر جو سازوسامان لدا ہوا ہے، فدک کے ایک بڑے آدمی نے ہدیہ بھیجا ہے۔ اسے وصول کر لواور اپنا قرض ادا کرو۔ چنانچہ میں نے امر کی تعمیل کی اور قرض چکا دیا ۔میں آپؐ کے ارشاد کی تعمیل کر کے مسجد کی طرف گیا جہاں آپؐ تشریف فرما تھے۔ میں نے سلام عرض کیا۔ آپؐ نے فرمایا: بلالؓ!مال کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے تمام قرضوں کی ادائیگی کا انتظام کر دیا۔ اب آپؐ کے ذمے کوئی چیز باقی نہیں ہے۔ آپؐ نے سوال کیا: ادائیگی کے بعد کچھ مال باقی بھی ہے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، یارسولؐ اللہ۔ آپؐ نے فرمایا: دیکھو اسے بھی مستحقین میں تقسیم کر کے مجھے اس سے آرام پہنچائو۔ میں اپنے گھر نہیں جائوں گا یہاں تک کہ مجھے اس سے راحت نہ پہنچائو ۔
یہ بھی پڑھئے: آپﷺ کا سیاسی کردار بھی ہر اعتبار سے عدیم المثال اور ہر لحاظ سے بے نظیر تھا
میں نے عشاء تک انتظار کیا کہ کوئی مستحق آجائے لیکن کوئی نہ آیا۔ جب رسول ؐاللہ نے عشاء کی نماز پڑھ لی تو مجھے بلایا اور فرمایا: مال کا کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: میرے پاس ہے، کوئی لینے کے لئے نہیں آیا۔ تب رسولؐ اللہ نے وہ رات مسجد میں گزاری ۔ پھر اگلے دن آپؐ نے عشاء کی نماز پڑھی اور مجھے بلایا۔ پوچھا: مال کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا: اللہ نے آپؐ کو اس مال کے فتنے سے راحت دے دی۔ آپؐ نے یہ سن کر اللہ اکبر کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔۔ اس کے بعد آپؐ گھر تشریف لے گئے۔ (ابوداؤد، حدیث نمبر ۳۰۵۵)
یہ مدینہ طیبہ کا حال ہے جہاں آپؐ حکمراں بھی ہیں، مال و دولت کی آمد بھی ہے، اموال غنیمت، زکوٰۃ و صدقات اور ہدیے اور تحفے بھی آرہے ہیں لیکن مال، اپنی ذات اور گھر پر نہیں بلکہ فقرا اور مساکین میں خرچ کر دیا جاتا ہے۔ اپنے اخراجات کے لئے قرض لے کر گزارا ہو رہا ہے۔ آنے والا مال دوسروں کو دیا جاتا ہے اور اپنے لئے توکل اور قرض پر گزارا ہے۔ ثابت ہوا کہ آپؐ کا اسوہ بے نظیر نمونہ اور بے مثال طریقہ ہے، سب سے حسین اور سب سے اعلیٰ!n