جب ہاتھ موبائل سے خالی ہوتے ہیں تو دل خود سے بات کرنا سیکھتا ہے، فکر اپنی گہرائی میں اترتی ہے اور شعور یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر اطلاع ضروری نہیں اور ہر کلک حقیقت نہیں۔
EPAPER
Updated: January 30, 2026, 9:35 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai
جب ہاتھ موبائل سے خالی ہوتے ہیں تو دل خود سے بات کرنا سیکھتا ہے، فکر اپنی گہرائی میں اترتی ہے اور شعور یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر اطلاع ضروری نہیں اور ہر کلک حقیقت نہیں۔
ڈیجیٹل دور اپنی تمام تر چمک دمک، سرعت اور سہولتوں کے ساتھ انسانی زندگی پر اس طرح چھا چکا ہے کہ احساسات، اقدار اور رویے بھی اس کے رنگ میں رنگتے جا رہے ہیں۔ اسکرینوں کی روشنی نے جہاں علم و آگاہی کے دروازے وا کئے ہیں، وہیں نگاہوں کی لغزش، فکر کی آوارگی اور کردار کی کمزوری کو بھی معمول بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں حیا اور عفت محض الفاظ نہیں رہ جاتے بلکہ ایمان کی حفاظت، شخصیت کا وقار اور معاشرتی پاکیزگی کا آخری حصار بن جاتے ہیں۔ اسلام نے حیا کو ایمان کا زیور اور عفت کو انسانی عظمت کی علامت قرار دے کر ہر دَور میں اس کی اہمیت واضح کی ہے، مگر ڈیجیٹل زمانے میں اس کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے، جہاں ایک کلک انسان کو بلندی سے پستی تک لے جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج حیا و عفت کا تصور محض نجی معاملہ نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور تہذیبی چیلنج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سرورِ کائنات ؐ سے محبت زبانی نہیں قلبی ہو اَور اس کا اظہار سراسر عملی ہو!
اس تمہید کے تناظر میں حیاء و عفت کے تعلق سے اسلامی نقطۂ نظر کی اہمیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ اسلام نے حیا اور عفت کو انسانی کردار کی زینت اور ایمان کی بنیاد قرار دیا ہے، اسی لئے قرآنِ مجید میں مردوں اور عورتوں دونوں کو یکساں طور پر یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں۔ (سورۂ النور: ۳۰۔۳۱) یہ قرآنی اصول ڈیجیٹل دور میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جہاں اسکرین کے ذریعے لمحوں میں ایسی چیزیں سامنے آ جاتی ہیں جو دل و دماغ کو منتشر کر دیتی ہیں۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ (صحیح بخاری) اسلام میں عفت کا تصور صرف جسمانی حدود تک محدود نہیں بلکہ زبان، خیال، نگاہ اور طرزِ عمل سب اس کے دائرے میں آتے ہیں، اسی لئے اسلام نے انسان کو تنہائی میں بھی اللہ سے شرم کرنے اور اس کی نگرانی کا احساس زندہ رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ اس جامع تصورِ حیا کا مقصد ایک ایسا باوقار انسان تیار کرنا ہے جو مجمع میں بھی اور تنہائی میں بھی اپنی اخلاقی سرحدوں کی حفاظت کرے، اور یہی شعور ڈیجیٹل عہد کے فتنہ خیز ماحول میں فرد اور معاشرہ دونوں کیلئے مضبوط ڈھال ثابت ہو سکتا ہے۔
یاد رکھئے! جس طرح ظاہری دنیا میں بدنگاہی اور غیر اخلاقی عمل ایمان کی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں اور انسانیت کی روح کو آہستہ آہستہ بے جان کر دیتے ہیں، بالکل اسی طرح ڈیجیٹل دنیا میں کی گئی بدنگاہی اور دبایا گیا ایک غیر اخلاقی کلک بھی ہلاکت خیز زہر سے کم نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: حقوق اللہ کا سب سے عظیم رکن ’’نماز‘‘ اور حقوق الناس کا سرنامہ ’’زکوٰۃ‘‘ ہے
فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں آنکھ سامنے ہوتی ہے اور یہاں اسکرین، مگر انجام دونوں کا ایک ہی ہے: دل کی تاریکی، ضمیر کی بے حسی اور کردار کی شکست و ریخت۔ بظاہر یہ کلک معمولی، وقتی اور پوشیدہ محسوس ہوتا ہے، لیکن یہی لمحاتی لغزش رفتہ رفتہ حیا کی دیواروں میں دراڑ ڈال دیتی ہے، عفت کے چراغ کو مدھم کر دیتی ہے اور انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں گناہ احساسِ جرم سے خالی ہو جاتا ہے۔
یہ نکتہ نہایت سنجیدگی سے سمجھنے کا ہے کہ بسا اوقات انسان ظاہری طور پر نیکیوں کے حصار میں ہوتا ہے؛ پھر بھی دل وہ سکون، وہ لذت اور وہ حلاوتِ ایمانی محسوس نہیں کر پاتا جس کا وعدہ عبادات کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس روحانی خلا کی ایک بڑی اور نظرانداز کی جانے والی وجہ موجودہ دور میں ہمارے ہاتھوں میں موجود موبائل فون ہے، جو کبھی شعوری طور پر اور کبھی غیر شعوری طور پر ہمیں ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں نگاہوں کی آزمائش، خیالات کی آلودگی اور جذبات کی بے راہ روی قدم قدم پر بکھری ہوئی ہے۔ بظاہر یہ سب اسکرین کے پیچھے، تنہائی میں اور کسی سماجی گرفت سے آزاد ہو کر ہوتا ہے، اس لئے انسان اسے معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتا ہے، مگر یہی مواد دل کی زمین کو بنجر کر دیتا ہے، عبادت کے اثر کو کمزور کر دیتا ہے اور ایمان کی حلاوت کو آہستہ آہستہ سلب کر لیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اَنا، نہ فرد کیلئے سودمند ثابت ہوتی ہے اور نہ معاشرے کیلئے
اسی لئے موجودہ زمانے میں، جہاں وقت مسلسل اسکرین کی گرفت میں پھسلتا جا رہا ہے، ڈیجیٹل خرافات سے بچاؤ محض نصیحت یا وقتی ارادے سے ممکن نہیں رہا، بلکہ اس کیلئے شعوری نظم اور باطنی ضبط کی ضرورت ہے۔ فلسفیانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو جس طرح انسان شور سے بچنے کے لئے خاموشی کا انتخاب کرتا ہے اور ہجوم سے نکل کر تنہائی میں اپنے وجود کو پہچانتا ہے بالکل اسی طرح روح کی بقا کے لئے دن کے چوبیس گھنٹوں کی کچھ ساعتوں میں موبائل سے دوری ناگزیر ہے تاکہ انسان اپنی توجہ کو منتشر کرنے والی دنیا سے ہٹاکر اپنے باطن، اپنے رب اور اپنی اصل ضرورتوں کی طرف لوٹ سکے۔ جب ہاتھ موبائل سے خالی ہوتے ہیں تو دل خود سے بات کرنا سیکھتا ہے، فکر اپنی گہرائی میں اترتی ہے اور شعور یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر اطلاع ضروری نہیں اور ہر کلک حقیقت نہیں۔