Inquilab Logo Happiest Places to Work

حالات کا تقاضا ہے کہ فکرِ رضا کا اعادہ کیا جائے، اسے رسمی نہ بنایا جائے

Updated: August 07, 2026, 5:01 PM IST | Mufti Mohammad Raza Qadri Rafai Markazi | Mumbai

امام احمد رضا ؒ کی نگاہ میں صالح معاشرے کی پہلی بنیاد درست عقیدہ ہے۔ آپؒ نے واضح فرمایا کہ جب عقیدہ مضبوط ہوگا تو عبادت میں اخلاص، کردار میں پاکیزگی اور معاملات میں دیانت خود بخود پیدا ہوگی۔

Maulana Ahmed Raza Khan Barelvi`s tomb. Photo: X
مولانا احمد رضا خان بریلوی کا مزار۔ تصویر: ایکس

معاشرہ عمارتوں سے نہیں، کرداروں سے بنتا ہے۔ قومیں دولت سے نہیں، بلکہ اخلاق، دیانت، علم اور خدا ترسی سے زندہ رہتی ہیں۔ جب جھوٹ کو ہوشیاری، بے حیائی کو آزادی، سود کو ترقی، ظلم کو طاقت اور دین سے بے رغبتی کو روشن خیالی سمجھ لیا جائے تو سمجھ لیجئے کہ معاشرہ اپنی بنیادیں کھو چکا ہے۔ ایسے نازک دور میں امت کو اگر کسی مصلح کی فکر کی طرف پلٹنے کی ضرورت ہے تو وہ امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی فکر ہے، جنہوں نے صرف کتابیں نہیں لکھیں بلکہ ایک صالح، باکردار اور باعمل معاشرے کا نقشہ بھی پیش کیا۔

امام احمد رضا ؒ کی نگاہ میں صالح معاشرے کی پہلی بنیاد درست عقیدہ ہے۔ آپؒ نے واضح فرمایا کہ جب عقیدہ مضبوط ہوگا تو عبادت میں اخلاص، کردار میں پاکیزگی اور معاملات میں دیانت خود بخود پیدا ہوگی۔ جس دل میں اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کی سچی محبت ہو، وہ نہ کسی کا حق مار سکتا ہے، نہ ظلم کر سکتا ہے، نہ دھوکہ دے سکتا ہے  اور نہ ہی معاشرے میں فساد پھیلا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یقین زندہ ہو تو وہ دروازے کھل جاتے ہیں جن کا گمان بھی نہیں ہوتا

دوسری بنیاد علم کے ساتھ عمل ہے۔ امام احمد رضاؒ نے ایسا علم نہیں سکھایا جو صرف زبانوں پر ہو بلکہ ایسا علم دیا جو دلوں کو بدل دے، کردار کو سنوار دے اور انسان کو اللہ رب العزت کا فرمانبردار بنا دے۔ افسوس! آج معلومات کی فراوانی ہے مگر عمل کی کمی، ڈگریاں بہت ہیں مگر کردار ناپید، تقریریں بے شمار ہیں مگر اخلاص کم۔ اس لئے لگتا ہے کہ  یہی ہمارے معاشرتی زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

آپؒ کی تعلیمات میں اخلاقِ حسنہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سچائی، امانت، حیا، عدل، رحم، والدین کی خدمت، پڑوسیوں کے حقوق، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک اور انسانیت کے ساتھ خیر خواہی… یہ وہ ستون ہیں جن پر ایک صالح معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ افسوس کہ آج سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی عزت اچھالنا، تہمت لگانا اور نفرت پھیلانا معمول بنتا جا رہا ہے، حالانکہ مسلمان کی زبان اور قلم دونوں امانت ہیں۔

آپ ؒنے عدل و انصاف کو بھی صالح معاشرے کی بنیادی شرط قرار دیا۔ ایسا معاشرہ کبھی پائیدار نہیں ہوسکتا جہاں قانون امیر کے لئے کچھ اور ہو، غریب کے لئے کچھ اور ہو، جہاں سفارش انصاف پر غالب آ جائے اور مفاد اصولوں کو نگل جائے۔ انصاف صرف عدالت کا نام نہیں بلکہ گھر، بازار، مسجد، مدرسہ اور دفتر ہر جگہ اس کا نفاذ ضروری ہے۔

امام احمد رضا ؒ نے خاندان کی اصلاح کو بھی امت کی اصلاح کی بنیاد قرار دیا۔ اگر گھر میں نماز، قرآن، ادب، حیا اور دینی تربیت ہوگی تو گلیاں بھی محفوظ ہوں گی اور بازار بھی۔ لیکن جب والدین اپنی ذمہ داری بھول جائیں، اولاد موبائل کی غلام بن جائے اور گھروں سے دینی ماحول ختم ہو جائے تو پھر معاشرے کی بربادی کو کوئی نہیں روک سکتا۔

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ترقی کا معیار صرف دولت کو سمجھ لیا ہے جس سے مادّی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، جبکہ امام احمد رضا کی فکر یہ سکھاتی ہے کہ اصل ترقی ایمان، اخلاق، علم اور خدمت ِخلق میں ہے۔ اگر دولت کردار کے بغیر ہو تو فساد پیدا کرتی ہے، لیکن کردار دولت کے بغیر بھی قوموں کو عظمت عطا کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قرآن آپ سے ہی مخاطب ہے!

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امام احمد رضا ؒ کو صرف عرس، جلسوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان کی تعلیمات کو اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، بازاروں اور اجتماعی زندگی میں نافذ کریں۔ جب تک فکر ِ رضا ہمارے کردار کا حصہ نہیں بنتی، اس وقت تک معاشرتی اصلاح صرف ایک نعرہ ہی رہے گی اور معاشرہ کا بگاڑ روکا نہیں جاسکے گا۔

اما م احمد رضاؒ  علم و فضل کا وہ خورشید ہیں کہ جس کی جلوہ گری انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر تا بیسویں صدی کے ربع اوّل کے عرصہ پر محیط ہے، اور یہ دور جس قدر  پُرآشوب تھا بلاد اسلامیہ میں کوئی دور بھی ایسا نہیں گزرا، فتنوں کی بیخ کنی اور مفسدین کو بے نقاب کرنے کیلئے امام احمد رضا نے فقہی بصیرت اور مدبرانہ فراست کے ذریعے ملت کی راہنمائی کا جو فریضہ انجام دیا وہ آپ ہی کا خاصہ تھا۔ 

آج وقت ہمیں پکار رہا ہے۔ نوجوانوں کو اپنی شناخت بچانی ہے، والدین کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہیں، علماء کو اخلاص کے ساتھ رہنمائی کرنی ہے اور ہر مسلمان کو اپنے کردار کا محاسبہ کرنا ہے۔ آئیے! فکر ِ رضا کو صرف پڑھیں نہیں، اسے جئیں۔ کیونکہ صالح معاشرہ نعروں سے نہیں، صالح انسانوں سے وجود میں آتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK