انسان کی پوری زندگی تلاش کا دوسرا نام ہے۔ کوئی رزق کی تلاش میں ہے، کوئی صحت کا طالب ہے، کوئی عزت چاہتا ہے اور کوئی اپنی کسی ایسی مشکل کا حل ڈھونڈ رہا ہے جس نے اس کی راتوں کی نیند چھین لی ہے۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 4:39 PM IST | Mohammed Tauqeer Rahmani | Mumbai
انسان کی پوری زندگی تلاش کا دوسرا نام ہے۔ کوئی رزق کی تلاش میں ہے، کوئی صحت کا طالب ہے، کوئی عزت چاہتا ہے اور کوئی اپنی کسی ایسی مشکل کا حل ڈھونڈ رہا ہے جس نے اس کی راتوں کی نیند چھین لی ہے۔
انسان کی پوری زندگی تلاش کا دوسرا نام ہے۔ کوئی رزق کی تلاش میں ہے، کوئی صحت کا طالب ہے، کوئی عزت چاہتا ہے اور کوئی اپنی کسی ایسی مشکل کا حل ڈھونڈ رہا ہے جس نے اس کی راتوں کی نیند چھین لی ہے۔ فطری طور پر ہر انسان اسباب کی طرف بڑھتا ہے، منصوبے بناتا ہے، دروازے کھٹکھٹاتا ہے اور اپنی پوری قوت صرف کر دیتا ہے۔ لیکن زندگی کا ایک ایسا مرحلہ بھی آتا ہے جہاں تمام تدبیریں خاموش ہو جاتی ہیں، تمام راستے بند دکھائی دیتے ہیں اور ہر امید معدوم ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان کے یقین کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ اس وقت فیصلہ حالات نہیں کرتے، بلکہ انسان کے دل میں موجود وہ یقین کرتا ہے جو اسے اپنے رب پر ہے۔
قرآن مجید نے اسی حقیقت کو نہایت مختصر مگر جامع الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کیلئے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔‘‘ (سورۂ الطلاق: ۲۔۳)
یہ صرف ایک روحانی نصیحت نہیں، بلکہ زندگی کا ایسا اٹل اصول ہے جس کی گواہی ہر دور کے بے شمار واقعات دیتے ہیں۔ اس آیت میں انسان کو یہ نہیں کہا گیا کہ وہ اسباب کو چھوڑ دے، بلکہ اسے یہ سکھایا گیا ہے کہ اسباب اختیار کرتے ہوئے بھی دل کو ان کا اسیر نہ بنائے، کیونکہ اسباب خود مختار نہیں ہوتے؛ انہیں اثر دینے والی ذات اللہ رب العالمین ہی کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قرآن آپ سے ہی مخاطب ہے!
اگر اس حقیقت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا کی ہر چیز کسی نہ کسی سبب سے وابستہ ہے، لیکن کوئی سبب اپنے اندر مستقل طاقت نہیں رکھتا۔ ایک ہی دوا ایک مریض کو شفا دیتی ہے اور دوسرے پر اثر نہیں کرتی۔ ایک ہی کاروباری منصوبہ کسی کو کامیاب بنا دیتا ہے اور کسی کو خسارے میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ایک ہی قابلیت رکھنے والے دو افراد میں سے ایک کو موقع مل جاتا ہے اور دوسرا انتظار کرتا رہ جاتا ہے، اسے موقع نہیں ملتا۔ اگر اسباب ہی سب کچھ ہوتے تو نتائج ہمیشہ ایک جیسے ہوتے، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ یہی فرق اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ سبب صرف ذریعہ ہے، فیصلہ کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں یقین انسان کے اندر ایک نئی بصیرت پیدا کرتا ہے۔ یقین کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور معجزوں کا انتظار کرے، بلکہ یقین یہ ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرے، ہر جائز کوشش کرے، مگر اپنے دل کو کسی ظاہری سہارے کا غلام نہ بننے دے۔ جب دل کا سہارا صرف اللہ ہو تو حالات کی سختی بھی انسان کے حوصلے کو نہیں توڑ سکتی، کیونکہ تب انسان کو علم ہوتا ہے کہ بند دروازہ، دروازہ بنانے والے سے زیادہ طاقتور نہیں ہوتا۔
زندگی کا گہرا مشاہدہ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے روزگار کی تلاش میں ہر ممکن کوشش کی، مگر ہر جگہ ناکامی ان کا مقدر بنی۔ پھر ایک دن کسی ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جس سے کبھی کوئی توقع نہیں تھی، یا ایک معمولی سی گفتگو نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ بعد میں جب وہ ماضی پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ جن دروازوں کے بند ہونے پر وہ غمزدہ تھے، اگر وہ کھل جاتے تو شاید وہ اس بہتر منزل تک کبھی نہ پہنچتے۔ اس وقت انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی خواہش کے مطابق سوچتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ اس کے انجام کو دیکھ کر فیصلہ فرماتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: استاد کا درجہ بلند، لیکن کیا ہم نے طریقۂ نبویؐ سے درس دینا سیکھا ہے؟
بدقسمتی سے آج کا انسان اسباب پر پہلے سے زیادہ قادر ہے، مگر اطمینان پہلے سے کم رکھتا ہے۔ وسائل بڑھ گئے ہیں، مگر خوف بھی بڑھ گیا ہے۔ معلومات عام ہو گئی ہیں، مگر دل بے سکون ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان نے وسائل کو مقصد سمجھ لیا ہے، حالانکہ وہ صرف ذرائع ہیں۔ جب دل ذرائع سے وابستہ ہو جاتا ہے تو ان کے ختم ہونے کا خوف بھی انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے، لیکن جب دل اس رب سے وابستہ ہو جائے جس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے، تو قلت کے اندر بھی امید باقی رہتی ہے اور تاریکی کے اندر بھی روشنی دکھائی دیتی ہے۔
اسی لئے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بار بار امید، صبر اور توکل کی دعوت دیتا ہے۔ مایوسی درحقیقت بند دروازہ کو دیکھنے کا نام ہے، جبکہ یقین دروازہ کھولنے والی قدرت پر اعتماد کا نام ہے۔ جو شخص صرف حالات کو دیکھتا ہے، وہ جلد تھک جاتا ہے؛ لیکن جو اللہ کے وعدوں کو دیکھتا ہے، وہ آزمائش کے درمیان بھی اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو ایک انسان کو حالات کا قیدی بنا دیتا ہے اور دوسرے کو انہی حالات کے درمیان کامیابی کی نئی راہیں دکھا دیتا ہے۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کی مدد ہر لمحہ بندوں کے ساتھ ہے، تو پھر انسان کو آزمائشوں سے کیوں گزارا جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آزمائش اللہ کی حکمت کا حصہ ہے۔ جو چیز آسانی سے مل جائے، اس کی قدر کم رہ جاتی ہے، اور جو شخصیت مشکلات کے بھٹّے سے گزر کر بنتی ہے، وہ معمولی حالات میں پیدا نہیں ہوتی۔ جیسے زمین کے سینے میں دب جانے والا بیج بظاہر ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں وہیں سے اس کی نئی زندگی شروع ہوتی ہے۔ اگر وہ تاریکی سے گھبرا جائے تو کبھی سایہ دار درخت نہیں بن سکتا۔ انسان کی آزمائشیں بھی اسی بیج کی مانند ہوتی ہیں؛ ظاہری طور پر وہ رکاوٹ محسوس ہوتی ہیں، لیکن انہی کے اندر اللہ تعالیٰ نئی راہوں کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔
اسی لئے اہلِ یقین مشکلات کو انجام نہیں سمجھتے بلکہ ایک نئے آغاز کی تمہید سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ انسان صرف آج کو دیکھتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ آنے والے کل کو بھی دیکھ رہا ہوتا ہے۔ بہت سے مواقع ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان اپنی محرومی سمجھتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے بعد وہی واقعات اس پر واضح کرتے ہیں کہ اگر اس کی خواہش اسی وقت پوری ہو جاتی تو شاید وہ کسی بڑے نقصان میں مبتلا ہو جاتا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ بند دروازے اس لیے نہیں رکھتا کہ بندہ محروم رہے، بلکہ اس لیے کہ وہ اسے اس دروازے تک پہنچانا چاہتا ہے جو اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انسان کی حیات ِصالحہ اور اس کی طبعی عمر
آج کے دور میں شاید سب سے بڑی محرومی وسائل کی کمی نہیں، بلکہ امید کی کمی ہے۔ معمولی ناکامی پر حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں، ایک دروازہ بند ہو تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری دنیا ختم ہو گئی۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انسان کے بند کیے ہوئے دروازے محدود ہوتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت محدود نہیں۔ اس لیے جو شخص اپنی امید کو لوگوں سے وابستہ کرتا ہے، وہ لوگوں کے بدلنے سے ٹوٹ جاتا ہے، اور جو اپنی امید کو اللہ سے وابستہ کرتا ہے، اس کے لئےہر نیا دن ایک نئی امید لے کر طلوع ہوتا ہے۔
اس لئے اگر زندگی کے کسی موڑ پر تمام دروازے بند دکھائی دیں، حالات توقع کے خلاف ہو جائیں اور ہر تدبیر بے اثر محسوس ہونے لگے، تو یہ نہ سمجھا جائے کہ سفر ختم ہو گیا۔ ہوسکتا ہے یہی وہ لمحہ ہو جب اللہ تعالیٰ ایک ایسا دروازہ کھولنے والا ہو جس تک انسان کی سوچ کبھی پہنچی ہی نہ ہو۔ بندہ صرف اپنا قدم سچائی، تقویٰ، محنت اور توکل کے ساتھ بڑھاتا رہے، کیونکہ تاریخ کا ایک خاموش مگر اٹل سبق یہی ہے کہ راستے ہمیشہ ان لوگوں کے لئےپیدا ہوتے یا کھلتے ہیں جن کا یقین حالات پر نہیں، بلکہ ربِّ حالات پر ہوتا ہے۔