Inquilab Logo Happiest Places to Work

قرآن آپ سے ہی مخاطب ہے!

Updated: August 07, 2026, 4:34 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

جس دن ہم یہ محسوس کر لیں گے ہماری سوچ، ہمارا کردار، ہماری زندگی اور ہماری آخرت بدل جائے گی۔

The Holy Quran is truly a living book that speaks directly to people of every era, every class, every age, and every condition. Photo: INN
قرآن مجید حقیقت میں ایک زندہ کتاب ہے جو ہر دور، ہر طبقے، ہر عمر اور ہر حالت کے انسان سے براہِ راست مخاطب ہے۔ تصویر: آئی این این

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے، اس لیے اس کا پیغام کسی ایک قوم، نسل، زبان یا زمانے تک محدود نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لیے ہے۔ جس طرح نزولِ قرآن کے وقت صحابۂ کرامؓ، اہلِ مکہ اور اہلِ مدینہ مخاطب اول تھے، اسی طرح آج بھی یہ ہم سے براہِ راست ہم کلام ہے اور آنے والی نسلوں سے بھی اسی طرح مخاطب رہے گا۔ قرآن کی ہر آیت اپنے قاری کو یہ احساس دلاتی ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ اسی سے بات کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ زندگی کی رہنمائی کا زندہ منشور ہے۔

بچوں سے قرآن کا خطاب

قرآن بہت خوش اسلوبی سے بچوں کی تربیت، شخصیت سازی اور ایمان کی بنیادیں مضبوط کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو نصیحت نقل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اے میرے پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘ (لقمان:۱۳) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن بچوں کو بچپن ہی سے توحید، عبادت، اخلاق، والدین کی اطاعت اور کردار کی پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ایک صالح معاشرہ صالح بچوں ہی سے وجود میں آتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایک سے زائد بیوی کی شرعی اجازت اور مسلم پرسنل لاء میں بار بار دخل اندازی

مردوں سے خطاب

قرآن مردوں کو خاندان، معاشرے اور امت کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:  ’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔‘‘ (التحریم: ۶) یہ آیت ہر مرد کو یاد دلاتی ہے کہ اس کی ذمہ داری صرف روزی کمانا نہیں بلکہ اپنے اہل و عیال کی دینی، اخلاقی اور روحانی تربیت بھی ہے۔ 

عورتوں سے خطاب

قرآن مجید نے عورت کو محض ایک فرد کی حیثیت سے نہیں بلکہ معاشرے کی معمار، نسلوں کی مربیہ اور اللہ کی برگزیدہ بندی کی حیثیت سے مخاطب کیا ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ عزت، وقار اور حقوق عطا کیے جن سے دنیا کی بہت سی تہذیبیں صدیوں تک ناواقف رہیں۔ قرآن بار بار یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مرد اور عورت کی قدر و منزلت کا معیار جنس نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ اور صالح کردار ہے۔ اسی لئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، سچے مرد اور سچی عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی اختیار کرنے والے مرد اور عاجزی اختیار کرنے والی عورتیں، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے مرد اور خرچ کرنے والی عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں، اپنی پاکدامنی کی حفاظت کرنے والے مرد اور عورتیں، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں، ان سب کے لیے اللہ نے مغفرت اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔‘‘ (الاحزاب:۳۵)

یہ آیت اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اجر و ثواب، قربِ الٰہی اور کامیابی کے تمام دروازے عورتوں کے لئے بھی اسی طرح کھلے ہیں جس طرح مردوں کے لئے۔ قرآن عورت کو احساسِ کمتری نہیں بلکہ احساسِ ذمہ داری دیتا ہے، اسے عبادت، علم، اخلاق، عفت، صبر اور خدمتِ خلق کے میدان میں آگے بڑھنے کی دعوت دیتا ہے، تاکہ وہ اپنی ذات، اپنے خاندان اور پوری امت کے لیے خیر و برکت کا سرچشمہ بن جائے۔

بوڑھوں سے قرآن کا خطاب

قرآن عمر رسیدہ افراد کو بھی امید، وقار اور اللہ پر کامل بھروسے کا درس دیتا ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام بڑھاپے میں دعا کرتے ہیں: ’’اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے۔‘‘  (الانبياء:۸۹) قرآن یہ بتاتا ہے کہ بڑھاپا مایوسی کا نام نہیں بلکہ دعا، عبادت، حکمت اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا بہترین دور ہے۔ اللہ کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔

تمام مسلمانوں سے خطاب

قرآن ہر مسلمان کو اتحاد، تقویٰ اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘ (آل عمران:۱۰۳) یہ آیت امتِ مسلمہ کو یاد دلاتی ہے کہ ان کی اصل قوت قرآن و سنت سے وابستگی، باہمی محبت اور اتحاد میں ہے۔

غیر مسلموں سے خطاب

قرآن صرف مسلمانوں سے نہیں بلکہ پوری انسانیت سے مخاطب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’کہہ دیجئے! اے اہلِ کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔‘‘ (آل عمران:۶۴ ) یہ آیت دعوت، مکالمہ، انصاف اور توحید کی بنیاد پر انسانوں کو قریب لانے کا پیغام دیتی ہے۔ قرآن اختلاف کے باوجود عزت، حکمت اور خیرخواہی کے ساتھ گفتگو کی تعلیم دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میراث کی تقسیم، اہمیت اور ہمارا رویہ

مقصد ِ حیات کے متعلق خطاب

قرآن زندگی کا مقصد نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے۔‘‘ (الذاریات:۵۶)  اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی محض کھانے، کمانے اور دنیا بنانے کے لئے نہیں بلکہ اللہ کی بندگی، اطاعت اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہے۔

مشکل حالات میں  خطاب

جب انسان آزمائشوں، مصیبتوں اور پریشانیوں میں گھِر جاتا ہے تو قرآن اسے امید اور صبر کا پیغام دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے، یقیناً ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ (الشرح:۵۔۶) قرآن مایوسی کے اندھیروں میں امید کا چراغ روشن کرتا ہے اور یقین دلاتا ہے کہ آزمائش دائمی نہیں، اللہ کی مدد ضرور آتی ہے۔

خوشی کے مواقع پر خطاب

قرآن خوشیوں میں بھی انسان کی رہنمائی کرتا ہے تاکہ وہ غرور میں مبتلا نہ ہو بلکہ اپنے رب کا شکر گزار بنے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور اللہ کا شکر ادا کرو۔‘‘ (البقرہ: ۱۷۲)  قرآن سکھاتا ہے کہ حقیقی خوشی وہ ہے جس میں بندہ نعمت کو اللہ کی عطا سمجھے، شکر ادا کرے اور اس نعمت کو نیکی کے راستے میں استعمال کرے۔

انسانیت سے خطاب

قرآن ہر انسان کو اس کی مشترکہ انسانی حیثیت یاد دلاتا ہے:’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔‘‘  (النساء:۱) یہاں خطاب صرف مسلمانوں سے نہیں بلکہ پوری انسانیت سے ہے۔ قرآن انسان کو اس کی اصل، اس کے رب، اس کی ذمہ داری اور اس کے انجام کی یاد دلاتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی شعور اور جواب دہی کے احساس کے ساتھ گزارے۔

رضائے الٰہی کے بارے میں خطاب

قرآن ہر مومن کو اللہ کی رضا کو اپنی سب سے بڑی منزل بنانے کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور اللہ کی رضا سب سے بڑی نعمت ہے۔‘‘ (التوبہ:۷۲) دنیا کی ہر کامیابی عارضی ہے لیکن جسے اللہ کی رضا حاصل ہو جائے اس نے حقیقی کامیابی پا لی۔ قرآن انسان کو سکھاتا ہے کہ ہر فیصلہ، عمل اور خواہش کو اللہ کی خوشنودی کے تابع بنا دیا جائے۔

دائمی کامیابی کے بارے میں خطاب

قرآن آخری اور دائمی کامیابی کا معیار بھی واضح کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’جسے جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہی حقیقی کامیاب ہے۔‘‘(آل عمران:۱۸۵) دنیا کی کامیابیاں وقتی ہیں، مگر جنت کی کامیابی ابدی ہے۔ قرآن انسان کو ہر لمحہ اسی دائمی منزل کی تیاری کی دعوت دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: طرزِ عمل کا تعلق صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ ان کی مقدار سے بھی ہوتا ہے

خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید حقیقت میں ایک زندہ کتاب ہے جو ہر دور، ہر طبقے، ہر عمر اور ہر حالت کے انسان سے براہِ راست مخاطب ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم قرآن کو محض تلاوت کی کتاب نہ سمجھیں بلکہ اسے اللہ کا زندہ پیغام جان کر اس کے ہر خطاب کو اپنے لئے سمجھیں۔ جس دن ہم یہ محسوس کر لیں گے کہ قرآن کی ہر آیت مجھ سے مخاطب ہے، اسی دن ہماری سوچ، ہمارا کردار، ہماری زندگی اور ہماری آخرت بدل جائے گی، ان شاء اللہ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK