تاریخِ اسلام کے آسمان پر کچھ ستارے ایسے چمکے کہ قیامت تک ان کی روشنی دلوں کو منور کرتی رہے گی اور دُنیا اس سے معمور رہے گی۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 4:12 PM IST | Mufti Mohammad Raza Qadri Rafai Markazi | Mumbai
تاریخِ اسلام کے آسمان پر کچھ ستارے ایسے چمکے کہ قیامت تک ان کی روشنی دلوں کو منور کرتی رہے گی اور دُنیا اس سے معمور رہے گی۔
تاریخِ اسلام کے آسمان پر کچھ ستارے ایسے چمکے کہ قیامت تک ان کی روشنی دلوں کو منور کرتی رہے گی اور دُنیا اس سے معمور رہے گی۔ انہی درخشندہ ستاروں میں ایک تابندہ نام حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا ہے۔ وہ عظیم شخصیت جن کی زندگی حیا کی خوشبو، سخاوت کی روشنی، عبادت کی لذت اور وفا کے جذبے سے معمور تھی۔ آپ کی سیرتِ طیبہ صرف ایک تاریخی داستان نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک زندہ پیغام اور ہر دور کے انسان کے لیے ایک روشن نمونہ ہے۔
حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ وہ خوش نصیب صحابی ہیں جنہیں رسولِ اکرم ﷺ کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کا شرف حاصل ہوا، اسی نسبت سے آپؓ ’’ذوالنورین” کہلائے۔ یہ اعزاز تاریخ میں کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔ آپ کی زندگی محبت ِ رسول ﷺ کا ایک خوبصورت آئینہ تھی۔ جو حکم حضورؐ پاک کی زبانِ اقدس سے نکلتا، حضرت عثمان غنیؓ کا دل اس کی تعمیل کے لئے بے قرار ہوجاتا۔ یہی اطاعت اور یہی عشق آپؓ کو امت میں بلند مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قربانی، معنی و مفہوم اور اہمیت
حضرت عثمان غنی ؓ کا سب سے نمایاں وصف حیا تھا۔ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا کہ’’ عثمانؓ وہ ہیں جن سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔‘‘ ذرا سوچئے! جس شخصیت کے سامنے آسمانوں کے فرشتے بھی ادب و حیا سے جھک جائیں، اس کا مقام اللہ کے نزدیک کتنا بلند ہوگا۔ آپؓ کی نگاہیں پاکیزہ، گفتگو نرم، انداز شائستہ اور مزاج انتہائی بردبار تھا۔ آپؓ نے اپنی زندگی سے یہ سبق دیا کہ انسان کی اصل خوبصورتی لباس اور مال میں نہیں بلکہ کردار اور حیا میں ہوتی ہے۔
حضرت عثمان غنی ؓ کی زندگی کا ہر باب ایمان کی خوشبو سے مہکتا ہے۔ آپؓ دولت مند بھی تھے مگر دنیا دل میں نہیں تھی، نرم مزاج بھی تھے مگر حق کے معاملے میں مضبوط تھے، اور منصب ِخلافت پر بھی فائز ہوئے مگر عاجزی ایسی کہ خود کو ہمیشہ اللہ کا محتاج بندہ سمجھا۔ یہ وہ عظیم توازن تھا جو ہر دور کے انسان کو سکھاتا ہے کہ عزت مال و منصب سے نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت اور کردار کی پاکیزگی سے ملتی ہے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر کا ماحول عبادت اور تلاوتِ قرآن سے منور رہتا تھا۔ رات کی تنہائیوں میں جب دنیا آرام کررہی ہوتی، تب حضرت عثمانِ غنی ؓاپنے رب کے حضور کھڑے ہوتے، آنکھیں اشکبار ہوتیں اور دل اللہ کی یاد میں ڈوب جاتا اور پھر ڈوبا رہتا۔ آپؓ کی عبادت محض ایک عمل نہ تھی بلکہ عشقِ الٰہی کی وہ کیفیت تھی جس نے دل کو نور سے بھر دیا تھا۔ یہی تعلق بندے کو زمین پر رہتے ہوئے بھی آسمان والوں کے قریب کردیتا ہے۔
سخاوت کا ذکر آئے تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا نام دل کو گرما دیتا ہے۔ جب اسلام کو ضرورت پیش آئی تو آپؓ نے اپنا مال راہِ خدا میں یوں لٹا دیا جیسے کوئی اپنے خزانے نہیں بلکہ اپنے دل کا بوجھ اتار رہا ہو۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر مسلمانوں کی مدد کے لئے آپؓ نے اتنا مال پیش کیا کہ اللہ کے رسولؐ کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا۔ اس دن سخاوت نے جیسے آپؓ کے در پر سجدہ کیا اور تاریخ نے سنہرے لفظوں میں لکھ دیا کہ دولت جب ایمان کے تابع ہو جائے تو امت کی قوت بن جاتی ہے۔
خلافت کے دور میں بھی آپؓ کی زندگی سادگی اور عدل کا حسین نمونہ رہی۔ وسیع سلطنت کا حکمراں ہونے کے باوجود دِل میں خوفِ خدا، طبیعت میں انکساری، اور زبان پر ذکرِ الٰہی جاری رہتا۔ قرآنِ مجید سے ایسی محبت تھی کہ تلاوت کے دوران آنکھیں نم ہوجاتیں۔ یہی محبت تھی کہ آپؓ نے قرآنِ کریم کو ایک قرأت پر جمع کیا۔ یہ اُمت پر عظیم احسان تھا تاکہ قیامت تک کلامِ الٰہی اپنی اصل حفاظت کے ساتھ باقی رہے۔
اور پھر وہ وقت بھی آیا جب آزمائشوں کے بادل گہرے ہوئے، مگر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا صبر پہاڑ بن گیا۔ ظلم سہہ لیا مگر اُمت میں خونریزی گوارا نہ کی۔ اپنی جان قربان کردی مگر مسلمانوں کے اتحاد کو ٹوٹنے نہ دیا۔ شہادت کے وقت بھی قرآن مجید سامنے تھا، لب خاموش تھے مگر دل اللہ کی رضا سے معمور تھا۔ گویا پوری زندگی کی طرح آخری لمحہ بھی عبادت اور صبر کی ایک روشن تفسیر بن گیا۔
یہ بھی پڑھئے: شہری آبادکاری اور تعمیرات کے سلسلے میں سردار الانبیاءؐ کی بے مثال منصوبہ بندی
آج امتِ مسلمہ کو اگر کردار کی روشنی چاہئے، اگر دلوں میں حیا کی خوشبو چاہئے، اگر سخاوت اور قربانی کی نئی روح چاہئے تو حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی حیات ِ مبارکہ کی طرف پلٹنا ہوگا۔ وہاں ہمیں نرم لہجے کا وقار بھی ملے گا، عبادت کا نور بھی، ایثار کی گرمی بھی اور آزمائش میں ثابت قدمی کا سبق بھی۔
بلاشبہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی پاکیزہ زندگی امت کے لئے ایک ایسا نمونہ ہے جسے اپنالیا جائے تو گھر بھی سنور جائیں، معاشرہ بھی مہک اٹھے اور دل بھی اللہ و اس کے رسولؐ کی محبت سے روشن ہوجائے۔
حضرت عثمان ؓ کی شہادت امت کے لئے ایک ایسا غمناک باب ہے جسے یاد کر کے آج بھی دل بھر آتا ہے۔ ایک نرم دل، باحیا اور قرآن مجید سے محبت کرنے والا خلیفہ، ظلم سہہ گیا مگر امت کو خانہ جنگی میں مبتلا ہونے نہ دیا۔ آپؓ کا خون تاریخ میں صبر، وفا اور قربانی کی روشن علامت بن گیا۔ آج اگر ہمارے گھروں سے حیا کم ہورہی ہے، دل عبادت کی حقیقی لذت سے نا آشنا ہیں اور دنیا کی محبت بڑھتی جارہی ہے۔ ایسے حالات میں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں پھر سے پکار رہی ہے۔ اپنے کردار کو سنوارنے، دلوں کو پاک کرنے، عبادات سے اُنسیت، قرآن سے قربت اور اللہ و رسولؐ سے سچی وابستگی پیدا کرنے کے لئے تیسرے خلیفۂ راشد حضرت عثمانِ غنی ؓکی سیرت ایک روشن چراغ ہے۔ جو اس چراغ سے روشنی لے گا، ان شاء اللہ اس کی زندگی بھی خیر، برکت اور سکون سے بھر جائے گی۔