قرآن مجید میں دونوں کا ذکر ہے ، ایک انسان کا دشمن ہے اور دوسرے میں خیر ہے، اپنا محاسبہ کیجئے کہ کیفیت کیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 30, 2026, 6:45 PM IST | Muhiuddin Ghazi | Mumbai
قرآن مجید میں دونوں کا ذکر ہے ، ایک انسان کا دشمن ہے اور دوسرے میں خیر ہے، اپنا محاسبہ کیجئے کہ کیفیت کیا ہے۔
شح (شُ ح ح) اور صلح (ص ل ح) ۔ یہ محض دو الفاظ نہیں، بلکہ دو اہم انسانی رویے ہیں۔یہ دونوں رویے ایک دوسرے کی مکمل ضد ہیں۔ ایک انسان کو پستی کی طرف لے جاتا ہے تو دوسرا اسے بلندی عطا کرتا ہے۔
ماہرین لغت کہتے ہیں کہ شح بخل سے زیادہ سنگین چیز ہے۔ روک رکھنے اور نہ دینے کی کیفیت اس میں بخل سے زیادہ شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ بخل صرف مال کی حد تک ہوتا ہے، جب کہ شح مال میں تو ہوتا ہی ہے، اس کے علاوہ نیکی کے ہر کام میں بھی ہوتا ہے۔ بخیل صرف مالی مدد میں پیچھے رہتا ہے، جب کہ شحیح کسی کے ساتھ کسی بھی طرح کی بھلائی نہیں کرتا۔ ایک اور پہلو یہ ہے کہ شح میں کنجوسی اور لالچ دونوں جمع ہوجاتے ہیں۔ جو صرف کنجوس ہوتا ہے وہ دوسروں کے مال سے مطلب نہیں رکھتا، بس اپنے مال کو بچانے کی فکر میں رہتا ہے۔ جب کہ جو کنجوس اور لالچی دونوں ہوتا ہے (جسے شحیح کہا جاتا ہے) وہ ایک طرف اپنے مال کو دوسروں پر خرچ نہیں کرتا اور دوسری طرف دوسروں کے مال کو ہتھیا لینا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عہدِ اضطراب میں نماز کی معنویت
شح کی معنویت کو ادا کرنے والا لفظ ”خود غرضی“ہے۔ یعنی صرف اپنی فکر۔ خود غرض انسان کو صرف اپنی پروا ہوتی ہے باقی کسی کی پروا نہیں ہوتی۔ اس کو سب کچھ مل جائے اور باقی کسی کو کچھ نہ ملے۔ اسے خود جیتنے اور دوسروں کو ہرانے میں مزا آتا ہے۔وہ دوسروں کے جذبات کی بالکل رعایت نہیں کرتا اور اپنے جذبات کی پوری پوری تسکین چاہتا ہے۔
صلح کی معنویت کو ادا کرنے والا لفظ ”ایثار“ ہے۔ دوسروں کے بھلے کیلئے اپنے حقوق سے دست برداری ۔ ایثار پسند انسان دوسروں کا خیال کرتا ہے۔ وہ دوسروں کی خاطر اپنے کچھ مفادات سے دست بردار بھی ہوجاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ سب جیت جائیں۔ سب کی جیت کیلئے وہ کبھی کبھی ہارنا بھی گوارا کر لیتا ہے۔شح نفس پرستی کا مظہر ہے اور صلح بے نفسی کا۔ جتنی زیادہ نفس پرستی ہوگی اتنا ہی زیادہ شح والا رویہ ہوگا اور جتنی زیادہ بے نفسی ہوگی اتنا ہی زیادہ صلح والا رویہ ہوگا۔ قرآن میں صلح کی تعریف اس طرح کی گئی ہے: ’’اور صلح خیر ہے۔‘‘ (النساء:۱۲۸)
یہ بھی پڑھئے: امت اگر نبیؐ کے طریقوں پر عمل نہ کرے تو اس سے بڑھ کر محرومی اور بدبختی کیا ہوگی؟
دو لفظوں پر مشتمل یہ زندگی کا نہایت قیمتی اصول ہے۔جو شخص صلح کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ اپنے حق میں ہی نہیں، پورے انسانی سماج کے حق میں بھلائی کا دروازہ کھولتا ہے۔
قرآن مجید میں شح کو انسان کے لئے بہت بڑا خطرہ اور کامیابی کی راہ کی بہت بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے، جب کہ شح سے چھٹکارے کو نجات کا راستہ قرار دیا گیا۔ فرمایا گیا:
’’اور جو خود اپنی خود غرضی سے بچالیے گئے، تو وہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (الحشر:۹، التغابن:۱۶)
شح تو دراصل نفس ہی کی کیفیت ہے۔ یہاں اس کے ساتھ ”نفسہ“ کہنے سے جملے کی معنویت میں ایک لطیف اور اہم اضافہ ہوا ہے۔ وہ یہ کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا اپنا شح ( خود غرضی) ہے ، اس لئے اسے خود اپنے شح سے بچنے کی فکر کرنا چاہئے۔ لوگ عام طور سے دوسروں کی خود غرضیوں سے ڈرتے اور ہوشیار رہتے ہیں۔ اور ایسا ہونا بھی چاہئے کیوں کہ خود غرض انسان اپنے آس پاس والوں کو نقصان ہی پہنچاتا ہے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا۔ وہ کب کس کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دے اور کس کی آستین کا سانپ بن جائے کچھ پتہ نہیں رہتا۔ لیکن خود غرض انسان دوسروں کو جو بھی نقصان پہنچاتا ہے وہ دنیا کی حقیر و فانی متاع کا نقصان ہوتا ہے۔ خود غرض انسان خود اپنا جو نقصان کرتا ہے وہ ناقابل تلافی ہوتا ہے۔ خود غرضی انسان سے اس کا جوہر چھین لیتی ہے۔ وہ انسان پرنیکی اور بھلائی کے دروازے بند کردیتی ہے۔ اس طرح وہ انسان کو حقیقی کامیابی کے راستے سے بہت دور کردیتی ہے۔
آپﷺ کا سیاسی کردار بھی ہر اعتبار سے عدیم المثال اور ہر لحاظ سے بے نظیر تھا
قرآن مجید میں دو جگہوں پر یہ بات کہی گئی کہ جسے خود اس کی اپنی خود غرضی سے بچالیا گیا، وہی کامیابی کا مستحق ٹھہرا۔
دوسروں کی خود غرضیوں کے بُرے اثرات سے بچنے کے لئے ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے، لیکن زیادہ اور شدید فکر اس کی ہونی چاہئے کہ کہیں خود غرضی کے جراثیم ہمارے وجود میں پنپنے نہ لگیں۔ اس حوالے سے اپنا شدید احتساب کرنا چاہئے۔ یاد رکھیں کہ آپ کے لئے دوسروں کی خود غرضی سے زیادہ ، خود آپ کی اپنی خود غرضی خطرناک اور نقصان دہ ہے۔
صلح کا راستہ اختیار کرنا آسان نہیں ہے جب کہ شح کا راستہ اختیار کرنا بہت آسان ہے۔ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے :
’’نفس تنگ دلی کی طرف جلدی مائل ہو جاتے ہیں۔‘‘ (سورہ النساء:۱۲۸)
شح کا رویہ انسان کی نفسانی خواہش کے مطابق ہوتا ہے اس لئے نفس اسے سراہتا ہے جب کہ صلح کا رویہ نفسانی خواہشات کو دبانے کے بعد ہی اختیار کیا جاسکتا ہے، اس لئے نفس کی طرف سے شدید مزاحمت ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: علم ِسیرت تہذیب وتمدن، قوم وملت اور پیغامِ الٰہی کے آغاز و ارتقاء کا احاطہ کرتا ہے
شح کیلئے قوت ارادی کی ضرورت نہیں ہوتی، نفسانی جذبات کے بہاؤ میں انسان بہتا چلا جاتا ہے۔ صلح کے لئے مضبوط قوت ارادی درکار ہوتی ہے جو جذبات کے سیلاب پر بند لگاسکے۔اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی تنازع ہوتا ہے توشح والے رویے ہر طرف سے سامنے آنے لگتے ہیں لیکن صلح والا رویہ بمشکل کہیں سے سامنے آتا ہے۔شوہر اور بیوی کے تنازعات ہوں، بھائیوں کے درمیان وراثت کی تقسیم کا تنازع ہو، پڑوسیوں کے درمیان راستے کے مسائل ہوں یا کسی بستی والوں کے درمیان کوئی اجتماعی مسئلہ پیش آجائے، ایسے ہر موقع پر شح کی کیفیت کا غلبہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے تنازعات و مسائل کا حل بہت دشوار ہوجاتا ہے۔ اگر دونوں طرف سے صلح کا رویہ اختیار کیا جائے تو معاملہ بڑی آسانی سے نپٹ جائے مگر ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے۔
رشتوں اور تعلقات کے لئے شح زہر ہے جب کہ صلح تریاق ہے۔شح کی وجہ سے رشتوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ رشتے خود غرضی اور مفاد پرستی کی زد پر رہتے ہیں۔ ہر کوئی حق سے زیادہ لینا چاہتا ہے اور اپنے اوپر عائد فرض کو فراموش کردیتا ہے جب کہ صلح کے نتیجے میں رشتے پائیدار ہوتے ہیں۔لوگوں کی توجہ حقوق سے زیادہ فرائض کی طرف رہتی ہے۔
انسانی تعلقات کے جدید ماہرین کے یہاں ہار اور جیت کے حوالے سے چار صورتیں بیان کی جاتی ہیں۔
ایک یہ کہ میں جیت جاؤں وہ ہار جائے۔ (WIN LOSE)یہ کھیل کے مقابلوں میں ہو تو بہت اچھا ہوتا ہے اور رشتوں میں ہو تو بہت خراب ہوتا ہے۔
دوسری یہ کہ میں اور وہ دونوں جیت جائیں۔(WIN WIN)یہ بزنس اور تجارت کا کامیاب فارمولہ ہے۔ رشتوں میں کبھی قابل عمل ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا ہے۔
تیسری یہ کہ وہ جیت جائے اور میں ہار جاؤں۔ (LOSE WIN)یہ رشتوں کو نباہنے اور ٹوٹتے رشتوں کو سنبھالنے کے لئے اکسیر مانا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کیا غیر ہی ہماری رُسوائی کے ذمہ دار ہیں؟
چوتھی صورت ہے کہ دونوں ہار جائیں۔ (LOSE LOSE) یہ اس وقت ہوتا ہے جب لوگ حسد اور دشمنی میں اندھے ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ سامنے والے کو نقصان پہنچانے کے لئے خود بھی نقصان اٹھانا قبول کرلیتے ہیں۔
اگر قرآنی اصطلاح کو سامنے رکھیں تو شح یہ ہے کہ میں جیت جاؤں دوسرا ہار جائے اور صلح یہ ہے کہ میں ہارجاؤں اور سامنے والے کو جیتنے دو ں تاکہ رشتے کو بچالیا جائے۔
شح کا شیوہ اختیار کرنے والے لوگ سماج کیلئے غیر مفید اور بوجھ ہوتے ہیں جبکہ صلح کا شیوہ اختیار کرنے والے تعلقات کے محافظ اور سماج کے محسن ہوتے ہیں۔ (زندگئ نو)