Inquilab Logo Happiest Places to Work

ربّ کی معرفت کا ذریعہ

Updated: March 20, 2026, 4:00 PM IST | Dr. Sayyeda Farzana | Mumbai

انسان علم کے جس شعبے میں جتنی گہرائی سے مطالعہ کرتا جائے گا، جتنی زیادہ مہارت و کمال حاصل کرے گا، اتنی ہی اس میں رب تعالیٰ کی معرفت و خشیت بڑھے گی جو اس کے دل و دماغ کا حصہ بن جائیگی اور وہ اس کی قدرت و حکمت و عظمت کا قائل ہوتا جائیگا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اللہ تعالیٰ غیب کی باتوں کو جاننے والا اور اس کا علم تمام علو م پر محیط ہے:

’’آسمانوں اور زمین کی چابیاں اسی کے پاس ہیں ، اس کے سوا کوئی ان کے بارے میں نہیں جانتا۔ وہی جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو کچھ سمندر میں ہے۔ اور کوئی پتّا بھی گرتا ہے تو اسے بھی وہ جانتا ہے۔ زمین کی تہوں میں موجود دانے کو بھی وہی جانتا ہے، اور ہر خشک و تر کو اس نے واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے۔‘‘ (الانعام:۵۹ )

اللہ کا علم قدیم زمان و مکان سے ماورا ہے، جب کہ انسان کا علم کسبی ہے جسے وہ پیدائش کے بعد سے بتدریج کسب و تجربے سے حاصل کرتا ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: ہولناک دن کی کیفیات،غفلت کا علاج، ابرہہ کا انجام اور شر سے پناہ کی دُعا سنئے

اوّلین وحی میں رسول اللہ ﷺکو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی ’صفت العلیم‘ کا تعارف دیا گیا ۔وہ ذات جو تمام علوم کا سرچشمہ و منبع ہے۔ اس کے علم اور انسان کے علم میں کوئی نسبت نہیں ہے۔ اللہ کا علم لامحدودہے، جب کہ انسان کا علم محدود اور ناقص ہے ۔ العلیم ہستی ہی جانتی ہے کہ انسانوں کی اصلاح اور خیر و بھلائی کن امور میں پوشیدہ ہے، اس کا علم ہر علم والے کے علم پر حاوی اور محیط ہے: 

’’اور ایک علم والا ایسا ہے جو ہر صاحب ِعلم سے بالاتر ہے۔‘‘ (یوسف:۷۶) 

اللہ کے مطلق ،قدیم، لامحدود، کامل و اکمل علم کی مثال سورۂ کہف میں حضرت موسیٰ ؑکے سفر کے دوران سامنے آتی ہے:’’اور لوگ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے سوائے اس کے جووہ خود چاہے۔‘‘

دُنیا کے بے شمار علوم کی اگر درجہ بندی کی جائے تو امام غزالیؒ کے مطابق چار طرح کے علوم سیکھنا لازم ہیں : (۱) العلم باللہ ، اللہ کے بارے میں علم (۲)العلم بامرہ، اس کے احکامات کے بارے میں علم (۳) العلم بارادتہ، اس کی مرضی کا علم اور (۴) العلم  بخلقہ، اس کی مخلوقات کا علم۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے ڈرتے ہیں۔ بے شک اللہ زبردست اور درگزر فرمانے والا ہے ۔‘‘ (الفاطر۳۵: ۲۸)

اس آیت کا پچھلی آیات سے ربط دیکھیں : ’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس کے ذریعے طرح طرح کے پھل نکالے، جن کے رنگ مختلف ہیں۔ اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ قطعے ہیں جن کے رنگ مختلف ہیں اور کچھ گہرے سیاہ ہیں۔ اور اسی طرح انسانوں، جانوروں اور مویشیوں میں بھی مختلف رنگ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں، بے شک اللہ سب پر غالب اور بہت بخشنے والا ہے۔‘‘ (الفاطر: ۲۷-۲۸) یہاں علم سے مراد اللہ تعالی ،اس کی قدرت، اس کی طاقت، اس کی تخلیقی عظمت اور خلاّقی و فن کی معرفت ہے جو عقلوں کو حیرت زدہ کر دے ۔

یہ بھی پڑھئے: صدقہ ٔ فطر (فطرہ): مقصد ، حکمت اور ہماری ذمہ داری

صرف ان آیات میں ہی غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ بارش کے نظام (Water Cycle)،  زراعت کے نظام (Agriculture)،علم نباتات (Botany) سے متعلق، پہاڑوں کی دنیا سے متعلق، علم الارض (Earth Science) اور علم زمین شناسی (Geology) کے موضوعات، انسانوں اور حیوانات کی دنیا (Zoology)، رنگ و نسل و زبان کا اختلاف (Dialects)، بولیاں (Linguistics)، سب سے متعلق اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے آفاقی علم کی نشانیاں ہمیں نظر آتی ہیں:

’’کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لئے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں تم پر تمام کردی ہیں؟‘‘(لقمان۳۱: ۲۰)

درحقیقت اللہ نے آسمان و زمین میں جو کچھ بھی ہے، انسان کے تابع کر دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انسان نے اللہ کے دیے ہوئے علم و عقل کی بنیاد پر آسمانوں کو پرکھا، سمندروں کو چیرا ، پہاڑوں کو سر کیا اور زمین کی تہوں میں جھانکا اور وقت کے ساتھ ساتھ ہر شے کے علم کی بنیاد رکھتا چلاگیا۔ یہ علوم و مشاہدات جدید سائنس سے ہزاروں سال پہلے بھی موجود تھے اور قیامت تک ان کی دریافت جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۶): تراویح کا حال یہ کہ بچےآگے، خادم صاحب ڈنڈا لئے پیچھے

 تدبر اور غور و فکر کی دعوت: انسان علم کے جس شعبے میں جتنی گہرائی سے مطالعہ کرتا جائے گا، جتنی زیادہ مہارت و کمال حاصل کرے گا، اسی قدر ہی اس میں رب تعالی کی معرفت و خشیت بڑھے گی جو اس کے دل و دماغ کا حصہ بن جائے گی اور وہ اس کی قدرت و حکمت و عظمت کا قائل ہوتا جائے گا۔  ان علوم کے حصول کے بعد بھی اگر کوئی رب کو نہ پہچان سکا، تو یہ بات اس کے سطحی علم کی نشاندہی کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK