Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان ڈائری (۲۶): تراویح کا حال یہ کہ بچےآگے، خادم صاحب ڈنڈا لئے پیچھے

Updated: March 17, 2026, 2:52 PM IST | Afzal Usmani | Mumbai

افطار کا وقت قریب آیا تو والد صاحب، دونوں بڑے بھائی اور بچے، سبھی دسترخوان کے گرد جمع ہوگئے۔ بچوں نے اپنے ننھے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی اور اسی لمحے اذان کی آواز بلند ہوگئی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

عصر کی نماز سے فراغت کے بعد مَیں افطار کی تیاری میں مصروف ہوگیا۔ جس دن گھر پر رہتا ہوں، پھل کاٹنا اور تقسیم کرنا میری ذمہ داری ہوتی ہے۔ اُس دن بھی یہی معمول تھا۔ پھل کاٹنے کے دوران چھوٹے بھانجے اور بھتیجے بھی آتے جاتے رہے۔ انہوں نے میرا ہاتھ تو نہیں بٹایا مگر ادب سے بیٹھ گئے۔ اُن کا اس طرح بیٹھنا ظاہر کررہا تھا کہ اُنہیں افطار کا بے چینی سے انتظار ہے۔

وطن میں، ہمارے خاندان کا طریقہ تھا کہ گھر کا ہر چھوٹا بڑا فرد دسترخوان پر اکٹھا ہوتا تھا اور  افطار سے پہلے اجتماعی دعا ہوتی تھی۔ ممبئی آنے کے بعد بھی ہم لوگوں نے اس معمول کو برقرار رکھا ہے تا کہ نئی نسل سیکھے جس کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ اسلامی روایات سے دور ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قیامت کی منظرکشی، نافرمانوں اور فرمانبرداروں کی حالت اور جنات کا قبول اسلام

افطار کا وقت قریب آیا تو والد صاحب، دونوں بڑے بھائی اور بچے، سبھی دسترخوان کے گرد جمع ہوگئے۔ سب دُعا میں شریک ہوئے ان میں بچے بھی تھے جو اپنے ننھے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگ رہے تھے۔ چند ہی ثانیوں میں اذان کی آواز بلند ہوگئی۔ بچوں نے اپنی پسندیدہ چیزیں اٹھا کر کھانا شروع کر دیا اور ہم بھی ان کا ساتھ دینے لگے۔ والد صاحب نے انہیں پھلوں کی طرف بھی متوجہ کیا مگر بچوں نے منہ بنا کر کہا کہ انہیں پھل زیادہ پسند نہیں۔ نمکین چیزیں ہی اچھی لگتی ہیں۔

بچوں کی اس بے اعتنائی پر پہلے والد صاحب اور پھر بڑے بھائی نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ والد صاحب کہنے لگے کہ ہمارے زمانے میں جب گاؤں میں افطار کیا جاتا تھا اور مشترکہ خاندانی نظام رائج تھا تو اتنی ساری چیزیں میسر نہیں ہوتی تھیں جتنی آج ہیں۔ چھ یا اس سے زیادہ افراد پر مشتمل ایک خاندان کو کبھی دو سموسے، دو پکوڑے اور ایک کیلا ہی ملتا تھا۔ وہ بڑا مشکل وقت تھا۔ اتنا آسانیاں اور قسم قسم کی اشیاء جو آپ لوگوں کے سامنے ہیں اس کا تو ہم نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اتنے میں بھائی صاحب گویا ہوئے  کہ کبھی انگور اور سیب صرف دیکھنے کو ملتے تھے، کھانے کو نہیں۔ ہاں، کبھی کوئی مہمان چھوڑ جاتا تو اسے ہم اپنی خوش قسمتی گردانتے تھے۔ اس کے باوجود ہم نے صبر کیا اور خدا کا شکر ادا کیا۔ آج اللہ تعالیٰ نے وہ تمام نعمتیں تمہارے سامنے رکھ دی ہیں اور تم اس طرح بے اعتنائی ظاہر کر رہے ہو!

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۵): بقول خریدار، ٹھیلے والے کے شاعری نما فقرہ میں ’قافلہ‘ نہیں تھا

بچے، اپنے بڑوں کی یہ باتیں خاموشی سے سن رہے تھے، انہیں اس کا احساس نہیں ہوا کہ کیا کہا جارہا ہے۔ وہ زمانہ مَیں نے بھی نہیں دیکھا مگر اس کے بارے میں  والدین سے بارہا سنا  ہے اور ہر بار سننے کے بعد عجیب کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور زبان پر کلمہ تشکر جاری ہوجاتا ہے ۔

عشاء کی نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ مسجد کی بالائی منزل پر پہنچا تو وہی منظر سامنے تھا جو کئی برسوں سے مسلسل دیکھتا آیا ہوں۔ بچے آگے آگے اور خادم صاحب ڈنڈا لئے پیچھے پیچھے۔ شاید یہ صرف ہمارے محلے کی مسجد کا معاملہ نہیں بلکہ جہاں بھی بچے ہوتے ہیں اور تراویح کا اہتمام ہوتا ہے وہاں اکثر یہی منظر نظر آتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ گھر کے بڑے عام دنوں کی پنج وقتہ نماز (بالخصوص مغرب اور عشاء) یا رمضان میں نمازِ تراویح کیلئے نکلتے ہیں تو بچو ںکو بھی ساتھ لے لیتے ہیں۔ اُن کا مقصد صاف اور واضح ہے۔ وہ بچوں کو ’’مسجد والا‘‘ بنانا چاہتے ہیں ۔ یہ اچھی بات ہے مگر اس کے ساتھ ہی جو دوسری بات بہت ضروری ہے وہ اُن کو سمجھانا ہے کہ مسجد ادب کی جگہ ہے اور وہاں رہتے ہوئے آپ کو شوروغل نہیں کرنا ہے۔ مگر یہ ذہن سازی نہیں ہوتی اور بچوں کو شور مچانے کیلئے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اگر آپ آخری صفوں میں ہیں اور ان بچوں کی آوازیں آرہی ہیں تو اس لئے بھی دھیان بٹتا ہے کہ یہ دُنیا جہان کی باتیں کرتے اور بعض اوقات لڑتے جھگڑتے ہیں۔ آج ان کی ذہنی اور دینی تربیت پر توجہ نہ دی گئی تو خدشہ ہے کہ یہی بچے مستقبل میں دین سے دوری کا شکار ہو جائیں۔

رمضان صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ تربیت، شکر اور اصلاح کا بھی مہینہ ہے۔ ایک طرف افطار کے دسترخوان پر ربِ کریم کی عطا کردہ نعمتیں ہمیں اس کی رحمت یاد دلاتی ہیں اور دوسری طرف مسجد میں بچوں کی چہل پہل ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ بچے اب بھی اپنے دین سے قریب ہیں۔ اگر آج انہیں محبت، حکمت اور حسنِ تربیت کے ساتھ دین کی طرف راغب کیا جائے تو کل یہی بچے مسجدوں کی رونق اور معاشرے کی اصلاح کا سبب بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہزار مہینوں سے بہتر رات حاصل ہوجائے تو صاحبِ قدر بن جائیں

رمضان کے متعدد پیغامات میں سے ایک یہ ہے کہ ہم نعمتوں کی قدر کریں، شکر گزار بنیں اور دین کی صحیح فکر اپنے اندر پیدا کریں تاکہ اپنی نئی نسل کی صحیح تربیت کرسکیں۔ یہ ہم نے نہیں کیا تو  سوشل میڈیا کریگا جو نہایت تکلیف دہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK