کیا ہم اُس لمحے کے منتظر ہیں جب انہیں شکستہ دلی کے ساتھ لحد میں اتاریں، پھر ان کی میّت پر جاکر آہیں بھریں؟
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 3:31 PM IST | Dr Adham Sharqawi | Mumbai
کیا ہم اُس لمحے کے منتظر ہیں جب انہیں شکستہ دلی کے ساتھ لحد میں اتاریں، پھر ان کی میّت پر جاکر آہیں بھریں؟
*یہ ایک نئے ہجری سال کا آغاز ہے!!
ہمہ تن گوش ہوکر سنو! آپسی تعلقات سکون وقرار، دل جوئی، باہمی تعاون اور قلبی آسودگی کے لئے ہوتے ہیں!
جو تمہار۱ باطنی سکون وقرار غارت کرے، وہ تمہاری زندگی میں رہنے کے قابل نہیں! جو اپنے جذبات میں غیر مستقل ہو، اس کی تمہیں کوئی حاجت نہیں!
جو ہر کسی کے لئے میسّر ہو، اس سے گریزاں رہو! خود کو کبھی دوسرا موقع نہ بناؤ، نہ کسی کی فہرستِ انتخاب میں ایک متبادل۔ ہمیشہ اُن کے ہم نشیں بنو جو تمہیں سب پر مقدم رکھیں!… دو رُخی طبیعت، تضاد فکری اور تلون مزاجی کا علاج نفسیاتی اسپتالوں میں ہے، تمہاری زندگی میں نہیں!
* یہ ایک نئے ہجری سال کا آغاز ہے!اپنے رشتوں کو سنوارو!
کسی محبوب کو جسے الوداع کہہ چکے ہو، کسی بھائی سے جس سے ترکِ تعلق کرچکے ہو، کسی دوست کو جس سے عہدِ وفا توڑچکے ہو، کسی ہم سایے سے جس سے خفگی پیدا ہوگئی ہو۔ دنیا اتنی طویل نہیں کہ ہم اسے ہجر وفراق میں گزاریں اور نہ ہی اتنی قیمتی کہ اس پر باہم دست وگریباں رہیں!
کیا ہم اُس لمحے کے منتظر ہیں جب انہیں شکستہ دلی کے ساتھ لحد میں اتاریں، پھر ان کی میّت پر جاکر آہیں بھریں؟ جب زندگی بھر ہم نے صرف سرد مہری سے کام لیا تو جنازوں پر بہنے والے آنسو بیکار اور لاحاصل ہیں! اور ہاں! یہ بات پہلی بات سے متصادم نہیں؛
رشتے بھی گھروں کی مانند ہوتے ہیں: کچھ مرمت کے لائق ہوتے ہیں اور کچھ کو مسمار کر دینا ہی بہتر ہوتا ہے!
یہ بھی پڑھئے: مستحب یہ ہے کہ بچے کی ولادت کے بعد اس کے کان میں اذان واقامت کہہ دی جائے
* یہ ایک نئے ہجری سال کا آغاز ہے! ذہن نشیں کرلو! یہ دین تمہارے ساتھ ہو یا تمہارے بغیر، غالب آ کر رہے گا!
اگر تم مسجدوں سے منہ موڑو گے تو کوئی اور اُنہیں آباد کرے گا، اگر تم قرآن سے اعراض کروگے تو کوئی دوسرا اس کی تلاوت کرے گا! قافلہ اللہ کی جانب بڑھ رہا ہے اور وہ جنت کے دروازے پر ہی رُکے گا، پس اگر تم اس میں شامل نہ ہوئے تو صرف تمہارا ہی خسارہ ہوگا!
* یہ ایک نئے ہجری سال کا آغاز ہے!یاد رکھو! حق و باطل کی کشمکش اُس لمحے تک جاری رہے گی جب حضرت اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے!
باطل خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، انجام کار مغلوب ہو کر رہے گا اور حق چاہے کتنا ہی کمزور وناتواں نظر آئے، بالآخر سرخرو ہوگا!
اپنا مقام پہچانو! اس سے بڑا نادان کوئی نہیں جو اپنی آخرت اپنی دنیا کے عوض فروخت کر ڈالے، سوائے اُس کے جو اپنی آخرت کسی دوسرے کی دُنیا پر قربان کردے!
* یہ ایک نئے ہجری سال کا آغاز ہے! خدا سے اپنا تعلق درست کرلو اور اس کی بارگاہ سے اپنا رشتہ ٔ بندگی استوار کرلو!
اگر کسی کارِ معصیت میں مستقل گرفتار ہو اور درحقیقت ہم سب گناہ گار ہیں، تو آج وہ دن ہے جب تم اپنی توبہ کی تاریخ رقم کرسکتے ہو!
* یہ ایک نئے ہجری سال کا آغاز ہے!لہٰذا! قرآن کا ایک حصہ روز پڑھنے کا عہد کرو! یہ وعدہ کرو کہ چاہے طوفان آجائے، تم اس کو کبھی نہ چھوڑو گے!
تسبیح کو اپنا مستقل معمول بنالو! ایسا ذکر جس سے تم کبھی غافل نہ ہو، خواہ دنیوی کاموں کی بھیڑ تمہیں کتنا ہی الجھائے!
اپنے اور اللہ کے درمیان کوئی خفیہ نیکی طے کرلو! راہِ خدا میں صدقہ و خیرات کرو، گرچہ مختصر ہو، خواہ ایک روٹی کسی بھوکے کو دینا ہو، جس کا علم رب تعالیٰ کے علاوہ کسی کو نہ ہو!… کسی بیمار کی دوا کا بندوبست، جس کی خبر صرف آسمانوں میں ہو!
دو رکعت نمازِ اشراق، جنہیں کوئی نہ دیکھے،روزانہ پڑھتے رہو!
اور نمازِ تہجد (بھی پڑھو)، جس کے ذریعہ تم رات کی خاموشی میں خدا کے در پر دستک دو! عام لوگوں سے دور، حتیٰ کہ اہلِ خانہ کی نگاہ سے بھی چُھپ کر!
یہ بھی پڑھئے: زندگی کی ٹھوکریں کچھ نہ کچھ ضرور سکھادیتی ہیں
* یہ ایک نئے ہجری سال کا آغاز ہے!کوئی نفع بخش مشغلہ اختیار کرو!
ایسی کتابیں جو تمہارا مستقبل تابناک کرسکیں، ایسے پروگرام جو تمہیں کچھ سکھائیں، ایسی علمی نشستیں جن سے تم جُڑ جاؤ، کوئی سماجی منصوبہ جس سے تم قوم کے لئے کچھ کرسکو، یا کوئی رضاکارانہ عمل جس میں تم اپنا وجود وقف کردو!
* یہ ایک نئے ہجری سال کا آغاز ہے!یاد رکھو! اکثر لوگ اپنی حیات میں کسی مناسب شخص کے انتظار میں رہتے ہیں، لیکن بہت کم ایسے ہیں جو خود کو مناسب اور قابل بنانے کے لئے جد وجہد کرتے ہیں!
سب کو فصل کاٹنا پسند ہے، لیکن کچھ ہی لوگ زمین کو جوتتے، بیج بوتے، پانی دیتے اور نگہبانی کرتے ہیں۔ تم ان بعض لوگوں میں سے ہوجائو جو دوسروں کے لئے صبحِ امید اور روشنی کی کرن بن کر نمودار ہوتے ہیں!
زنہار! اس بڑی جماعت میں شامل نہ ہونا جو لوگوں کی امیدوں کو خاکستر کردیتی ہے!
* یہ ایک نئے ہجری سال کا آغاز ہے!
یاد رکھو! سالِ گزشتہ جن تمام لوگوں کا وقتِ اجل آچکا، وہ بھی اسی زعمِ فاسد میں گرفتار تھے کہ موت ابھی دور اور بہت دور ہے! … جیسے ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہر نماز کو اس طرح پڑھو جیسے یہ تمہاری آخری نماز ہو، اسی طرح اس سال کو بھی اس طرح سمجھو جیسے یہ آخری سا ل ہو۔ اسے الوداعی سال سمجھ کر جیو!
کیا خبر! اس کے بعد کا ہجری سال ملے نہ ملے اور یہ آخری سال ہو!
(ترجمہ: شاہد رضا نجمی ازہری)