زندگی میں ہم دولت، عہدہ، شہرت اور ظاہری ترقی کو روشنی سمجھ کر ان کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ ابتدا میں یہ سب ہمیں کامیابی کی چمک دکھاتے ہیں مگر جب دل سکون سے خالی ہو جاتا ہے، رشتے بکھرنے لگتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ہم جس روشنی کے پیچھے تھے وہ دراصل سراب تھی۔
نجات اور کامیابی کا راستہ اسی وقت کھلتا ہے جب دل اللہ کی طرف متوجہ ہو اور زندگی قرآن و سنت کی رہنمائی میں ڈھلنے لگے۔ تصویر: آئی این این
غفلت سے بیداری کا سفر دراصل انسان کے باطن میں برپا ہونے والے ایک خاموش انقلاب کا نام ہے۔ جب انسان دنیا کی رنگینیوں،وقتی آسائشوں اور خواہشات کے جھرمٹ میں الجھ کر اپنی اصل حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے تو اس کا دل رفتہ رفتہ اپنی روحانی روشنی کھونے لگتا ہے۔ وہ زندگی کو صرف ظاہری کامیابیوں، مال و دولت اور شہرت کی حد تک محدود سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ اسلام انسان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کے لئے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کا اصل مقصد اپنے خالق کی معرفت حاصل کرنا اور اس کی رضا کے راستے پر چلنا ہے۔ اگر یہاں غفلت برتی گئی تو انسان اپنے حقیقی وجود اور مقصد ِ حیات سے دور ہوجاتاہے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت سے دل میں بیداری کی کوئی کرن روشن ہوتی ہے تو انسان اپنے گمشدہ راستے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔ وہ اپنے اعمال، ترجیحات اور زندگی کے رخ پر غور کرنے لگتا ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ اصل منزل دنیا کی عارضی کامیابی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی دائمی کامیابی ہے۔ اسلامی تعلیمات انسان کو یہی پیغام دیتی ہیں کہ وہ غفلت کے اندھیروں سے نکل کر ایمان، تقویٰ اور اصلاحِ نفس کے ذریعے اپنی زندگی کو سنوارے اور اپنے سفر کو اس منزل کی طرف موڑ دے جہاں کامیابی ہمیشہ کے لئے مقدر بن جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہماری پوری زندگی اخلاقی حدود کی پابند ہونا چاہئے
قرآن مجید غفلت کو دل کی ایسی تاریکی قرار دیتا ہے جو انسان کو حق دیکھنے اور سمجھنے سے محروم کر دیتی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اور بیشک ہم نے جہنم کے لئے جنوں اور انسانوں میں سے بہت سے (افراد) کو پیدا فرمایا وہ دل (اور دماغ) رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) سمجھ نہیں سکتے اور وہ آنکھیں رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) دیکھ نہیں سکتے اور وہ کان (بھی) رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) سن نہیں سکتے، وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ (ان سے بھی) زیادہ گمراہ، وہی لوگ ہی غافل ہیں۔‘‘ (سورۃ الاعراف:۱۷۹) یہ غفلت دراصل وہ ظلمت ہے جو دل پر چھا کر انسان کو اس کی اصل حقیقت سے دور کر دیتی ہے۔اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’لوگوں کے لئے ان کے حساب کا وقت قریب آپہنچا مگر وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔‘‘ (سورۃ الانبیاء:۱) یہ آیت انسان کو جھنجھوڑتی ہے کہ آخرت قریب ہونے کے باوجود اگر زندگی بے پروائی میں گزر رہی ہے تو یہ غفلت سب سے بڑا خسارہ ہے، کیونکہ انسان دنیا میں مگن ہو کر اصل انجام کو بھلا بیٹھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غرور اور کبر قلبی امراض کی جڑ اور انسانی تباہی کا نقطۂ آغاز
اس تناظر میں جب ہم اپنا محاسبہ کرتے ہیں تو دل پر ایک سنجیدہ سوال دستک دیتا ہے کہ ہم اپنے اصل مقصد ِ حیات سے کس قدر دور جا چکے ہیں۔ بظاہر ہماری آنکھیں روشنی کی تلاش میں ہیں، ہماری دوڑ ترقی، کامیابی اور آسودگی کے نام پر جاری ہے مگر افسوس کہ جس روشنی کو ہم منزل سمجھ بیٹھے ہیں وہ اکثر ہمیں مزید اندھیروں کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ روشنی جو اللہ کی ہدایت سے خالی ہو، انسان کو راستہ دکھانے کے بجائے گمراہی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اسی لئے آج کا انسان جتنا آگے بڑھتا نظر آتا ہے، اتنا ہی اندر سے خالی اور بے سمت ہوتا جا رہا ہے۔ یاد رکھیں! اصل نور وہی ہے جو دل کو رب سے جوڑ دے، جو زندگی کو مقصد عطا کرے اور انجام کو سنوار دے۔ جب تک ہم اپنی تلاش کا رخ اس حقیقی روشنی کی طرف نہیں موڑیں گے، ہماری یہ سرگردانی ہمیں روشنی نہیں بلکہ مزید تاریکیوں کے حوالے کرتی رہے گی۔
اس حقیقت کو ایک سادہ مگر عملی مثال سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ جیسے کوئی مسافر رات کے اندھیرے میں سفر کر رہا ہو، دور سے اسے ایک تیز چمکتی ہوئی روشنی نظر آرہی ہو، وہ سمجھتا ہو کہ شاید یہی منزل ہے یا کم از کم درست راستہ دکھانے والی علامت۔ وہ اسی روشنی کے پیچھے چل پڑتا ہو مگر جب قریب پہنچتا ہو تو معلوم ہوتا ہو کہ وہ روشنی کسی دلدل کے کنارے جلنے والی آگ تھی، جس نے راستہ دکھانے کے بجائے اسے مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ غور کریں کہ اگر اس مسافر کے پاس درست نقشہ اور معتبر رہنمائی ہوتی تو وہ جان لیتا کہ اصل راستہ وہ نہیں جہاں بظاہر چمک ہو، بلکہ وہ ہے جو محفوظ اور منزل تک پہنچانے والا ہو۔
یہ بھی پڑھئے: پانی نعمت ِ عام ہے لیکن اس کا بھی حساب ہوگا
بالکل اسی طرح آج کی زندگی میں ہم دولت، عہدے، شہرت اور ظاہری ترقی کو روشنی سمجھ کر ان کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ ابتدا میں یہ سب ہمیں کامیابی کی چمک دکھاتے ہیں مگر جب دل سکون سے خالی ہو جاتا ہے، رشتے بکھرنے لگتے ہیں اور زندگی بے مقصد محسوس ہونے لگتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ ہم جس روشنی کے پیچھے تھے وہ دراصل سراب تھی۔
اس بحث کے بعد ہم اس واضح نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سب سے پہلی اور بنیادی ضرورت صحیح سمت کے انتخاب کی ہے۔ جب سمت ہی غلط ہو تو رفتار اور محنت دونوں انسان کو منزل کے قریب کرنے کے بجائے اس سے مزید دور لے جاتی ہیں اور انسان غفلت کے پردے میں دب جاتا ہے۔ اس لئے روشنی کی تلاش سے پہلے یہ طے کرنا ناگزیر ہے کہ ہم کس سمت میں بڑھ رہے ہیں، کیونکہ ہر چمکدار راستہ نور نہیں ہوتا اور ہر مقبول راستہ درست بھی نہیں ہوتا۔ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ صحیح سمت کا انتخاب صرف اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہی ممکن ہے؛ کیونکہ لا تعداد افراد اس راستے پر چل کر منزل پاچکے ہیں۔ اس اعتبار سے قرآن مجید اور احادیث وہ مستند رہنما ہیں جو انسان کو مقصد ِ حیات سے جوڑتے ہیں اور زندگی کے ہر موڑ پر درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت عطا کرتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن و حدیث کو محض تبرک یا روایت کے طور پر نہیں بلکہ ہدایت کے زندہ سرچشمے کے طور پر سیکھیں، پڑھیں اور ان کو سمجھیں۔
یہ بھی پڑھئے: انسان اپنی عزت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا
معلوم ہوا کہ غفلت کے اندھیرے کتنے ہی دلکش کیوں نہ ہوں، منزل نہیں بن سکتے۔ نجات اور کامیابی کا راستہ اسی وقت کھلتا ہے جب دل اللہ کی طرف متوجہ ہو اور زندگی قرآن و سنت کی رہنمائی میں ڈھلنے لگے۔ قرآنِ مجید اسی ابدی حقیقت کو بیان کرتا ہے: ’’اﷲ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے۔‘‘ (البقرہ: ۲۵۷) یہی وہ نور ہے جو فکر کو جِلا بخشتا ہے، سمت کو درست کرتا ہے اور انسان کو اس کی اصل منزل تک پہنچاتا ہے، جہاں غفلت نہیں، بیداری ہے؛ جہاں سراب نہیں، حقیقت ہے اور جہاں وقتی کامیابی نہیں بلکہ دائمی فلاح ہے۔