شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)نماز میں جسمانی حرکت۔ (۲)نماز میں سہو۔ (۳)صدقاتِ نافلہ کا مصرف۔ (۴)دعوت کا ایک مسئلہ۔
EPAPER
Updated: February 06, 2026, 4:35 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)نماز میں جسمانی حرکت۔ (۲)نماز میں سہو۔ (۳)صدقاتِ نافلہ کا مصرف۔ (۴)دعوت کا ایک مسئلہ۔
ایک شخص کی عادت ہے کہ وہ حالت نماز میں سجدے میں جاتے اور اٹھتے وقت کپڑا سمیٹ لیتا ہے، تو کیا نماز میں کوئی کراہت ہوگی؟ ایک صاحب تقریر میں کہہ رہے تھے کہ اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، کتاب و سنت کی روشنی میں جواب مطلوب ہے۔
صادق مصطفیٰ، اترا کھنڈ
باسمہ تعالیٰ ۔ھوالموفق:نماز میں حضورِ قلب اور خشوع وخضوع بھی ضروری ہے یعنی ذہن و دماغ اللہ کی طرف پوری طرح متوجہ ہوں۔ اس تصور کے ساتھ نماز کے ارکان اداکرے کہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہے اور معبود حقیقی ایک ایک لفظ کو سن اور ایک ایک حرکت کو دیکھ رہا ہے۔ حضور قلب کے بغیر جو نماز ادا کی جائے وہ ایسی عبادت ہےجو روح سے خالی ہے۔ علماء نے کتب فقہ میں وہ تمام صورتیں تفصیل سے بیان کردی ہیں جو نماز کے اخلاص میں مخل ہوسکتی ہیں، پھر کچھ امور تو وہ ہیں جن سے نماز ہی فاسد ہوجاتی ہے جبکہ کچھ کام مکروہ شمارکئے گئے ہیں ان میں سے کچھ مکروہ تحریمی اور باقی تنزیہی کہلاتے ہیں ۔نمازی کا بے ضرورت کپڑوں کو سمیٹنا بھی انھیں مکروہات میں سے ہے۔ حدیث شریف میں کپڑوں کو سمیٹنے وغیرہ کی ممانعت مروی ہے، اس کی کئی صورتیں ممکن ہیں، کھڑے کھڑے یا رکوع میں جاتے وقت یا سجدے سے اٹھتے ہوئے آستین دامن یا پاینچے وغیرہ سے چھیڑ چھاڑ کرے، یہ سب نماز کے مکروہات میں شامل ہیں۔ بے ضرورت ایسا عمل مکروہ تحریمی بھی ہوسکتا ہے ورنہ خلاف اولیٰ بہر حال ہوگا۔ واضح رہے کہ دوران نماز عمل کثیر بھی نماز کو فاسد کردیتاہے جس کی ایک تعریف یہ ہے کہ دیکھنےوالا اس حرکت کو دیکھ کر یہ سمجھے کہ یہ شخص نماز میں نہیں ہے جبکہ ایک تعریف یہ بھی ہے کہ ایسا کام جس میں دونوں ہاتھ مشغول ہو جائیں۔ چنانچہ اگر نمازی دونوں ہاتھوں سے پائینچے چڑھاتا ہو تو یہ عمل نماز کو فاسد کردیگا تاہم دامن وغیرہ سے چھیڑ چھاڑ سے فساد کا حکم تو نہ دیا جائےگا البتہ کراہت سے خالی بہر حال نہیں واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: عدت کا ایک سوال، معذور کی نماز اور کرسی کا استعمال، اوقات مکروہہ میں نماز
نماز میں سہو
معلوم یہ کرنا تھا اگر کوئی آدمی امام کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھ رہا ہے یا ظہر کی نماز پڑھ رہا ہے اور نماز کے بعد اسے یہ گمان ہوا کہ اس کی ایک رکعت نکلی ہوئی ہے اور وہ کھڑا ہو گیا پھر اسے یاد آیا کہ رکعت نہیں نکلی تھی چاروں ملی تھیں اور اس نے پانچویں رکعت پوری کر لی اور پھر سجدہ ٔ سہو کر کے نماز کو مکمل کر لیا تو کیا نماز ہو جائے گی یا اس کو نماز دہرانی پڑے گی؟ فیصل علی، جے پور
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: یہ شخص مقتدی کی حیثیت سے امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے اور امام کے سلام کے بعد شک کی وجہ سے پانچویں کے لئے کھڑا ہوگیا، اس صورت میں اگر اس نے امام کے ساتھ سلام پھیر دیا ہو تو نماز ہوگئی لہٰذا اس کے کھڑا ہونے پر جو نماز ادا ہوچکی ہے اس پر یہ کھڑا ہونا اثر انداز نہ ہو گا۔ امام کے ساتھ سلام پھیرے بغیر پانچویں کے لئے کھڑا ہوا مگر پانچویں کے سجدے سے پہلے یاد آگیا کہ چاروں رکعتیں پڑھ لی تھیں تو یاد آنے کے بعد بیٹھ کر التحیات کے بعد سہو کرکے نماز مکمل کرلے لیکن پانچویں رکعت کا سجدہ کرلیا ہو تو بہتر ہے کہ ایک رکعت اور پڑھ کر چھ پوری کر لے، پھر سجدہ سہو کرکے فارغ ہو جائے۔ اس صورت میں یہ بعد کی دو رکعتیں نفل شمار ہوں گی۔ ان تمام صورتوں میں نماز دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: جائیداد کا تنہا مالک بھی شرعی حدود کا پابندہے
صدقاتِ نافلہ کا مصرف
ایک آدمی صدقہ کے نام سے کچھ رقم مثلاً دس روپے اپنی دکان یا مکان کی پیٹی میں ڈالتا رہتا ہے۔ کیا اس جمع شدہ رقم کو مسجد یا مسجد کے پاس بننے والے کمرے میں لگا سکتا ہے؟
عبد الہادی، ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: صدقات کی دو قسمیں ہیں۔ واجبہ اور نافلہ؛ زکوٰۃ، صدقۂ فطر اور نذر ومنت یہ رقم صدقات واجبہ کے قبیل سے ہیں، ان کے علاوہ کوئی بھی صدقہ جو شرعاً لازمی نہ ہو وہ صدقہ نافلہ کہلاتاہے۔ جو صدقات واجبہ ہیں وہ تو غرباء و مساکین پر صرف کئے جائیں گے اور انہیں مالک بنانا ضروری ہوگا اس لئے انہیں مسجد یا اس کے قریب تعمیر ہو نے والے کمرے میں صرف نہیں کیا جا سکتاجبکہ صدقات نافلہ کو مسجد وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ صورت مسئولہ میں روز جمع کی جانے والی رقم اگر منت کے طور پر جمع کررہا ہوتو مسجد میں نہ لگائی جائیگی؛ منت نہیں ہے صرف صدقے کی نیت سے جمع کر رہے ہیں تو کسی بھی جائز مقصد میں استعمال کرتے ہیں غرباء و مساکین ضروری نہیں ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: صدقاتِ واجبہ کا مصرف مسلمان، صدقات ِ غیرواجبہ کا غیرمسلم
دعوت کا ایک مسئلہ
زید ایک کاروباری شخص ہے اور ہمارے علم کے مطابق اس کی آمدنی کا ۷۰؍فیصد حرام ہے اور ۳۰؍ فیصد حلال ، تو اس کی دعوت کھانے اور افطار میں شریک ہونے کا کیا حکم ہے؟
محمد اسلم، میراروڈ
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: اسلام میں حرام کمائی سے بچنے کی تاکید اور حلال روزی اپنانے کا حکم ہے۔ مال حرام کا ذاتی استعمال کرنا یا کسی ایسے شخص کی دعوت کا قبول کرنا جس کی غالب آمدنی حرام ہو، عوام کے لئے بھی درست نہیں۔ علماء اور مذہب کے پیشوا حضرات تو اس کے مکلف ہیں کہ جہاں ایسا کوئی شک ہو وہاں بھی احتیاط کریں ۔ لہٰذا صورت ِ مسئولہ میں زید کی دعوت کا قبول کرنا شرعاً صحیح نہیں۔ واللہ اعلم