• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پانی نعمت ِ عام ہے لیکن اس کا بھی حساب ہوگا

Updated: February 06, 2026, 5:08 PM IST | Sumaiyya Islam | Mumbai

پانی قدرت کاایک عظیم عطیہ ہے اور تمام مخلوقات کے لئے ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ زندگی کا دارومدار پانی پر ہے، ماہرین کا کہنا یہ بھی ہے کہ دنیا میں برپا ہونے والی تیسری بڑی عالمی جنگ پانی پر ہوگی۔ اگر ہم اس عالمی مسئلے پر قابو پانا چاہتے ہیں تو ہمارے دوسرے مسائل کی طرح اس کا حل بھی ہمیں حضور اکرم ﷺ کی مبارک تعلیمات میں تلاش کرنا ہوگا۔

It is important to be careful when using water even when performing ablution. Photo: INN
وضو کرتے وقت بھی پانی کا استعمال کرنے میں احتیاط ضروری ہے۔ تصویر: آئی این این

پانی قدرت کاایک عظیم عطیہ ہے اور تمام مخلوقات کے لئے ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ زندگی کا دارومدار پانی پر ہے، ماہرین کا کہنا یہ بھی ہے کہ دنیا میں برپا ہونے والی تیسری بڑی عالمی جنگ پانی پر ہوگی۔ اگر ہم اس عالمی مسئلے پر قابو پانا چاہتے ہیں تو ہمارے دوسرے مسائل کی طرح اس کا حل بھی ہمیں حضور اکرم ﷺ کی مبارک تعلیمات میں تلاش کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: غرور اور کبر قلبی امراض کی جڑ اور انسانی تباہی کا نقطۂ آغاز

پانی کےا سراف کی ممانعت

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سعد بن ابی وقاصؓ کے پاس سے گزرے، اس حال میں کہ وہ وضو کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اسراف کیوں ہے؟ تو حضرت سعدؓ نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ، کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! اگرچہ تم بہتی نہر پر ہی (وضو کیوں نہ کر رہے) ہو۔

حدیث پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ اگر اسراف سے بچیں تو ہم اپنے اس مسئلے پر قابو پا سکتے ہیں۔ کیونکہ اسراف ہی ایک ایسی بیماری ہے جو بڑی سے بڑی نعمت کو وقت سے پہلے ختم کر دیتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جا بجا اسراف سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: انسان اپنی عزت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا

پانی سے وابستہ چار نظام

’’(اے انسان!) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر زمین میں اس کے چشمے رواں کئے، پھر اس کے ذریعے کھیتی پیدا کرتا ہے جس کے رنگ جداگانہ ہوتے ہیں، پھر وہ (تیار ہوکر) خشک ہو جاتی ہے، پھر (پکنے کے بعد) تو اسے زرد دیکھتا ہے، پھر وہ اسے چورا چورا کر دیتا ہے، بے شک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے۔‘‘ (الزمر:۲۱)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانی سے وابستہ ان چار نظاموں کا ذکر فرمایا جن کے ہونے سے زندگی موجود ہے اور نہ ہونے سے زندگی مفقود۔ یہ نظام درج ذیل ہیں:

(۱) بارش کا پانی(۲)زیر زمین پانی کے ذخائر کا نظام(۳) زراعت کا نظام اور (۴) زراعت کے نتیجے میں انسانوں اور جانوروں کی خوراک کا نظام۔

عمومی تصور ہے کہ پانی قدرت کا عظیم تحفہ ہے۔ یہ نعمت نہ صرف انسانی زندگی کی بقا کیلئے ضروری ہے بلکہ جانوروں، چرند پرند، درختوں، پودوں اور پھولوں کے پھلنے پھولنے کے لئے بھی اہم ترین جزو ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق انسانی جسم میں ۶۰؍ فیصد حصہ پانی کا ہے۔

آسمان سے بارش کے ذریعے پانی برستا ہے جو زیرزمین ذخائر میں تبدیل ہو جاتا ہے،وہاں سے زراعت کے کام آتا ہے۔ کھیتیاں جب پک کر سوکھتی ہیں تو انسانوں کو دانہ ملتا ہے اور زرد بنتی ہیں تو بھس بنتا ہے جس سے جانوروں کو خوراک میسر ہوتی ہے۔ اس لئے پانی انسانی زندگی کا نہایت اہم غذائی جزو ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قرآن مجید کو ہمیں ویسے ہی سمجھنا ہے جیسے ہمیں اللہ کے نبیؐ نے سمجھایا ہے

پانی انسانی جسم کے لئے بھی زندگی ہے

ہمارا دوتہائی جسم پانی ہی پر مشتمل ہے۔ پانی جسم انسانی کی بناوٹ اور اس کی مشینری کے اندر افعال انجام دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی غیر موجودگی یا کمی کی صورت میں انسانی جسم مختلف خرابیوں سے دوچار ہو جاتا ہے۔ پانی کے ذریعے انسانی جسم میں درج ذیل افعال بخوبی انجام پاتے ہیں۔ یہ خون کو مائع حالت میں رکھنے میں مددگار بنتا ہے۔ غذا کو بڑی آنت کے ذریعے جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ پانی کی مناسب مقدار کے باعث جسم کا درجۂ حرارت ہر موسم میں معمول پر رہتا ہے۔ 

جسم کا ایک اہم حصہ جلدہے جو کہ زیادہ تر پانی سے بنی ہوتی ہے۔ جلد کے خلیات بنیادی طور پر پانی سے ڈھکے ہوتے ہیں۔ اگر ان خلیوں کو کافی مقدار میں پانی نہ ملے تو، جلد خشک ہو جائے گی اور جھریاں پڑنے کا زیادہ امکان ہوگا۔ پانی کے بغیر جلد بہترین طریقے سے کام نہیں کر سکتی۔ اگر جلد کو وافر مقدار میں پانی نہیں ملتا ہے، تو نہ صرف یہ خشک اور تنگ ہو جاتی ہے، بلکہ عمر بڑھنے کے اثرات بھی وقت سے پہلے نمایاں ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہماری پوری زندگی اخلاقی حدود کی پابند ہونا چاہئے

ہمارا جسم ہر روز بڑی مقدار میں پانی کھو دیتا ہے، اس لئے اگر زیادہ پانی نہیں پئیں گے تو جلد کو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔  جلد کی صحت کے لیےاس کا مناسب طریقے سے ہائیڈریٹ رہنا بہت ضروری ہے۔ پانی نہ صرف آپ کے ہاضمے اور خون کی گردش میں اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ یہ آپ کی جلد کی صحت اور خوبصورتی کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔ 

موجود ہ دور میں جن چیزوں میں بھی قحط اور قلت کا اندیشہ ہے، ان میں اعتدال تدارک کا بڑا اور اہم ذریعہ ہے، اگر احتیاط اور اعتدال کا سہارا لیا جائے تو بڑی حد تک پانی کی کمی کے اندیشے دور ہوسکتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمیں یہ بھی احساس ہونا چا ہئے کہ ہمارا رب ہم پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ ہم اس کی نعمتوں کا استعمال کیسے کرتے ہیں۔ پانی بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک ہے اور اس کا بے دریغ استعمال اور اس میں عدم اعتدال اسراف بے جا ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے اس بارے میں نہ صرف حساب لے گا، بلکہ اس کے اسراف پر سزا بھی دے گا اس لئے ہمیں اپنی ذمے داریوں کو محسوس کرتے ہوئے پانی کے بے دریغ اور ناجائز استعمال کی روک تھام کرنی چاہئے۔ پانی کا استعمال جہاں دیگر مقامات پر غیر محتاط انداز میں نظر آتا ہے، وہیں بدقسمتی سے مساجد میں وضو خانوں پر بعض افراد نل کھول کر بھول جاتے ہیں کہ پانی مستقل بہہ رہا ہے۔ یہ بھی اسراف اور پانی کا غیر ضروری استعمال ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK