غیرت محض ایک لفظ نہیں، یہ انسان کے باطن میں سلگنے والی وہ خاموش آگ ہے جو اسے بے حسی، بے راہ روی اور ذلت کے سامنے جھکنے نہیں دیتی۔ یہ وہ داخلی شعور ہے جو انسان کو بتاتا ہے کہ کہاں رُک جانا ہے، کس حد کو پار نہیں کرنا ہے، اور کن اقدار کی حفاظت اپنی جان سے زیادہ ضروری ہے۔ شرم و حیا اس کی پہلی پہچان ہے، ایسی حیا جو انسان کو اخلاقی اور فکری بے لگامی سے بچاتی ہے اور اسے اپنے عمل، نگاہ اور رویّے میں باوقار رکھتی ہے۔
سماج ہو ، محفل ہو یا گھر، مرد ہوں یا خواتین، ہر ایک کو اپنی عزت کا خیال رہتا ہے۔ تصویر: آئی این این
غیرت محض ایک لفظ نہیں، یہ انسان کے باطن میں سلگنے والی وہ خاموش آگ ہے جو اسے بے حسی، بے راہ روی اور ذلت کے سامنے جھکنے نہیں دیتی۔ یہ وہ داخلی شعور ہے جو انسان کو بتاتا ہے کہ کہاں رُک جانا ہے، کس حد کو پار نہیں کرنا ہے، اور کن اقدار کی حفاظت اپنی جان سے زیادہ ضروری ہے۔ شرم و حیا اس کی پہلی پہچان ہے، ایسی حیا جو انسان کو اخلاقی اور فکری بے لگامی سے بچاتی ہے اور اسے اپنے عمل، نگاہ اور رویّے میں باوقار رکھتی ہے۔ جس دل میں غیرت زندہ ہو، وہاں بدکرداری صرف گناہ نہیں رہتی بلکہ ایک داخلی خلش بن جاتی ہے، ایسی خلش جو انسان کو خود اپنے سامنے شرمندہ کر دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اَنا، نہ فرد کیلئے سودمند ثابت ہوتی ہے اور نہ معاشرے کیلئے
یہی غیرت جب خودداری کی صورت اختیار کرتی ہے تو انسان کو اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتہ کرنے سے روکتی ہے۔ وہ شخص جو غیرت مند ہو، وہ صرف دوسروں کی نظروں میں باعزت نہیں رہنا چاہتا بلکہ اپنی نگاہ میں بھی سرخرو ہونا چاہتا ہے۔ اسے اس بات کا شعور ہوتا ہے کہ مال چھن جانا غربت ہو سکتا ہے، مگر وقار چھن جانا روحانی موت ہے۔ اسی شعور کے تحت انسان اپنے دین، اپنے اصول، اور اپنی ناموس کے دفاع کے لیے بلا شور، مگر پورے عزم کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن پر خاموشی بزدلی بن جاتی ہے، اور کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں مزاحمت ہی زندگی کی علامت ہوتی ہے۔ غیرت کا یہ جذبہ کسی کتابی نصیحت کا نتیجہ نہیں، بلکہ انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ جیسے جسم کو چوٹ لگنے پر درد کا احساس فطری ہے، ویسے ہی اقدار پر ضرب لگنے پر دل کا بے چین ہو جانا غیرت کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی مقدس شے میں ناپسندیدہ مداخلت ہوتی ہے، چاہے وہ دین ہو، وطن ہو، یا محبوب رشتے، تو دل کی کیفیت بدل جاتی ہے، اندر ایک اضطراب سا جاگ اٹھتا ہے۔ اسی داخلی تبدیلی کو اہلِ زبان نے غیرت کہا ہے: دل کا برانگیختہ ہو جانا، خاموش نہ رہ پانا، اور اس احساس کے ساتھ جینا کہ کچھ قیمتی خطرے میں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قرآن مجید کو ہمیں ویسے ہی سمجھنا ہے جیسے ہمیں اللہ کے نبیؐ نے سمجھایا ہے
یوں غیرت انسان کو وحشی نہیں بناتی بلکہ مہذب بناتی ہے؛ اسے سخت نہیں بلکہ حساس بناتی ہے؛ اور اسے جذباتی نہیں بلکہ ذمہ دار بناتی ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کو یاد دلاتی ہے کہ آزادی بے قید ہونے کا نام نہیں، اور محبت بے حفاظتی کا نام نہیں ہے۔ جہاں غیرت زندہ ہوتی ہے، وہاں معاشرہ صرف چلتا نہیں بلکہ سنبھل کر آگے بڑھتا ہے اور جہاں یہ جذبہ مر جائے، وہاں اخلاق، رشتے اور اقدار سب آہستہ آہستہ دم توڑنے لگتے ہیں۔
انسان اپنی عزت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا؛ یہ اس کی شخصیت کا وہ مرکز ہے جس پر آنچ آئے تو پورا وجود چونک اٹھتا ہے۔ جب وقار پر ضرب پڑتی ہے تو دل میں ایک بے قراری سی جاگتی ہے، اور انسان دفاع پر آمادہ ہو جاتا ہے اتنا ہی نہیں جتنا مناسب ہو، بلکہ کبھی کبھی اتنا جتنا اس کے اختیار میں ہو۔ یہی کیفیت اس وقت بھی پیدا ہوتی ہے جب بات براہِ راست ذات یا نفس تک جا پہنچے؛ وہاں ناگواری محض احساس نہیں رہتی بلکہ ایک داخلی اشتعال بن جاتی ہے، ایسا اشتعال جو بظاہر نرم مزاج انسان کو بھی سخت ردِّعمل پر آمادہ کر دیتا ہے، اور یوں لگتا ہے جیسے خاموش پہاڑ بھی سر اٹھانے کو تیار ہو گیا ہو۔ لیکن اس جذبے کی شدت ہمیشہ یکساں نہیں رہتی۔ اکثر یہ آگ اس وقت بھڑکتی ہے جب معاملہ لوگوں کے سامنے آ جائے، جب عزتِ نفس مجمع کے بیچ مجروح ہو، اور نگاہوں کی تپش دل پر آن پڑے۔ اس کے برعکس، اگر یہی بات خلوت میں ہو، یا دائرہ محدود ہو، اور انسان کے اندر ضبط کا مادہ غالب آ جائے، تو درگزر کی گنجائش نکل آتی ہے۔ وہاں غیرت انتقام میں نہیں ڈھلتی بلکہ وقار کی حفاظت کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ یہی فرق انسان کے اندرونی توازن کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ہر چوٹ پر بپھر نہیں جاتا، مگر یہ بھی قبول نہیں کرتا کہ اس کی عزت پامال ہو اور دل بے حس بنا رہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہماری پوری زندگی اخلاقی حدود کی پابند ہونا چاہئے
انسان اپنی ذات کے گرد نادیدہ مگر مضبوط حصارِ عزت قائم رکھتا ہے۔ یہ حصار اس کی شناخت، اس کے وقار اور اس کے سماجی وجود کی علامت ہوتا ہے۔ جب یہ حصار محفوظ رہے تو انسان بڑی سے بڑی تنقید بھی برداشت کر لیتا ہے، لیکن جب اسی حصار پر عوامی سطح پر حملہ ہو جائے تو اسے محض دل آزاری نہیں لگتی بلکہ اپنی سماجی موت کا خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ضبط کمزور پڑتا ہے اور دفاعی ردِّعمل فطری طور پر جنم لیتا ہے۔ فرض کیجئے ایک پیشہ ورانہ ماحول میں ایک ملازم سے واقعی کوئی سنگین غلطی سرزد ہو جاتی ہے، اگر اس کا افسر سب ملازمین کو جمع کر کے، سب کے سامنے اس پر تنقید کے تیر برسا دے اور اس کی صلاحیت و کردار پر سوال اٹھائے، تو مسئلہ صرف غلطی کا نہیں رہتا۔ اب اصل زخم اس احساس کا ہوتا ہے کہ اس کی عزت دوسروں کی نظروں میں مجروح ہو گئی ہے۔ وہ خود کو کم تر، بے وقعت اور بے نقاب محسوس کرتا ہے۔ ایسے میں اس کا تلملا اٹھنا فطری ہے۔ یا تو وہ وہیں جواب دے کر ماحول کو تلخ بنا دے، یا غصے میں ایسا فیصلہ کر بیٹھے جو اس کے اپنے لیے نقصان دہ ہو، کیونکہ اس کے شعور میں یہ خیال بیٹھ جاتا ہے کہ جہاں عزت نہ رہے، وہاں رکنے کا جواز بھی باقی نہیں۔ لیکن اگر یہی افسر اسے تنہائی میں بلا کر، اسی سختی کے ساتھ بات کرے، تو منظر بدل جاتا ہے۔ ناگواری پھر بھی ہوتی ہے، دل دکھتا ہے، مگر چونکہ اس کا سماجی بھرم قائم رہتا ہے، اس لئے ضبط کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ غصے پر غالب آ جائے اور انسان اصلاح کی طرف متوجہ ہو سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈیجیٹل دُنیا : لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے!
یہی اصول سماجی اور خاندانی زندگی میں بھی پوری شدت کے ساتھ کارفرما ہوتا ہے۔ ایک خاندانی محفل میں، جہاں سب کی نگاہیں ایک دوسرے پر ہوتی ہیں، اگر کوئی رشتہ دار کسی کے لباس، فیصلے یا ذاتی انداز پر سب کے سامنے طنز کرے، تو بات محض رائے یا مشورے تک محدود نہیں رہتی۔ انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی شخصیت کو مجمع کے بیچ بے پردہ کر دیا گیا ہو۔ اس لمحے انا جاگ اٹھتی ہے، اور دفاع کی خواہش اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ وہ سامنے والے کی کمزوریاں اچھالنے پر بھی آمادہ ہو جاتا ہے، کیونکہ اب مسئلہ صحیح یا غلط کا نہیں بلکہ عزت بچانے کا بن چکا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہی بات تنہائی میں، نرمی یا خیرخواہی کے ساتھ کہی جائے، تو انسان سن بھی لیتا ہے، اختلاف بھی کر لیتا ہے، مگر دل میں دشمنی یا اشتعال کی وہ آگ نہیں بھڑکتی جو مجمع میں بھڑک اٹھتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شب ِ برأت کو رسم نہ بنائیں بلکہ شب ِ توبہ اور شب ِ دُعا کے طور پر گزاریں
درحقیقت، مسئلہ تنقید کا نہیں بلکہ تنقید کے مقام کا ہوتا ہے۔ جب گواہ موجود ہوں تو انسان کو لگتا ہے کہ اس کی سماجی ساکھ خطرے میں ہے، اور یہی احساس اسے فوراً دفاعی پوزیشن میں لے آتا ہے۔ جبکہ تنہائی میں وہی انسان اپنے ضبطِ نفس کے سہارے بات کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے ایک واقعہ سمجھ سکتا ہے اور درگزر کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ اسی لیے دانائی کا تقاضا یہی ہے کہ بات اصلاح کی ہو تو خلوت میں کی جائے، کیونکہ جو بات مجمع میں کہی جائے، وہ اکثر نصیحت نہیں رہتی بلکہ فضیحت بن جاتی ہے، اور اصلاح کے بجائے فاصلے پیدا کر دیتی ہے۔