یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہئے کہ غرور، گھمنڈ اور کبر صرف فرد کو نہیں گراتے، قوموں کو گراتے ہیں۔ جب دلوں میں عاجزی کے بجائے برتری کا نشہ بھر جاتا ہے تو فرعون پیدا ہوتے ہیں، ابلیس زندہ ہوجاتا ہے، اور آدمیت سولی پر چڑھ جاتی ہے۔ اس لئے اصلاح کا اصل نکتہ ٔ آغاز فرد اور اس کا دل ہے۔
غرور سماجی زندگی کو بھی برباد کر دیتا ہے۔ متکبر انسان رشتہ نہیں نبھاتا، رشتہ چلاتا ہے۔ وہ بات نہیں کرتا، حکم دیتا ہے۔ وہ ساتھ نہیں چلتا، اوپر چلتا ہے۔ تصویر: آئی این این
انسان کی اصل جنگ باہر نہیں، اندر ہے۔ تلواریں، بندوقیں، نظام اور سیاست بعد کے مرحلے ہیں؛ اصل معرکہ انسان کے دل میں برپا ہوتا ہے۔ یہی دل جب نورِ ہدایت سے منور ہو تو انسان فرشتوں سے بلند ہوجاتا ہے، اور یہی دل جب کبر، غرور اور گھمنڈ کی آلودگی میں مبتلا ہوجائے تو انسان ابلیس کے راستے پر چل نکلتا ہے۔ غرور وہ خاموش زہر ہے جو شخصیت کے ریشے ریشے میں سرایت کر کے اسے اخلاقی طور پر مفلوج، فکری طور پر اندھا اور روحانی طور پر مردہ بنا دیتا ہے۔ یہی وہ مرض ہے جسے قرآن’’استکبار‘‘ کے نام سے یاد کرتا ہے اور جسے رسول اللہ ﷺ نے دل کی سب سے ہلاکت خیز بیماری قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: انسان اپنی عزت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا
قرآن مجید انسانی تاریخ کے آغاز ہی میں کبر کو سب سے پہلی باطنی نافرمانی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں تو سب نے سرِ تسلیم خم کیا، مگر ابلیس رک گیا۔ اس کا رکنا جسمانی نہیں تھا، اس کا رکنا قلبی تھا۔ قرآن کہتا ہے:’’اور ( یاد کریں) جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدمؑکو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا۔‘‘ (البقرہ:۳۴)
یہاں قرآن نہ کسی شراب کا ذکر کرتا ہے، نہ کسی قتل کا، نہ کسی بدکاری کا۔ صرف ایک لفظ ہے: استکبر۔ یعنی ابلیس کا جرم دراصل اس کا تکبر تھا، اور اسی تکبر نے اسے کفر کے زمرے میں داخل کردیا۔ جب اس سے وجہ پوچھی گئی تو اس نے جو جواب دیا وہ انسانی تاریخ کی سب سے خطرناک منطق تھی:
’’اس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو تو نے مٹی سے بنایا ہے۔‘‘ (الاعراف:۱۲)
یہاں کبر نے ابلیس کی عقل کو مفلوج کردیا۔ اس نے اپنی اصل کو معیارِ فضیلت بنا لیا اور رب کے حکم کو نظرانداز کردیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب کبر، محض اخلاقی کمزوری نہیں رہا بلکہ فکری گمراہی بن گیا۔ ابلیس نے اللہ کی ربوبیت کا انکار نہیں کیا، مگر اللہ کے حکم کے مقابلے میں اپنی برتری کو ترجیح دی۔ یہی ہر دور کے متکبر کا مزاج ہے۔
نبی کریم ﷺ نے کبر کی جو تعریف فرمائی وہ محض اخلاقی تشریح نہیں بلکہ ایک نفسیاتی و فکری تشخیص ہے:’’ کبر حق کو ٹھکرانے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔‘‘ (صحیح مسلم) کبر دو محاذوں پر حملہ کرتا ہے: ایک حق پر، دوسرا خلق پر۔ متکبر انسان دلیل کو قبول نہیں کرتا، خواہ وہ قرآن کی ہو یا تجربے کی۔ اور وہ انسان کو عزت نہیں دیتا، خواہ وہ اس کا بھائی ہو یا اس کا ماتحت۔ یہی وجہ ہے کہ کبر تمام قلبی امراض کی جڑ بن جاتا ہے۔ حسد، بغض، ظلم، تعصب، استحصال اور تشدد — سب اسی زمین میں اگتے ہیں جسے کبر سیراب کرتا ہے۔
قرآن مجید میں کبر کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ کہیں اسے حق سے روگردانی کہا گیا، کہیں اللہ کی آیات کا انکار، کہیں زمین میں سرکشی، اور کہیں دلوں کا اندھیراپن۔ فرمایا:
’’میں اپنی آیتوں (کے سمجھنے اور قبول کرنے) سے ان لوگوں کو باز رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں۔‘‘ (الاعراف:۱۴۶)
کبر صرف گناہ نہیں بلکہ ہدایت سے محرومی کا سبب ہے۔ متکبر کا مسئلہ یہ نہیں کہ اسے سچ نہیں ملتا، بلکہ یہ ہے کہ سچ اسے قبول نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھئے: قرآن مجید کو ہمیں ویسے ہی سمجھنا ہے جیسے ہمیں اللہ کے نبیؐ نے سمجھایا ہے
کبر کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک کبر اللہ کے مقابلے میں ہوتا ہے، جو صریح کفر ہے۔ ایک کبر رسول کے مقابلے میں، جو اطاعت سے فرار ہے۔ ایک کبر بندوں کے مقابلے میں، جو اخلاقی تباہی ہے۔ کسی کو اپنے علم پر غرور ہوتا ہے، کسی کو اپنی عبادت پر، کسی کو اپنے حسب و نسب پر، کسی کو اپنی دولت و طاقت پر، کسی کو اپنی جماعت، قوم یا نظریے پر۔ قرآن کہتا ہے: ’’بیشک اللہ سرکشوں اور متکبّروں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘اس آیت میں محض وعید نہیں بلکہ اعلانِ برأت ہے۔ یعنی متکبر انسان خود کو اس دائرے سے نکال دیتا ہے جہاں اللہ کی محبت نازل ہوتی ہے۔
کبر انسان کی شخصیت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ سب سے پہلے وہ سیکھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ کیونکہ سیکھنا مانگتا ہے: میں نہیں جانتا۔ اور متکبر کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ وہ ’’میں نہیں جانتا‘‘ نہیں کہہ پاتا۔ وہ تنقید کو توہین، اختلاف کو بغاوت اور نصیحت کو حملہ سمجھتا ہے۔ یوں اس کی شخصیت نشوونما کے بجائے دفاع میں جینے لگتی ہے۔ جدید نفسیات میں اسے Ego Inflation اور Narcissistic Traits سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ایسے افراد بظاہر خوداعتماد ہوتے ہیں مگر اندر سے عدمِ تحفظ، Anxiety اور Fragile Self esteem کا شکار ہوتے ہیں۔ اسی لئے وہ معمولی اختلاف پر بکھر جاتے ہیں، چھوٹی بات پر مشتعل ہوجاتے ہیں، اور ہر وقت اپنی برتری ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آپ ؐ کے مثل نہ کل کوئی تھا، نہ آج ہے، نہ تاریخ انسانی میں کوئی آئیگا
غرور سماجی زندگی کو بھی برباد کر دیتا ہے۔ متکبر انسان رشتہ نہیں نبھاتا، رشتہ چلاتا ہے۔ وہ بات نہیں کرتا، حکم دیتا ہے۔ وہ ساتھ نہیں چلتا، اوپر چلتا ہے۔ گھر میں ایسا انسان باپ ہو تو اولاد یا باغی ہوتی ہے یا منافق۔ شوہر ہو تو بیوی یا خوف زدہ ہوتی ہے یا بے زار۔ لیڈر ہو تو کارکن یا خوشامدی بنتے ہیں یا باغی۔ قرآن، فرعون کے بارے میں کہتا ہے:
’’بیشک فرعون زمین میں سرکش و متکبّر (یعنی آمرِ مطلق) ہوگیا تھا ۔‘‘ (سورہ القصص:۴) یہ "علا" صرف سیاسی نہیں تھا، نفسیاتی تھا۔ وہ خود کو سب سے بلند دیکھنے لگا، اور یہی دیکھنا اس کے ڈوبنے کا آغاز بنا۔
آخرت میں کبر کا انجام سب سے زیادہ ہولناک ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘(صحیح مسلم) یہ حدیث ہمیں چونکا دیتی ہے۔ کیونکہ یہاں مسئلہ اعمال کی کمی نہیں، دل کی کیفیت ہے۔ نمازیں ہوں، روزے ہوں، صدقات ہوں — اگر دل میں کبر ہے تو یہ سب زخمی ہیں۔ قرآن کہتا ہے:’’ جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ، ہمیشہ اسی میں رہو گے، متکبرین کا ٹھکانا بہت برا ہے۔‘‘ (الزمر:۷۲)
انسان ملعون اسی وقت بنتا ہے جب وہ کبر کے سبب حق کا انکار اور بندوں کی تحقیر کرے۔ ابلیس کو لعنت اسی لئے ملی کہ اس نے ’’ میں‘‘ کو ’’ تو‘‘ پر ترجیح دی۔ آج بھی ہر متکبر، اپنے درجے میں، اسی لعنت کے سائے میں چل رہا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہماری پوری زندگی اخلاقی حدود کی پابند ہونا چاہئے
کبر کا علاج قرآن نے بھی بتایا اور رسول ﷺ نے بھی۔ قرآن انسان کو اس کی اصل یاد دلاتا ہے: ’’ اسی مٹی سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے۔‘‘ (طٰہٰ: ۵۵) اور رسول ؐ نے فرمایا: ’’جو اللہ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اسے بلند کردیتا ہے۔‘‘(صحیح مسلم)
عاجزی کوئی کمزوری نہیں، یہ صحت ہے۔ نفسیاتی طور پر Humility انسان کو سیکھنے والا بناتی ہے، تعلق نبھانے والا بناتی ہے، اور تنقید برداشت کرنے والا بناتی ہے۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ Humble Personality زیادہ emotionally stable، کم defensive، اور زیادہ resilient ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے متقیوں کی پہچان ہی عاجزی کو قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ڈیجیٹل دُنیا : لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے!
یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہئے کہ غرور، گھمنڈ اور کبر صرف فرد کو نہیں گراتے، قوموں کو گراتے ہیں۔ جب دلوں میں عاجزی کے بجائے برتری کا نشہ بھر جاتا ہے تو فرعون پیدا ہوتے ہیں، ابلیس زندہ ہوجاتا ہے، اور آدمیت سولی پر چڑھ جاتی ہے۔ اس لئے اصلاح کا اصل نکتۂِ آغاز فرد اور اس کا دل ہے۔