اللہ سے دین و دنیا کی عافیت کا ملنا ایک ایسی نعمت ہے جو ان تمام باتوں کا احاطہ کرتی ہے جن کا تقدیر میں ذکر ہے۔ جو اس بات کو سمجھے اس پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرے کیونکہ یہ توحید کے بعد نعمت ِعظیم ہے۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 3:38 PM IST | Mohammed Ashraf | Mumbai
اللہ سے دین و دنیا کی عافیت کا ملنا ایک ایسی نعمت ہے جو ان تمام باتوں کا احاطہ کرتی ہے جن کا تقدیر میں ذکر ہے۔ جو اس بات کو سمجھے اس پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرے کیونکہ یہ توحید کے بعد نعمت ِعظیم ہے۔
اللہ سے دین و دنیا کی عافیت کا ملنا ایک ایسی نعمت ہے جو ان تمام باتوں کا احاطہ کرتی ہے جن کا تقدیر میں ذکر ہے۔ جو اس بات کو سمجھے اس پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرے کیونکہ یہ توحید کے بعد نعمت ِعظیم ہے۔
حضرت عباس ؓ کا قول ہے: جب تم اللہ تعالیٰ کا قول اُذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْکُمْ (تم پر جو اللہ کی نعمتیں ہیں ان کا ذکر کرو) تو کہا کرو: عافیۃ اللہ، اللہ کی عافیت۔ اور جب اللہ تعالیٰ فرمائیں: ’’اور تمہیں جو نعمت بھی حاصل ہے سو وہ اللہ ہی کی جانب سے ہے، پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تم اسی کے آگے گریہ و زاری کرتے ہو۔‘‘ (سورہ النحل:۵۳) اس آیت کی تلاوت کے بعد پھر حضرت عباسؓ نے پوچھا: اے لوگو!کیا تم اس نعمت کو جانتے ہو؟ وہ نعمت ہے عافیت، صحت، سلامتی اور تمہارے مالوں کا نقصان سے بچنا اور یہ سب اللہ کی نعمتیں ہیں، پھر فرمایا: اور یہ بھی اسی کے ہاتھ سے ہوتا ہے، یعنی جو بھی مصیبت تمہارے بدن پر آتی ہے، مثلاً بیماری اور آسائشات میں کمی، تو تم اللہ کی استعانت طلب کرتے ہو اور اس مستغیث سے دعا مانگتے ہو، کیونکہ تم جانتے ہو کہ اس سے بچانے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ پس تم اللہ کی ثنا بیان کرو، اس کی اطاعت کرو اور اس کا شکر ادا کرو تاکہ وہ تمہیں گناہوں سے بچائے اور تمہاری مغفرت فرمائے۔
یہ بھی پڑھئے: قربانی : ایک عظیم عبادت جسے ہم نے ریاکاری، نمائش اور فیشن بنا دیا!
عافیت اور ابتلاء
ابتلاء و آزمائش اللہ کی اپنی مخلوقات کے لئے سنت ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا کثرت سے تذکرہ کیا ہے، کیونکہ یہ یا تو گناہوں کا کفارہ ہے یا پھر درجات کی بلندی کا ذریعہ ہے۔ انسان مصیبت میں یا تو اپنے گناہوں کی وجہ سے گرفتار ہوتا ہے، یا پھر اللہ اپنے بندے کی آزمائش کرتے ہیں، جیسا کہ انبیائے کرام ؑمیں حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش ہوئی تاکہ ان کے درجات بلند ہوں۔ انسان پر جو بھی پریشانی و مشکلات آتی ہیں یا آسائشات و کشادگیاں ملتی ہیں وہ سب آزمائش کی قسم کا نتیجہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’اور ہم تمہیں اچھے اور بُرے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں۔ آخرکار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے‘‘۔(سورہ انبیا : ۳۵)
حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا: دنیا میں جو رزق تمہیں دیا گیا ہے اس پر قناعت کرو ،کیونکہ یہ تو رحمٰن کا فضل ہے جو وہ اپنے بندوں میں سے کچھ بندوں پر رزق کے معاملے میں کرتا ہے۔ اس طرح سے وہ سب لوگوں کو ان کی بساط کے مطابق آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون کیسے شکر ادا کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے سے ہی یہ حق ادا ہوتا ہے اور یہ واجب ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسوۂ براہیمی اور ملت ِ اسلامیۂ عالم
عافیت کی نعمت کا نہ ہونا اور آزمائش کا آنا متنبہ کرتا ہے کہ آدمی شکر اور ذکر کا محتاج ہے۔ رزق کا اُٹھا لیا جانا بھی آزمائش ہے، جس میں صبر واجب ہے۔ ذرا سوچئے، مومنین جنہیں صبر سے نوازا گیا اور شکر عطا کیا گیا، ان کا اللہ کے ہاں کیا مقام ہوگا! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’بیشک آپ کا رب ان سب کو ان کے اَعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا، وہ جو کچھ کر رہے ہیں یقینا ً وہ اس سے خوب آگاہ ہے۔ ‘‘(ھود :۱۱۱)