Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلمانوں کا کیا رویہ ہونا چاہئے؟

Updated: April 10, 2026, 3:26 PM IST | Maulana Abullais Islahi Nadvi | Mumbai

اسلام نے جو نظریۂ زندگی اور معاشرتی اصول پیش کئے ہیں ان میں نسلی، نسبی یا علاقائی تفوق و برتری کو کوئی مقام حاصل نہیں ہے جو ہمیشہ طرح طرح کے فتنوں کا سرچشمہ بنتی رہی ہے اور جو چھوت چھات اور اونچ نیچ وغیرہ کی بہت سی قبیح اور بدنما شکلوں میں خود ہمارے ملک میں بھی اپنا بہت کچھ اثر دکھا رہی ہے اور جس کی بنا پر آئے دن نئے نئے مسائل سر اٹھاتے رہے ہیں جن پر قابو پانا دشوار ہوگیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اسلام نے  جو نظریۂ زندگی اور معاشرتی اصول پیش کئے ہیں ان میں نسلی، نسبی یا علاقائی تفوق و برتری کو کوئی مقام حاصل نہیں ہے جو ہمیشہ طرح طرح کے فتنوں کا سرچشمہ بنتی رہی ہے اور جو چھوت چھات اور اونچ نیچ وغیرہ کی بہت سی قبیح اور بدنما شکلوں میں خود ہمارے ملک میں بھی اپنا بہت کچھ اثر دکھا رہی ہے اور جس کی بنا پر آئے دن نئے نئے مسائل سر اٹھاتے رہے ہیں جن پر قابو پانا دشوار ہوگیا ہے۔ اسلام نے تفوق اور برتری کے اس طرح کے ہر معیار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس حقیقت پر زور دیا ہے اور اسی کو معاشرے کی بنیاد قرار دیا ہے کہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں اور حیثیت سے رتبے میں سب برابر اور یکساں ہیں۔ ان میں افضل وہ ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔ چنانچہ قرآن مجید میں تمام انسانوں کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے:

’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بے شک، اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے۔‘‘ (سورہ الحجرات:۱۳)۔ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

’’لوگو! خبردار رہو، تم سب کا خدا ایک ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر ، اور کسی گورے کو کسی کالے پر، اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے مگر تقویٰ کے اعتبار سے۔ اللہ کے نزدیک  تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔ بتاؤ، میں نے تمہیں بات پہنچا دی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا:’ہاں یا رسولؐ اللہ! فرمایا، اچھا تو جو موجود ہے وہ ان لوگوں تک یہ بات پہنچا دے جو موجود نہیں ہیں۔‘‘ (رواہ البیہقی)

یہ بھی پڑھئے: جمعہ کا اصل پیغام یاد رکھئے: اجتماع سے زیادہ ”اجتماعیت‘‘

خیر امت سے تعلق رکھنے کی بناء پر مسلمانوں کا اصل فریضہ شہادت حق اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے اور ان کی اس حیثیت کی بناء پر اور ہندوستان کے شہری ہونے کی بناء پر بھی ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ملک کے حالات و مسائل سے گہری دلچسپی لیں اور جہاں جہاں بھی کوئی کجی، نقص، خامی یا بگاڑ پایا جاتا ہو اس کو حسب ِ استطاعت دینی تعلیمات و ہدایات کی روشنی میں درست کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔

ہمیں یہاں تھوڑی دیر رک کر اس پر غور کرلینا چاہئے کہ مسلمانوں کو اپنی اس  ذمہ داری کا کہاں تک احساس ہے اور وہ اس سے کس حد تک عہدہ برآ ہورہے ہیں؟ بلاشبہ ان میں بے شمار ایسے لوگ موجود ہیں جن کو اپنی ذمہ  داری کا احساس ہے اور وہ اپنے اپنے دائروں میں اس کا کچھ نہ کچھ حق  ادا بھی کررہے ہیں اور ان کی کئی چھوٹی بڑی  جماعتیں اور ادارے بھی اس سلسلے میں کچھ نہ کچھ سرگرمی دکھا رہے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو شاید یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ مسلمانوں کا عام رویہ خوش آئند نہیں بلکہ حددرجہ مایوس کن ہے۔ یہی نہیں کہ اس سلسلے میں ان کی طرف سے کوئی باقاعدہ اور منظم کوشش نہیں ہورہی ہے بلکہ اس کے برعکس بسا اوقات وہ ایسی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں جو حالات کی اصلاح کے بجائے ان کو اور بگاڑ دینے کا باعث بنتی ہیں یا کم از کم ان سے اس راہ میں کچھ رکاوٹ ہی پیدا ہوتی ہے۔ مسلمان اس وقت عام طور سے جن مسائل کے لئے فکرمند ہیں ان کی اہمیت و ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ہمیں اس پر بھی ضرور غور کرنا چاہئے کہ ان میں کتنے مسائل ایسے ہیں جن کا تعلق مسلمانوں کے اصل فریضۂ منصبی سے ہے اور کتنا ہے!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK