Inquilab Logo Happiest Places to Work

جمعہ کا اصل پیغام یاد رکھئے: اجتماع سے زیادہ ”اجتماعیت‘‘

Updated: April 10, 2026, 3:16 PM IST | Mohammed Kafeel Qasmi | Mumbai

یہ محض ایک فکری تضاد نہیں، ایک گہرا تہذیبی المیہ ہے کہ جس امت کو ہر ہفتے یومِ جمعہ کی شکل میںایک منظم، مربوط اور باوقار اجتماع کے ذریعے وحدت، مساوات اور اجتماعی شعور کی عملی تربیت کا موقع میسر ہے، وہی امت اپنی روزمرہ زندگی میں داخلی انتشار، فکری پراگندگی اور سماجی تقسیم کی علامت نظر آتی ہے۔

Friday actually provides an opportunity for self-accountability, intellectual renewal, and an awareness of one`s individual and collective responsibilities. If this opportunity is wasted in mere formal attendance, its meaning is also limited. Photo: INN
جمعہ دراصل ایک موقع فراہم کرتا ہے،خود احتسابی کا، فکری تجدید کا، اور اپنی انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کے ادراک کا۔ اگر یہ موقع محض رسمی حاضری میں ضائع ہو جائے تو اس کی معنویت بھی محدود ہو جاتی ہے۔ تصویر: آئی این این

اجتماع جمعہ کا منظر اپنی ظاہری ہیئت میں جس قدر ہم آہنگ اور منضبط دکھائی دیتا ہے، ہماری اجتماعی زندگی اسی قدر غیر مربوط اور منتشر محسوس ہوتی ہے۔ مصلیانِ کرام کی صفیں سیدھی ہوتی ہیں،سبھی شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں ، فاصلے مٹائے جاتے ہیں، اور یکساں نیت کے ساتھ ایک ہی امام کی اقتداء میں سب کا قیام ہوتا ہے؛ مگر یہ تمام ترتیب و تنظیم مسجد کی حدود سے باہر نکلتے ہی اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ یہی وہ نکتہ آغاز ہے جہاں اجتماع جمعہ ایک جتماعی تربیت گاہ بننے کے بجائے ایک محدود مذہبی رسم میں تبدیل ہوجاتا ہے جو افسوسناک ہے۔ 

قرآنِ مجید میں جمعہ کے حوالے سے جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے، وہ اس کے رسمی پہلو کو نہیں بلکہ اس کی فکری اور شعوری جہت کو نمایاں کرتا ہے۔ فَاسْعَوْا ِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ میں وارد ہونے والی” سعی“ محض جسمانی حرکت کا نام نہیں، بلکہ ایک داخلی آمادگی، شعوری رجوع اور مقصدی توجہ کی علامت ہے۔ گویا جمعہ انسان کو اس کے منتشر معمولات سے نکال کر ایک ایسے مرکز پر جمع کرتا ہے جہاں وہ نہ صرف اپنے خالق سے تعلق کی تجدید کرتا ہے بلکہ ایک وسیع تر اجتماعی وجودیعنی امت کے ساتھ اپنے ربط کا ازسرِ نو ادراک بھی حاصل کرتا ہے۔ تاہم عملی سطح پر صورتِ حال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ جمعہ، جو اپنی روح میں ایک ہمہ جہت تربیتی عمل ہونا چاہئے تھا، زیادہ تر ایک وقتی اور رسمی عمل کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس کا سبب محض فرد کی غفلت نہیں بلکہ اس تصورِ جمعہ کی محدود تعبیر ہے، جس میں اسے ایک  ”دو گانہ فرض‘‘ کی ادائیگی کے طور پر تو دیکھاگیا مگر ایک فکری رہنمائی اور سماجی شعور کی عملی تربیت گاہ کے طور پر نہیں برتا گیا۔ نتیجتاً یہ اجتماع، جو اپنی روح میں کردار سازی اور شعور آفرینی کا ذریعہ تھا،  ایک روایتی منظر بن کر رہ گیا ، ایسا منظر جس کا عملی زندگی سے ربط کمزور ہورہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: علماء اُمت کی ذمہ داریاں

جمعہ کا بنیادی پیغام ” اجتماعیت “ ہے، مگر یہ اجتماعیت اپنی اصل میں فقط ظاہری ہم آہنگی نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور سماجی سطح پر بھی مطلوب ہے۔ جب مختلف طبقات، مختلف زبانوں اور متنوع پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں تو یہ منظر دراصل ایک عملی اعلان ہوتا ہے کہ انسانی قدر و منزلت کا معیار نہ نسب ہے، نہ وسائل، بلکہ اخلاقی و روحانی بالیدگی ہے۔ لیکن جب یہی افراد اپنے اپنے دائروں میں واپس جا کر تعصبات و مفادات، مسلک و منہج اور افکار و نظریات کے زیرِ اثر باہم دست و گریباں ہوتے ہیں تو یہ اعلان اپنی تاثیر کھو دیتا ہے، اور یوں یومِ جمعہ کا اجتماع اپنی فعال حقیقت اور معنویت میں ڈھلنے کے بجائے ایک علامتی حصار میں قید ہو کر رہ جاتا ہے ۔ 

اس پورے تناظر میں خطبۂ جمعہ کی حیثیت کلیدی نوعیت کی ہے۔ یہ محض نماز کا مقدمہ نہیں بلکہ اس اجتماعی عمل کی فکری سمت کا تعین کرنے والا عنصر ہے۔ عہدِ نبوی ﷺ اور بعد کے ادوار میں خطبہ جمعہ اُمّت کی فکری رہنمائی اور شعوری تربیت کا عمل تھا، جس کے ذریعے وحی الٰہی کی ابدی تعلیمات کی روشنی میں براہِ راست انسانی مسائل کا حل پیش کیا جاتا تھا۔ خطبۂ جمعہ معاشرتی نظم، عدلِ اجتماعی، فکری رہنمائی اور اخلاقی تربیت کا ایک فعال وسیلہ رہا ہے۔ اس تاریخی تسلسل سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خطبہ ٔجمعہ کا مقصد تذکیر ہی نہیں بلکہ تشکیلِ فکر اور رہنمائی بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دانشمندی اسی میں ہے کہ دنیا کو ہاتھ میں رکھا جائے دل میں نہیں

مگر عصرِ حاضر میں یہ بڑی حد تک اپنی اس جامع روح اور معنویت سے دور ہوگیا ہے۔ اکثر خطبات ایک مانوس اور روایتی دائرے میں گردش کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، جہاں معلوماتی تکرار تو وافر ہوتی ہے، مگر فکری کشمکش، ذہنی انتشار، اور اُمّت کو درپیش پیچیدہ مسائل کی عصر ی نفسیات اور دینِ  مبین کی روشنی میں تفہیم شاذ ہی ہوتی ہے۔یہی وہ خلا ہے جو سامع کے قلب و ذہن کے درمیان ایک غیر محسوس فاصلہ پیدا کر دیتا ہے، جہاں خطاب کی تاثیر وقتی تو ہوتی ہے مگر پائیدار تبدیلی کا محرک نہیں بن پاتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خطبات کوصرف  روایت کی پاسداری تک محدود رکھنے کے بجائے، انہیں فکری بیداری، شعوری ارتقاء، اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ دینی رہنمائی کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے، تاکہ منبر کی صدا زندگی کے عملی میدان میں بھی سنائی دے۔

عبادات کے تناظر میں ثواب و عذاب کا بیانیہ اپنی جگہ اہم ہے، مگر جب یہ واحد زاویہ بن جائے اور اسے انسانی زندگی کے عملی تقاضوں سے نہ جوڑا جائے تو اس کی تاثیر محدود ہو جاتی ہے۔ عہدِ معاصرکی نئی نسل محض جذباتی بیانیے ، جوش خطابت اور روایتی اُسلوب سے مطمئن نہیں ہوتی؛ وہ ایک مربوط فکری ڈھانچہ، معقول استدلال اور عصری منظر نامہ میں اپنی زندگی سے منسلک تناظر چاہتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: خدمت ِ حجاج: سعادت بھی ہے اور امانت بھی

یہی وہ مقام ہے جہاں خطا بِ جمعہ کے اسلوب و جہت پر از سرِ نوغور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ روایت سے دستبرداری اختیار کر لی جائے، بلکہ یہ ہے کہ دینی مضامین اور اصولوں کو اُن کی عصری معنویت کے ساتھ اس اسلوب میں پیش کیا جائے کہ عصرِ حاضر کے اذہان کیلئے اُن کی قبولیت فطری بن جائے اور اثرات دیرپا ثابت ہوں۔ وحی الٰہی کی تعلیمات کے ”ابدی‘‘ہونے کا تقاضہ یہ ہےکہ اُن کی تفہیم و تطبیق ہر عہد کے فکری و سماجی تناظر میں اُسی معنویت کے ساتھ جلوہ گر ہو۔ اگر یہ ربط قائم نہ رہے،تو دین ایک مجرد تصور کی صورت اختیار کر لیتا ہے،جس کے اثرات عملی زندگی کے ایک محدود دائرے میں محصور ہو کر رہ جاتے ہیں۔

آج کا فکری ماحول، جہاں معلومات کی فراوانی ہے مگر حکمت کی کمی ہے، جہاں اظہار کی وسعت ہے مگر سمت کا فقدان ہے، ایک ایسے منبر کا تقاضا کرتا ہے جہاں سے محض روایتی معلومات کی بازگشت نہ ہو بلکہ نورِ الٰہی سے حال کی تعمیر اور مستقبل کی تشکیل ہوسکے۔ خطاب جمعہ اگر دینِ فطرت کے اصولوں کو معاصر مسائل ،اخلاقی انحطاط، خاندانی انتشار، معاشی ناہمواری اور فکری الجھنوں کے ساتھ مربوط انداز میں پیش کرے تو وہ ایک روایتی خطاب کے بجائے ،فکری راہنمائی اور شعوری تربیت کے عمل میں تبدیل ہو سکتا ہے۔تاہم اس پورے عمل کو یک طرفہ نہیں سمجھنا چاہئے۔ جمعہ کا اجتماع اپنی اصل میں ایک باہمی تعامل ہے، جس میں خطیب کی بصیرت کے ساتھ سامع کی سنجیدگی بھی ناگزیر ہے۔

 جمعہ دراصل ایک موقع فراہم کرتا ہے،خود احتسابی کا، فکری تجدید کا، اور اپنی انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کے ادراک کا۔ اگر یہ موقع محض رسمی حاضری میں ضائع ہو جائے تو اس کی معنویت بھی محدود ہو جاتی ہے۔ امت کے موجودہ انتشار کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اختلاف کو اس کے فطری اور مثبت دائرے سے نکال کر تفرقہ اور  مخاصمت میں تبدیل کردیا ہے۔ حالانکہ اسلامی روایت میں اختلافِ رائے کو ایک تعمیری عنصر کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، بشرطیکہ وہ اخلاقی حدود کے اندر رہے۔ جمعہ کا اجتماع اسی اصول کی عملی تعبیر ہے، جہاں اختلاف کے باوجود اجتماع ممکن ہے، اور تنوع کے اندر بھی وحدت قائم رہ سکتی ہے۔ اگر یہ شعور ہماری زندگی میں منتقل ہو جائے تو بہت سی تقسیمیں اپنی شدت کھو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: عہدِ اضطراب، بحرانِ شعور اور فکر ِ اسلامی کی بازیافت

یہ بھی پیشِ نظر رہنا چاہئے کہ جمعہ محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور تہذیبی مظہر بھی ہے۔ یہ وہ موقع ہے جہاں ایک معاشرہ اپنے اجتماعی شعور کی تجدید کر سکتا ہے، اپنی سمت کا تعین کر سکتا ہے، اور اپنے مسائل کو ایک مشترکہ تناظر میں دیکھ سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ جمعہ کو اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ رکھا جائے،ایسا نہ ہو کہ اس کی روایتی اجتماعی صورت برقرار رہے مگر معنویت بتدریج مفقود ہوتی چلی جائے۔

جمعہ کا اصل پیغام اجتماع سے زیادہ ”اجتماعیت‘‘ ہے؛ حاضری سے بڑھ کر”شعورِ حاضری “ہے؛ اور عبادت کے ساتھ”تربیت‘‘ ہے۔ اگر یہ شعور بیدار ہو جائے تو اجتماعِ جمعہ ایک روایتی عمل کے بجائے، اپنی حقیقی روح اور معنویت کے ساتھ ایک فکری تربیت گاہ بن سکتا ہے، ورنہ اجتماع کی موجودگی کے باوجود اجتماعیت کی عدم موجودگی کا یہ تضاد ایک مستقل المیہ بنا رہے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK