صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، لیکن کوئی بھی انسان یا جاندار ہمیشہ صحت مند نہیں ریتا، وہ بیماری سے بھی دو چار ہوتا رہتا ہے۔
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 1:25 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai
صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، لیکن کوئی بھی انسان یا جاندار ہمیشہ صحت مند نہیں ریتا، وہ بیماری سے بھی دو چار ہوتا رہتا ہے۔
صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، لیکن کوئی بھی انسان یا جاندار ہمیشہ صحت مند نہیں ریتا، وہ بیماری سے بھی دو چار ہوتا رہتا ہے۔ انسان کے جسم میں بیماریاں دو طریقے پر آتی ہیں: کبھی باہر سے امراض کا حملہ ہوتا ہے۔ خواہ یہ عمل کسی شخص کی طرف سے ہو، کسی جانور کی طرف سے ہو، یاکسی مشینی تصادم کی شکل میں ہو، یا نہ نظر آنے والے جراثیم یلغار کر دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جسم کے اندر ہی بیماری کے اسباب پیدا ہو جا ئیں۔ یہ اندر سے جسم کو کھوکھلا کر دیتے ہیں اور جیسے گھن دانوں کو کھا جاتا ہے، اسی طرح اندر چھپی ہوئی بیماری انسان کے وجود کو تہہ وبالا کر کے رکھ دیتی ہے۔ اکثر اوقات پہلی بیماری سے بچنا آسان ہوتا ہے، انسان اپنے آپ کی حفاظت کا اہتمام کرتا ہے، قبل از وقت اس کیلئے تیاری کرتا ہے اور پورا جسم مل جل کر اس کے مقابلہ کے لئے مستعد ہو جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ہاتھ تو دشمن سے بچاؤ میں مشغول ہو اور پاؤں ساتھ دینے کے لئے تیارنہ ہو یا دماغ کو منصوبہ بندی کرنے سے انکار ہو۔
یہ بھی پڑھئے: فضیل بن عیاضؒ نے اپنے غلام سے بندگی سیکھ لی!
جیسے افراد صحتمند بھی ہوتے ہیں اور بیماری سے دو چار بھی، اسی طرح قومیں بھی صحت اور بیماری کے مرحلوں سے گزرتی رہتی ہیں۔ یہ بیماری باہر کے حملہ سے بھی پیدا ہوتی ہے اور اندرونی کمزوری سے بھی، جب باہر سے کوئی دشمن ان پر حملہ کرتا ہے تو یہ بات ان کو متحد کر دیتی ہے اور وہ مل جل کر مقابلہ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں، یوں کہ افراد کا اپنی قوم سے وہی تعلق ہوتا ہے جو قطروں کا موجوں سے ہوتا ہے:
فرد قائم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
جو قطرے سمندر سے کٹ جائیں، انہیں ہوا کا معمولی سا جھونکا فضا میں تحلیل کرتا ہے لیکن اگر وہ سمندر کا حصہ ہوں تو ان کی طاقت بے پناہ ہوتی ہے۔ اسی طرح جو افراد قوم کے اجتماعی شیرازہ سے کٹ جاتے ہیں وہ اپنی اہمیت بھی کھو دیتے ہیں اور اپنی شناخت بھی۔ بیرونی حملہ انتہائی بے ضمیر لوگوں کو چھوڑ کر پوری قوم کو حملہ آور دشمنوں کے مقابلہ میں متحد کر دیتا ہے لیکن جب کوئی بیماری اندر پیدا ہوتی ہے اور دبے پاؤں کسی گروہ کے قومی وجود میں سرایت کرنے لگتی ہے تو نہ اس کے دفاع کی طرف توجہ ہوتی ہے، نہ اس کے مقابلہ کے لئے اتفاق واتحاد کی صورت بن پاتی ہے اور نہ اس کے بارے میں فکر مندی اور بے قراری پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیماری کسی بھی قوم وملت کے اجتماعی وجود کے لئے بے حد نقصاندہ ہے، اسے کوئی بیرونی طاقت نقصان نہیں پہنچاتی : بلکہ وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچاتی ہے۔ وہ پورے جوش خروش کے ساتھ کبھی نادانستہ اور کبھی دانستہ، دوسروں کا آلہ کار بن کر اسی ٹہنی کو کاٹنے کی کوشش کرتی ہے جس پر اس کا نشیمن بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قرآن کی تعلیمات بار بار متوجہ کرتی ہیں کہ انسان اپنی رائے کو آخری نہ سمجھے
اللہ کے رسولؐ نے اپنے ایک ارشاد میں اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ یہ حدیث موجود ہ حالات کی ایسی تصویر ہے کہ گو یا بیان کرنے والے کی نگاہوں کے سامنے آج کے حالات نقش دیوار کی طرح موجود تھے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ سے منقول ہے، فرماتے ہیں:
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہوئے سنا: اے ثوبان! اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب دوسری امتیں تم پر یوں ٹوٹ پڑیں گی، جیسے تم کھانے کے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسولؐ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں، کیا ہماری کم تعداد کی وجہ سے ایسے ہو گا؟ اس سوال کے جواب میں آپؐ نے فرمایا: نہیں، تم اس وقت بہت زیادہ ہو گے، لیکن تمہارے دلوں میں وَھَن ڈال دیا جائے گا۔ انہوں نے پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! وَہن کیا ہوتا ہے؟ آپؐ ؐنے فرمایا: تمہارا دنیا سے محبت کرنا اور دشمن سے پنجہ آزمائی سے گریز کا پیدا ہو جانا۔‘‘ (مسند احمد)
مسلمانوں کی زبوں حالی کا اصل سبب یہی دو با تیں ہیں، جن کی طرف آپؐ نے اشارہ فرمایا ، ایک: دنیا کی بڑھتی ہوئی حرص و طمع، مال و متاع کا لالچ، عہدوں کا حرص، سیاسی مقام و مرتبہ کی طلب، نت نئی خواہشات کی تکمیل کا جنون اور دوسرے : پست ہمتی، کم حوصلگی، خوشامد اور ظالموں سے پنجہ آزمائی کرنے سے کترانا اور گھبرانا۔
دنیا سے ہماری محبت مختلف انداز سے ظاہر ہوتی ہے۔ کبھی اس طرح کہ تجارت و صنعت کا لائسنس مل جائے، کبھی اس طرح کہ کوئی سرکاری عہدہ حاصل ہوجائے، کبھی اس لئے کہ سیاست کے آسمان پر ہم بھی چمکنے لگیں یا تعلیمی، معاشی یا رفاہی ادارے قائم کرنے کی اجازت حاصل ہوجائے، وغیرہ۔ غرض کہ طلب ِ دُنیا کی الگ الگ شکلیں ہوسکتی ہیں لیکن ان سب میں قدر ِ مشترک یہ ہے کہ ایک مسلمان کی دینی غیرت، ملی حمیت، انصاف کی طرفداری، اخلاقی اقدار کی پاسداری اور عقل و مصلحت پر رعایت ِدنیا کی طلب کا جذبہ حاوی ہوجائے اور اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو جو زندہ ضمیری عطا کی ہے وہ شخص اسے موت کی نیند سلادے اور بے ضمیری کو اپنا شیوہ بنالے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈجیٹل عہد میں مثبت مکالمے کا زوال اور اسلامی روایات
دوسرا سبب وہی ہے کہ یا تو انسان اپنے مفادات کی وجہ سے قصداً ظلم و جور کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا چھوڑ دے یا ہمت ہار جائے اور جرأت و بہادری کے بجائے بزدلی اور خوشامد کو اپنا طریقہ بنالے۔ اللہ کے رسولؐ، سرکار دو عالمؐ نے صرف یہی حکم نہیں دیا کہ انسان اپنے دامن کو ظلم سے بچائے رکھے بلکہ اس بات کو بھی مسلمانوں کا فریضہ ٹھہرایا کہ وہ ظالم کو ظلم سے روکیں اور اپنی صلاحیت اور طاقت کے مطابق ظلم کرنے والوں کا مقابلہ کریں۔ مقابلہ کے درجنوں طریقے ہیں، مقابلہ عقل و فہم سے بھی ہوتا ہے، حکمت عملی کے ذریعہ بھی وہتا ہے، ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ کر بھی ہوتا ہے، اور جمہوری ملکوں میں ووٹ دے کر بھی ہوتا ہے۔ مقابلے کی ان صورتوں کو ہمہ وقت ذہن میں رکھنا چاہئے ۔