Inquilab Logo Happiest Places to Work

لیلۃ القدر انسانی شعور، خود احتسابی اور باطنی بیداری کا عظیم موقع ہے

Updated: March 13, 2026, 1:34 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai

انسان کیلئے ایک ایسا روحانی لمحہ ہے جو اسے اپنے باطن کی دنیا سے روشناس کراتا اور یہ یاد دلاتا ہے کہ زندگی کا اصل حسن مادی کامیابی میں نہیں بلکہ شعور، ایمان اور باطنی سکون میں ہے۔

For a person busy in the hustle and bustle of worldly life, Laylatul Qadr provides an opportunity to stand before the Lord. Photo: INN
دنیاوی زندگی کی بھاگ دوڑ میں مصروف انسان کے لئے لیلۃ القدر رب کے حضور کھڑے ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک کا مہینہ اپنے اندر روحانی بالیدگی، فکری بیداری اور اخلاقی تربیت کی بے شمار جہتیں سموئے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ مہینہ دراصل انسان کے ظاہر و باطن کی اصلاح کا ایک ہمہ گیر پروگرام ہے۔ روزہ انسان کو صرف بھوک اور پیاس  سہنے یا برداشت کرنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ اسے اپنے نفس پر قابو پانے، اپنے جذبات کو متوازن رکھنے اوراپنے اندرونی اضطراب کو قابو میں رکھنے کی تربیت بھی فراہم کرتا ہے۔ اسی روحانی تربیت کے نقطۂ عروج پر ایک ایسی عظیم رات آتی ہے جسے قرآن نے لیلۃ القدر کے نام سے یاد کیا ہے۔ یہ رات عبادت کی ایک مقدس ساعت ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی شعور کی بیداری، نفسیاتی توازن اور باطنی اصلاح کا ایک بے مثال موقع ہے۔ اگر انسان اس رات کی حقیقت کو سمجھ لے تو وہ اپنی زندگی کے اندر وہ تبدیلی پیدا کر سکتا ہے جو اسے فکری الجھنوں، روحانی کمزوریوں اور نفسیاتی بے چینیوں سے نکال کر ایک متوازن اور بامقصد زندگی کی طرف لے جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شب ِ قدر: صرف دُعا کی قبولیت ہی کی رات نہیں بلکہ تمام انسانیت کیلئے شب ِنجات ہے

انسانی زندگی کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ اکثر غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔ روزمرہ کی مصروفیات، مادی خواہشات اور دنیاوی مشاغل اسے اس قدر گھیر لیتے ہیں کہ وہ اپنی اصل حقیقت اور اپنی زندگی کے مقصد کو بھول جاتا ہے۔ قرآن مجید نے اسی کیفیت کو غفلت سے تعبیر کیا ہے۔ جب انسان غفلت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس کے اندر اضطراب، بے چینی اور بے مقصدیت پیدا ہونے لگتی ہے۔ یہی وہ نفسیاتی حالت ہے جو جدید انسان کی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ آج کے دور میں انسان کے پاس وسائل کی کمی نہیں، مگر اس کے باوجود اس کے دل میں سکون نہیں۔ ذہنی دباؤ، اضطراب اور بے یقینی اس کی شخصیت کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں لیلۃ القدر انسان کو ایک ایسی روحانی فضا فراہم کرتی ہے جس میں وہ اپنے اندر جھانک سکتا ہے اور اپنی نفسیاتی حالت کا ازسرنو جائزہ لے سکتا ہے۔

لیلۃ القدر کی اصل عظمت اس حقیقت سے وابستہ ہے کہ یہ قرآن کے نزول کی رات ہے۔ قرآن مجید نے فرمایا: ’’بے شک ہم نے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا۔‘‘ یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ لیلۃ القدر دراصل ہدایت کے نزول کی رات ہے۔ قرآن کا پیغام انسان کے شعور کو بیدار کرنے اور اسے زندگی کے حقیقی مقصد سے روشناس کرانے کیلئے نازل ہوا۔ قرآن انسان کو محض عبادت کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ اسے سوچنے، غور کرنے اور تدبر کرنے کی بھی دعوت دیتا ہے۔ یہی تدبر دراصل انسانی نفسیات کی اصلاح کا بنیادی ذریعہ بنتا ہے۔ جب انسان قرآن کی آیات پر غور کرتا ہے تو اس کے اندر ایک نئی بصیرت پیدا ہوتی ہے، اس کے خیالات میں وضاحت اور وسعت آتی ہے اور اس کے اندرونی اضطراب میں کمی واقع ہوتی ہے۔

علمِ نفسیات کے ماہرین کے نزدیک انسان کی ذہنی صحت کا ایک اہم پہلو خود آگہی ہے جسے Self-Awareness کہا جاتا ہے۔ جب انسان اپنے خیالات، احساسات اور رویوں کو سمجھنے لگتا ہے تو وہ اپنی شخصیت کو بہتر طور پر سنوار سکتا ہے۔ اسلام نے اس اصول کو بہت پہلے بیان کر دیا تھا۔ قرآن مجید انسان کو بار بار اپنے نفس کا محاسبہ کرنے اور اپنی زندگی پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ لیلۃ القدر کی رات دراصل اسی خود آگہی کو بیدار کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ جب انسان خاموش رات میں اپنے رب کے حضور کھڑا ہوتا ہے تو اس کے اندر ایک گہری سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنے ماضی کے اعمال پر غور کرتا ہے، اپنی غلطیوں اور خطاؤں کو محسوس کرتا ہے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا عزم کرتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کے اندر حقیقی تبدیلی کی بنیاد پڑتی ہے۔یہی،  تبدیلی کا نقطۂ آغاز ہوتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: لیلۃ القدر کا عطا کیا جانا اُمت ِ مسلمہ کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے

قرآن مجید نے انسان کو تدبر کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: ’’ کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ ‘‘ یہ سوال دراصل انسان کے شعور کو جھنجھوڑنے کیلئے  ہے۔ قرآن چاہتا ہے کہ انسان اس کے پیغام کو محض الفاظ کے طور پر نہ پڑھے بلکہ اس کے معنی اور اس کی حکمتوں پر غور کرے۔ جب انسان قرآن کے پیغام پر تدبر کرتا ہے تو اس کے اندر ایک نئی فکری روشنی پیدا ہوتی ہے۔ یہ روشنی اس کے ذہن میں موجود الجھنوں کو دور کرتی ہے اور اسے زندگی کے بارے میں ایک واضح نقطۂ نظر فراہم کرتی ہے۔ لیلۃ القدر کی رات چونکہ قرآن سے خصوصی نسبت رکھتی ہے، اس لئے یہ رات تدبرِ قرآن کا ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتی ہے۔

انسانی نفسیات میں تبدیلی کا عمل اچانک نہیں ہوتا بلکہ یہ شعور کی بیداری سے شروع ہوتا ہے۔ جب انسان کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوتا ہے اور وہ اپنی زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کرتا ہے تو اس کے اندر اصلاح کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ لیلۃ القدر کی رات اسی بیداری کا نقطۂ آغاز بن سکتی ہے۔ اس رات کی خاموشی اور سکون انسان کے ذہن کو ایک خاص کیفیت میں لے آتے ہیں۔ جب انسان رات کے پُرسکون ماحول میں عبادت کرتا ہے،  دعا کرتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو اس کے اندرونی اضطراب میں کمی آتی ہے۔ اس کے دل میں امید اور سکون کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہی کیفیت اس کی نفسیاتی حالت میں بہتری لانے کا سبب بنتی ہے۔
قرآن مجید نے دل کے اطمینان کو ایمان اور ذکرِ الٰہی سے جوڑا ہے:’’ یاد  رکھو! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔‘‘ یہ آیت انسانی نفسیات کے ایک اہم اصول کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جب انسان کا دل اللہ کی یاد سے وابستہ ہو جاتا ہے تو اس کے اندرونی اضطراب میں کمی آتی ہے۔ اس کے دل میں سکون اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ لیلۃ القدر کی رات چونکہ ذکر، دعا اور عبادت کی رات ہے، اس لئے یہ انسان کے دل کو سکون فراہم کرنے کا ایک غیر معمولی موقع بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۱): ہوٹلوں میں ہجوم دیکھ کر لگا کہ لوگ گھریلو کھانوں سے اکتا گئے

آج کے دور میں انسان ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔ مسلسل مصروفیت، مقابلہ آرائی اور مستقبل کی بے یقینی اس کے ذہن پر بوجھ ڈالتی ہے۔ ایسے حالات میں لیلۃ القدر کی رات انسان کے لئے ایک روحانی وقفہ فراہم کرتی ہے۔ یہ رات اسے دنیا کی ہنگامہ خیزی سے الگ ہو کر اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔ جب انسان کچھ دیر کے لئے دنیاوی مصروفیات سے الگ ہو جاتا ہے تو اس کے ذہن میں وضاحت پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کے بارے میں نئے زاویے سے سوچنے لگتا ہے۔ یہی سوچ اس کے اندر مثبت تبدیلی کا آغاز بن سکتی ہے۔
لیلۃ القدر کی رات دراصل انسان کو اپنے باطن سے ملاقات کا موقع دیتی ہے۔ عام حالات میں انسان اپنے آپ سے ملنے کا وقت نہیں نکال پاتا۔ وہ مسلسل بیرونی سرگرمیوں میں مصروف رہتا ہے اور اپنے اندرونی احساسات کو نظر انداز کر دیتا ہے مگر جب وہ خاموش رات میں اللہ کے حضور کھڑا ہوتا ہے تو اس کے اندر ایک گہرا مکالمہ شروع ہو جاتا ہے۔

وہ اپنے ماضی، اپنے حال اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی زندگی ایک مقصد کے تحت تخلیق کی گئی ہے اور اسے اس مقصد کو سمجھ کر اپنی زندگی گزارنی چاہئے۔ یہی احساس دراصل انسانی شعور کی حقیقی بیداری ہے۔ لیلۃ القدر کی اصل برکت یہ ہے کہ یہ انسان کے اندر تبدیلی کا عزم پیدا کرتی ہے۔ جب انسان اپنے گناہوں پر ندامت محسوس کرتا ہے اور اللہ سے معافی مانگتا ہے تو اس کے دل میں ایک نئی امید پیدا ہوتی ہے۔ وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کیلئے اصلاح کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا۔ یہی امید اسے نئی زندگی شروع کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ حقیقی تبدیلی صرف ایک رات میں مکمل نہیں ہو جاتی۔ مگر ایک رات انسان کے اندر وہ عزم ضرور پیدا کر سکتی ہے جو اس کی پوری زندگی کو بدلنے کا سبب بن جائے۔ لیلۃ القدر کی رات اگر انسان کو اپنی زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر دے، اگر یہ اسے اپنی غلطیوں کا احساس دلا دے اور اگر یہ اسے اللہ کے قریب کر دے تو یہی اس رات میں انسان کی سب سے  بڑی کامیابی ہے۔

لیلۃ القدر صرف عبادت کی ایک مقدس رات نہیں بلکہ انسانی شعور کی بیداری کا ایک عظیم موقع ہے۔ یہ رات انسان کو اپنے نفس کا جائزہ لینے، اپنے خیالات کو منظم کرنے اور اپنی زندگی کو نئی سمت دینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر انسان اس رات کو تدبر، خود احتسابی اور اصلاحِ باطن کے جذبہ کے ساتھ گزارے تو یہ اس کی نفسیاتی حالت میں مثبت تبدیلی پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو انسان کو ایک بامقصد، متوازن اور روشن زندگی کی طرف لے جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حضرت علیؓ کا یومِ شہادت (۲۱؍ رمضان المبارک)

لیلۃ القدر انسان کیلئے ایک ایسا روحانی لمحہ ہے جو اسے اپنے باطن کی دنیا سے روشناس کراتا ہے۔ یہ اسے یاد دلاتا ہے کہ زندگی کا اصل حسن مادی کامیابی میں نہیں بلکہ شعور، ایمان اور باطنی سکون میں ہے۔ جب انسان اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے تو  اُس میں ایک تبدیلی جنم لیتی ہے۔ یہی لیلۃ القدر کا حقیقی پیغام  اور یہی اس کی اصل برکت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK