• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

سرسید احمد خاں کی طرح آج بھی تعلیم کے حوالے سے تحریک چلانے کی ضرورت ہے

Updated: October 17, 2023, 1:27 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai

’آج کی تاریخ میں سرسید کی کیا اہمیت ہے؟ ‘ کے حوا لے سے زیر نظر کالموں میں’علیگ برادری‘ سے تعلق رکھنے والوں سے ان کے تاثرات جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آج اگر وہ ہوتے توملک کے سیاسی، سماجی اور تعلیمی ماحول میں قوم کیلئے کون سا نسخہ تجویز کرتے؟

Syed Ahmad Khan. Photo: INN
سید احمد خان۔ تصویر:آئی این این

سرسید احمد خاں کے مشن کو آگے بڑھانا وقت کا اہم تقاضا ہے


سرسید احمد خاں نے قوم کی ترقی کیلئے تعلیم کو کلید قرار دیا تھا۔ ان کا وہ خیال آج بھی سو فیصد صادق آتا ہے۔ آج تعلیم سے معیشت کا براہ راست تعلق ہے اور معیشت سے سیاست و قیادت کا بہت گہرا رشتہ ہے۔ اگر ہم قومی سطح پر دیکھیں تو ملک کو سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ کچھ چنند ہ سرمایہ دار چلاتے ہیں ۔ اسی طرح بین الاقوامی سطح پر دیکھیں تو کئی ملکوں کی سیاست پر یہودی سرمایہ داروں کا تسلط ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اِس وقت دنیا پر معیشت کا غلبہ ہے۔ سرسیدبھی یہی چاہتے تھے کہ مسلمان تعلیم حاصل کریں ، اس سے وہ اپنی معیشت مضبوط کریں ، پھر ملک و قوم کے تعلق سے منصوبہ بندی کریں اور سیاست و قیادت پر اپنے اثرات مرتب کریں ۔ حضرت عمرؓ نے اپنے دور حکومت میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا تھا، جسے بعد میں سرسید نے آگے بڑھایا۔ یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ اگر زکاۃ کا نظام بہتر ہوجائے تو مسلمانوں کےدرمیان سے غربت ختم ہوجائے گی۔ غور کیجئے جب ڈھائی فیصد کے تعلق سے ہمارا یہ خیال ہے تو بقیہ ۹۷ء۵؍ فیصدی کا استعمال کےکتنے بہترین نتائج برآمد ہوں گے۔سلطنت عثمانیہ کے دور میں بیت المال کے ساتھ ہی ’وقف فنڈ‘ کا بھی استعمال ہوتا تھا لیکن اب وہ نظام ختم ہوگیا اور یہی ہمارے سیاسی زوال کا سبب بنا۔آج کی تاریخ میں اگر سرسید ہوتے تو وہ یقیناً اس سمت میں کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرتے ، تحریک چلاتے اور خود عمل کرکے دکھاتے۔آج اکثر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کوئی بات ہوتی ہے تو مسلمانوں کے بائیکاٹ کی اپیل ہونے لگتی ہے ،اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم سے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم کچھ اس طرح کی منصوبہ بندی کریں کہ ہم سے برادران وطن کو بھی معاشی فائدہ پہنچے۔ اگر ہم ان کیلئے نافع ہوں گے تو وہ کبھی اس طرح کی بات نہیں کریں گے بلکہ ساتھ چلنے کی ضرورت محسوس کریں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بھی اس مشن کو آگے بڑھائیں اور ملک و قوم کی ترقی کیلئے تعلیم سے معیشت اور اس سے قیادت کا رشتہ مضبوط کریں۔
سید زاہداحمد (ماہر معاشیات)، ممبرا
سرسید کی کوششوں سےمسلمانوں میں جدید سوچ اور فکر کو راہ ملی تھی


سرسید کی بنیادی شناخت اپنی قوم کے لوگوں کی تعلیمی اور سماجی مصلح کی ہے۔ انھوں نے ایک ایسے وقت میں اپنی قوم کو علم کی دولت کے حصول کی جانب راغب کیا ،جب ملک میں مسلمانوں کیلئے حالات بہت نازک تھے ۔ اگر اس عہد میں سرسید ہوتے اور اپنی قوم کی تعلیمی سماجی اور اقتصادی صورت حال دیکھتے تو یقیناً انتہائی پریشان ہوتے۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کے آپسی اختلافات اور تنازعات کی جانب توجہ کرتے تو انہیں اپنی تمام تر اصلاحی اور سماجی کوششوں کے ضائع و برباد ہونے کا اندازہ ہوتا۔یہ حقیقت ہے کہ سرسید کی کوششوں کے بعد مسلمانوں میں جدید سوچ اور فکر کو راہ ملی تھی مگر وہ روایت موجودہ عہد میں شکست خوردگی کا شکار ہے۔ان کی اپنی یونیورسٹی بھی نت نئے تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔مسلمان آج جس سیاسی اور سماجی عدم توجہی کا شکار ہیں اس کا سبب جہاں ہندوستانی سیاسی نظام ہے وہیں مسلمانوں کی اپنی بے حسی بھی ہے۔ ایسے میں ضروری ہےکہ مسلمان ایک بار پھر سرسید کے مشن کو آگے بڑھائیں۔
ڈاکٹر ابوالبرکات (ڈائریکٹر ، مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی، ممبئی ریجن)
....تو ملک اسپین کے رُخ پر چلاجاتا


۱۸۵۷ء کا وہ دور جب ملک پر قابض حکومت نے مسلمانوں کو اپنے نشانے پر لے رکھاتھا، آج کے حالات سے کہیں زیادہ ابتر تھا۔مسلمانوں کو ہر طرح سے پریشان کیاجارہا تھا۔ ملک میں ان کا مستقبل تاریک نظر آنے لگا تھا۔ایسے میں سرسید احمد خاں سامنے آئے اور آگے بڑھ کرمسلمانوں کی قیادت کی، انہیں نئی روشنی دکھائی اور اُن کا رُخ تعلیم بالخصوص اعلیٰ تعلیم کی طرف موڑا۔ وہ بہت دور اندیش تھے۔ان کی دوراندیشی کے قائل ان کے مخالفین بھی تھے۔اسلئے یہ بات کہی جاتی ہے کہ اگر سرسید نہ ہوتے اور انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی، سماجی، معاشی اور تعلیمی بہتری کے حوالے سے تحریک شروع نہ کی ہوتی تو ملک اسپین کے رخ پر چلاجاتا... اور آج ہم یہاں ہندوستان میں بھی مسلمانوں کی زبوں حالی کی تاریخ رقم کی جارہی ہوتی۔اس لئے سرسید احمد خاں کی خدمات اور قوم کے تئیں ان کے درد کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی اہمیت کل بھی تھی، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گی۔سرسید احمد خاں کی تحریک کا اثر تھا کہ ملک گیر سطح پر جدید تعلیم کے ادارے قائم ہوئے جہاں سے تعلیم حاصل کرکے مسلمانوں نے ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیا۔ برادران وطن کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعلیمی شرح ہمیشہ سے کم رہی ہے لیکن یہ جو بھی مسلمانوں کی تعلیمی شرح ہے، اس میں علی گڑھ تحریک کا نمایاں کردار ہے۔ اس کاا عتراف ملک کے اولین وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے ایک موقع پر یہ بات کہی تھی کہ ملک ،بالخصوص ملک کے مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنانے میں سرسید کا رول بہت اہم ہے۔ ملک میں آج بھی مسلمانوں کیلئے سیاسی حالات اچھے نہیں ہیں لیکن اتنے خراب بھی نہیں ہیں ، جتنے کہ اُس دور میں تھے۔ اسلئے ضروری ہے کہ حالات اور وسائل کا شکوہ کئے بغیر قوم کی ترقی کیلئے کام کریں اور یہ کام انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر ہو۔ 
محمد وجیہہ الدین (سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر، ٹائمز آف انڈیا، ممبئی)
 ملک اور قوم کیلئے کچھ کرنے کی ضرورت ہے


سرسید احمد خاں نے ہندوستان کیلئے اور ہندوستانی مسلمانوں کیلئے جو کچھ کیا، اس سے آج پوری دنیا فیضیاب ہورہی ہے۔ ایک واقعہ ہے کہ ایک دفعہ ریاض جانا ہوا تو وہاں پتہ چلا کہ جس عمارت میں قیام تھا، وہاں کے سارے دفاتر میں ’علیگ‘ برادری موجود تھے۔ کچھ یہی صورتحال دنیا کے مختلف خطوں کی ہے۔ آج پوری دنیا میں آپ کہیں بھی چلے جائیں ، وہاں آپ کو مختلف اہم عہدوں پر علیگ برادری سے ہوجائے گی۔ یہ دراصل ان کی دوراندیشی تھی۔ انہوں نے مسلمانوں کو زمانے سے ہم آہنگ کرنے کی یہ مہم اُس وقت شروع کی، جب مسلمانوں کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا تھا۔ حالانکہ ان کی مخالفت بھی ہوئی لیکن یہ تو سماجی مصلح کے ساتھ ہوتا ہے۔ان کی مخالفت کی وجہ کچھ تو اُس وقت کے حالات تھے تو کچھ ان کے تعلق سے پائی جانے والی غلط فہمی۔ حالانکہ ان کا مشن بالکل واضح تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان دنیا کی امامت کریں ۔ اسلئے انہوں نے مسلمانوں سے یہ بات کہی تھی کہ ’’ہمارے دائیں ہاتھ میں قرآن ہو، بائیں ہاتھ میں سائنس اور پیشانی پر کلمہ لاالہ الااللہ تحریر ہو۔‘‘ علی گڑھ میں رہ کر میں نے اس کی عملی تفسیر دیکھی ہے۔ وہاں کاماحول بالکل وہی تھا جیسا وہ چاہتے تھے، خالص اسلامی۔ پڑھائی کا بہترین ماحول۔ پردہ بلکہ مکمل پردہ ہوتا تھا۔ یہی سب کچھ دیکھ کر میرے والد نے وہاں پر میرا داخلہ کروایا تھا کیونکہ وہ مخلوط تعلیمی نظام کے خلاف تھے۔آج کی تاریخ میں بھی ہم سب کو اسی مشن کے ساتھ آگے بڑھنے اور ملک اور قوم کیلئے کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ 
آمنہ محمد حنیف یونیورسل، مالیگاؤں 
سرسید اس نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے


 سرسید احمد خاں نے تعلیم کے میدان میں جو کچھ کیا، اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا ... لیکن اسی کے ساتھ انہوں نے کچھ دوسرے محاذ پر بھی کام کیا تھا، جنہیں آج کی تاریخ میں ان کے حوالے سے یاد کیا جانا چاہئے۔ ان میں سب سے اہم بات تحریر و تقریر کی آزادی تھی۔ ہندوستان میں بہت ساری یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے ہیں لیکن اپنا مافی الضمیر بیان کرنے میں جو مرتبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور وہاں کے طلبہ کو حاصل رہا ہے، وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا، اس کی ایک الگ شناخت تھی، وہاں کے طلبہ ہر ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے تھے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ رفتہ رفتہ اس کی وہ حیثیت دھندلی ہوتی جارہی ہے۔ آج پورے ملک میں آواز کو دبانے کی کوشش ہورہی ہے، احتجاج کا حق چھینا جارہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آج اگر سرسید ہوتے تو اس نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے اور احتجاج کا حق چھینے جانے کے خلاف احتجاج کرتے۔ افسوس کی بات ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی ’زباں بندی‘ کا دور چل رہا ہے، احتجاج کا حق چھینا جارہا ہے۔ سرسید احمد خاں نے جن حالات میں تعلیم کی تحریک شروع کی تھی، اس کا مقصد ہی یہی تھا کہ مسلمان ’ان‘ حالات سے باہر نکلیں ، اپنی بنیاد مضبوط کریں اور ملک وقوم کیلئے نافع بنیں ۔اس کیلئے انہوں نے یونیورسٹی قائم کی تھی۔آج بھی مسلمانوں کو موجودہ حالات سے باہر نکلنے اور اپنی بنیادوں کو مضبوط کرنے کیلئے اسی تعلیم کا سہارا لینا ہوگا ۔ سرسید احمد خاں نے خواتین کو اختیار بنانے کے ساتھ ہی ان کے تحفظ پر بھی زور دیا تھا۔ آج انہیں بااختیار بنانے کی باتیں تو خوف ہورہی ہیں لیکن وہ اس ’بااختیارسماج‘ میں غیر محفوظ ہوتی جارہی ہیں ۔ سماج کو اس محاذ پر بھی کام کرنا ہوگا اور ان کے نظریات و خیالات سے استفادہ کرنا ہوگا۔ 
شیخ عائشہ مشیر احمد (اسسٹنٹ پروفیسر، جی ایم مومن ویمنس کالج، بھیونڈی)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK