لاک ڈائون : ہمارے ادباء و شعراء کے زیر مطالعہ کون سی کتاب ہے

Updated: March 30, 2020, 1:27 PM IST | Mubasshir Akbar

کورونا وائرس کے تیزی کے ساتھ پھیلائو نےپوری دنیا کو گھروںتک مقید کردیا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف سماجی رابطے منقطع ہو گئے ہیں بلکہ معیشت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے لیکن کورونا کی وجہ سےہونے والے لاک ڈائون نےلوگوں کو بھرپو ر موقع فراہم کیا ہے کہ اپنی مطالعہ کی عادت کو دوبارہ اپنائیں اور اس خالی وقت میں کچھ نہ کچھ پڑھتے رہنے کو ترجیح دیں کیوں کہ مطالعہ ذہنی غذا ہے اور ایسے انتشار اور درد و غم کے دور میں مطالعہ ہر درد کا مداوا ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم نےاپنے ادباء و شعراء سے جاننے کی کوشش کی کہ لاک ڈائون کے اس دور میں ان کے زیر مطالعہ کون کون سی کتابیں ہیں۔

Barceloan, Lockdown - Pic : PTI
بارسلونا ، لاک ڈاؤن ۔ تصویر : پی ٹی آئی

 کورونا وائرس کے تیزی کے ساتھ پھیلائو نےپوری دنیا کو گھروںتک مقید کردیا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف سماجی رابطے منقطع ہو گئے ہیں بلکہ معیشت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے لیکن کورونا کی وجہ سےہونے والے لاک ڈائون نےلوگوں کو بھرپو ر موقع فراہم کیا ہے کہ اپنی مطالعہ کی عادت کو دوبارہ اپنائیں اور اس خالی وقت میں کچھ نہ کچھ پڑھتے رہنے کو ترجیح دیں کیوں کہ مطالعہ ذہنی غذا ہے اور ایسے انتشار اور درد و غم کے دور میں مطالعہ ہر درد کا مداوا ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم نےاپنے ادباء و شعراء سے جاننے کی کوشش کی کہ  لاک ڈائون  کے اس دور میں ان کے زیر مطالعہ کون کون سی کتابیں ہیں۔ 
  ملک کے سینئر شاعر اعجاز ہندی نے بتایا کہ فی الحال ان کا کافی وقت تلاوت اور ذکر و اذکار میں گزررہا ہے لیکن ساتھ ہی وہ محی الدین غازی  کے تحریر کردہ خلاصہ قرآن ’قرآن مجید کا پیغام عمل‘ بھی پڑھ رہے ہیں اور اس سے تحریک لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ  ان کے زیر مطالعہ حال ہی میں شائع ہونے والے  خان حسنین عاقب کے تحقیقی مقالات ’کم و بیش‘ اور انہی پر محسن ساحل کی مرتب کردہ کتاب ’ہمہ آ فتاب بینم ‘بھی ہے ۔ دونوں ہی کتابیں موجودہ دور میں ادبی و شعری صورتحال کو بڑی حد تک واضح کرتی ہیں ۔  انہوں نے کہا کہ مطالعہ کی عادت ہمیں صرف لاک ڈائون میں نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے برقرار رکھنی چاہئے۔ لاک ڈائون تو ایک بہانہ ہے جس کے ذریعے ہم مطالعہ کے اپنے ذوق کو اور بھی جلا بخش سکتے ہیں۔
 معروف کالم نگار اور ناول نگار ڈاکٹر سلیم خان نے کہا کہ ’’ لاک ڈائون کا اگر کوئی مثبت استعمال کر رہاہو گا تو وہ ہمارے ادباء و شعراء ہی ہو ں گے جو اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مطالعہ کو اور بھی وسیع کرنے کی کوشش کریںگے ۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ فی الحال وہ حالات حاضرہ پرلکھے جارہے مضامین ، جو انٹر نیٹ پر دستیاب ہیں ، کو  زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔ ان مضامین کی مدد سے  مسائل کی اصل جڑ تک پہنچنے میں اورحالات کا تجزیہ کرنے میں سہولت ہو تی ہے۔ ڈاکٹر سلیم خا ن نے مزید بتایا کہ ان مضامین کے علاوہ گزشتہ دنوں ہی انہوں نے معروف ادیبہ صادقہ نواب سحر کا ناول ’جس دن سے ‘ مکمل کیا ہے۔فی الحال وہ کورونا سے متعلق بیداری لانے کے ویڈیوز بنانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
 معروف تجزیہ نگار، شاعر و ادیب ڈاکٹر محمد یحییٰ جمیل نے بتایا کہ چونکہ انہیں تاریخ سے دلچسپی ہے اس لئے وہ لاک ڈائون کے اس وقت میں  تاریخ سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔  انہوں نے بتایا کہ ا س وقت ان کے مطالعہ میں محب الحسن کی کتاب  ’ہندوستانی دور وسطیٰ کےمورخین ‘  اور محمد مجیب کی ’ ہندوستانی مسلمان ‘ ہیں۔ یہ دونوں کتابیں ہندوستان میں مسلمانوں کے ماضی  اور موجودہ دور کی عکاسی کرتی ہیں۔ ہندوستانی دور وسطیٰ کے مورخین پر انہوںنے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں ملک کے مشہور مورخین پر تحریر کئے گئے مقالے ہیںجو خاصے کی چیز ہیں۔ان میں ضیاء الدین برنی ، امیر خسرو اور ایسے ہی دیگر دور وسطیٰ کے مورخین کا ذکر ہے جن پر عرفان حبیب ، رومیلا تھاپر اور دیگر مورخین نے مقالے تحریر کئے ہیں۔ ڈاکٹر یحییٰ جمیل کے مطابق دونوں ہی کتابیں موجودہ تناظر میں کافی اہمیت کی حامل ہیں اور انہیں ہر ادیب کو ضرور پڑھنا چاہئے۔
 ادبی مجلہ نیا ورق کے مدیرشاداب رشید  نے بتایا کہ صرف لاک ڈائون ہی نہیں بلکہ  عام دنوں میں بھی ان کا مطالعہ کا یہی معمول ہے کہ وہ ۱۰؍ سے۱۲؍ دن میں ایک کتاب مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس وقت لاک ڈائون کی وجہ سے وقت زیادہ میسر آرہاہے جس کا  وہ فائدہ اٹھارہے ہیں۔ شاداب رشید کے مطابق  اس وقت ان کے مطالعہ میں عرب معاشرے پر لکھا گیا ناول ’العاصفہ ‘ ہے جو حسن منظر نے تحریر کیا ہے۔  اس کے علاوہ معروف مراٹھی ادیب بھال چندر نیماڈے کا ناول ’ کوسلا ‘ بھی ان کے زیر مطالعہ ہے جسے مشرف عالم ذوقی نے ترجمہ کیا ہے۔ساتھ ہی وہ اختر حسین رائے پوری کی خود نوشت ’گرد راہ ‘ بھی پڑھ رہے ہیں۔ اس کتاب کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ چونکہ انہیں یہ کتاب تیار کرنی ہے اور شائع کرنا ہے اس لئے وہ اسے ٹائپ بھی کررہے ہیںاور ساتھ ہی پڑھتے بھی جارہے ہیں۔
   سہ ماہی مجلہ تکمیل کے نائب مدیر عامر اصغرقریشی  نے ہمیں بتایا کہ خلاف معمول حاصل ہونے والی چھٹی اور فرصت کے ان دنوں میں میری یہ کوشش ہے کہ کسی بھی طرح سے ان اوقات کو اپنے  لئے فائدہ مند بناؤں۔ انہوںنے بتایا کہ فی الوقت دو کتابیں  زیر مطالعہ ہیں جن میں پہلی کتاب اردو کے معروف ترقی پسند شاعر اخترالایمان کی خود نوشت ’’اس آباد خرابے میں‘‘ ہے۔اس خود نوشت میں اخترالایمان نے اپنے بچپن سے کتاب لکھے جانے تک واقعات کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ قاری ان واقعات میں کھو جاتا ہے اور اپنے آپ کو اخترالایمان کے ساتھ ساتھ پاتا ہے ۔دوسری کتاب پروفیسر سید اقبال کے ان مضامین کا انتخاب ہےجو  روزنامہ انقلاب میں سائنس اور سماج کے عنوان کے تحت شائع ہوئے ہیں۔ سید خالد  نے یہ ایک بڑا کام انجام دیا ہے کہ  پروفیسر سید اقبال  کے تقریباً۱۵۰۰؍ مختلف موضوعات پر تحریر کیے گئے مضامین میں سے ۵۰؍مضامین کا انتخاب کر کے اسے کتابی شکل میں پیش کر دیا ہے۔ سائنس اور سماج کے عنوان پر مضامین دیکھ کر قاری یہ سوچ سکتا ہے کہ اس میں سائنس کے موضوعات پر مضامین ہوں گے جو اپنے متن کے اعتبار سے بوجھل اور نا پسندیدہ ہوں گے لیکن جب کتاب کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس میں صرف سائنس کے موضوعات پر مضامین نہیں بلکہ طلبہ کو تحریک دینے والے، انھیں کچھ کرنے اور زندگی کا مقصد طے کر نے پر آمادہ کرنے والےمضامین ہیں جو اپنے بیانیہ اور زبان کی شستگی کے باعث خاصے دلچسپ اور قابل مطالعہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK