ابھی حال ہی کی ایک تحقیق کے مطابق ۲۰۲۰ء سے ۲۰۵۰ء تک ہندوستان کو ذیابیطس کے سبب مجموعی طور پر تقریباً ۱۱ء۴؍ کھرب ڈالر کا اقتصادی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: January 18, 2026, 1:04 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
ابھی حال ہی کی ایک تحقیق کے مطابق ۲۰۲۰ء سے ۲۰۵۰ء تک ہندوستان کو ذیابیطس کے سبب مجموعی طور پر تقریباً ۱۱ء۴؍ کھرب ڈالر کا اقتصادی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
لفظ بیماری سنتے ہی ذہن میں صرف صحت کے نقصان کا خیال آتا ہے۔ مگر ایک حالیہ عالمی مطالعہ نے ثابت کیا ہے کہ ذیابیطس صحت ہی نہیں اقتصادی بحران بھی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ۲۰۲۰ء سے ۲۰۵۰ء تک ہندوستان کو ذیابیطس کے سبب مجموعی طور پر تقریباً ۱۱ء۴؍ کھرب ڈالر کا اقتصادی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ اقتصادی نقصانوں میں سے ایک ہے اور امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف براہِ راست طبی اخراجات (جیسے علاج، دوائیں، ٹیسٹنگ) تک محدود نہیں ہیں بلکہ بالواسطہ اخراجات (پیداوار کی کمی، وقت ضائع ہونا، کام سے غیرحاضری) اور گھریلو نگہداشت کے بوجھ کو بھی شامل کرتے ہیں، جس سے مجموعی طور پر انسانی اور مالی وسائل پر منفی اثر پڑتا ہے۔ ذیابیطس کے اقتصادی اثرات کو سمجھنے کیلئےصرف نقصان دیکھنا کافی نہیں، یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ بیماری معیشت کے سب سے اہم حصوں یعنی جی ڈی پی، پیداوار اور کاروباری سیکٹرز پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے۔
اس بیماری سے براہِ راست اور بالواسطہ نقصانات کا مجموعہ نہ صرف صحت کے شعبے بلکہ ملکی پیداوار پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔ جب ایک فرد بیماری کے سبب کام نہیں کر پاتا، یا کم کارکردگی دکھاتا ہے، تو پیداوار میں کمی آتی ہے، یہ نقصان نہ صرف فرد کیلئے سنگین ہے بلکہ معاشی پیداوار میں نقصانات کا سبب بنتا ہے۔ مزید یہ کہ گھریلو نگہداشت، جس میں گھر والے دن بھر بیمار شخص کی دیکھ بھال کرتے ہیں، کے سبب اُن کا کام بازار سے غیرحاضر رہنا پیداوری گھٹاتا ہے، جو آخرکار قومی معیشت کی رفتار سست کر دیتا ہے۔ ذیابیطس کے بڑھتے بوجھ کے ساتھ انشورنس کمپنیوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، وہ زیادہ ادویات، علاج اور سروسیز کا بوجھ اٹھاتی ہیں، جس سے طبی کوریج کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کا اثر ملازمین کے انشورنش پریمیم پر بھی پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری اداروں کو ملازمین کیلئے زیادہ بیمہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اس سے ان کا کاروباری منافع متاثر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: بھجن کلبنگ؛ فیک ویڈنگ کے بعد جین زی کا نیا ثقافتی رجحان
یہ بیماری جہاں نقصان بڑھا رہی ہے، وہیں کاروباری شعبے کیلئے نئے مواقع بھی جنم لے رہے ہیں، خاص طور پر وہ شعبے جو صحت، ٹیکنالوجی، ادویات، سروسیز اور ڈجیٹل ہیلتھ میں ہیں۔ ملک میں ذیابیطس کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ادویات، انسولین، اور علاج کی دیگر خدمات کی مانگ میں بے تحاشا اضافہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر، گجرات میں دل اور ذیابیطس سے متعلق ادویات کی فروخت میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوا ہے، جہاں دو سال میں اینٹی، ڈائبیٹیز ادویات کی فروخت تقریباً ۵۵؍ فیصد تک بڑھ گئی۔ اسی طرح بین الاقوامی کمپنی نووو نورڈسک نے ہندوستان میں اپنی معروف ذیابیطس دوا اوزیمپک متعارف کروائی ہے، جس کی قیمت اور رسائی نے مارکیٹ کی وسعت اور کاروباری مواقع کو نمایاں کیا ہے۔ یہ پہلو ظاہر کرتا ہے کہ ذیابیطس کے بڑھتے مریضوں کے سبب صحت کا مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جس میں ادویات، ڈائگنو سٹکس، اسپتال، کلینکس، اور روزگار کے مواقع موجود ہیں۔
اسی طرح ڈجیٹل دنیا میں صحت کے ایپس، ٹیلی میڈیسن، اے آئی بیسڈ مانیٹرنگ، اور اسکریننگ سافٹ ویئر جیسے حل صارفین اور ڈاکٹروں کے بیچ ایک نئے مارکیٹ سیکٹر کو تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ خدمات دور راز کے علاقوں میں رہنے والے افراد کیلئے علاج تک رسائی آسان بناتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں تقریباً ۲۱۲؍ ملین سے زائد لوگ ذیابیطس کے مریض ہیں ، یعنی دنیا بھر میں ذیابیطس کے تقریباً ۲۶؍ فیصد مریض ہمارے ملک میں ہیں جبکہ ہندوستان کی کل آبادی دنیا کا تقریباً ۱۸؍ فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ہندوستان میں ناسور کی طرح بڑھتی ہوئی ذیابیطس کا بوجھ نہ صرف صحت کے شعبے پر بلکہ معاشی ترقی پر بھی پڑ رہا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس کی وجہ سے فارما کمپنیوں کا کاروبار بڑھ رہا ہے۔
ذیابیطس کا بوجھ واضح طور پر بھاری ہے، اور تحقیقات بتاتی ہیں کہ اس سے صحت، گھرانوں، کاروبار اور قومی معیشت سب ہی متاثر ہو رہے ہیں، لیکن اس بڑے چیلنج میں ایک نیا بازار بھی ابھر رہا ہے، ادویات، ٹیکنالوجی، ڈجیٹل ہیلتھ، سروسیز اور ریسرچ میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے، جس سے جی ڈی پی میں ترقی کا امکان بھی موجود ہے۔ ذیابیطس کے خلاف کامیاب جنگ وہ ہوگی جو شعور، حکمتِ عملی، عوامی اور نجی شعبے کا تعاون اور ایسی پالیسیاں ہوں گی جو نہ صرف صحت کے بوجھ کو کم کریں بلکہ اقتصادی اور سماجی ترقی کو بھی آگے بڑھائیں۔