یہاں نوجوان رات کے وقت اکٹھا ہوتے ہیں مگر شراب نہیں پیتے، شور و غل اور ہنگامہ آرائی بھی نہیں کرتے بلکہ بھجن، لائیو میوزک، ڈی جے مکس اور اجتماعی گائیکی ہوتی ہے۔
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 1:42 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
یہاں نوجوان رات کے وقت اکٹھا ہوتے ہیں مگر شراب نہیں پیتے، شور و غل اور ہنگامہ آرائی بھی نہیں کرتے بلکہ بھجن، لائیو میوزک، ڈی جے مکس اور اجتماعی گائیکی ہوتی ہے۔
کچھ سال پہلے تک کلب کا تصور تیز میوزک (خاص طور پر انگریزی)، رنگ برنگی چمکتی لائٹس اور مغربی پاپ کلچر سے جڑا ہوا تھا۔ لیکن اب یہ بدل رہا ہے۔ روایتی کلب موجود ہیں، اور اب بھی مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہیں مگر متعدد کلب میں تیز میوزک کے بجائے ’ہری ہری بول‘، ’گووند بولو ہری گوپال بولو‘ یا ’رام نام ستیہ‘ جیسے بھجن سنائی دیتے ہیں۔ یہی ہے بھجن کلبنگ۔ ایک ایسا نیا رجحان جس نے جین زی (جنریشن زیڈ) کی روحانیت، تفریح اور سوشل میڈیا کو ایک ہی فریم میں قید کر لیا ہے۔ جس طرح کچھ عرصہ پہلے فیک ویڈنگز نے ریلز اور شاٹس کی دنیا میں دھوم مچائی تھی، ویسے ہی اب بھجن کلبنگ ایک نئی کہانی لکھ رہا ہے۔ مگر یہ صرف ایک سوشل میڈیا فیشن نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی، کاروباری اور ثقافتی تبدیلیوں کی ایک دلچسپ کہانی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: ’’بی ایم سی اوربلدیاتی انتخابات میں عوامی بیزاری: اسباب اور حل‘‘
پہلا سوال ؛ رجحان کہاں سے آیا؟ دنیا بھر میں نوجوان نسل، خاص طور پر کووڈ کے بعد، ذہنی دباؤ، عدم استحکام اور شناخت کے بحران سے گزر رہی ہے۔ مغرب میں یوگا ریٹریٹس، ساؤنڈ ہیلنگ اور مائنڈفل نیس ایپس مقبول ہوئے جبکہ ہندوستان میں اسی تلاش نے ایک دیسی شکل اختیار کی؛ بھجن، کیرتن اور روحانی موسیقی (اسپیریچول میوزک)۔ بھجن کلبنگ اسی خلا کی پیداوار ہے۔ یہاں نوجوان رات کے وقت اکٹھا ہوتے ہیں مگر شراب نہیں پیتے یا شور و غل نہیں کرتے بلکہ بھجن، لائیو میوزک، ڈی جے مکس اور اجتماعی گائیکی ہوتی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ماحول کلب جیسا ہوتا ہے، مگر احساس مندر جیسا۔
یہ بھی پڑھئے: نیا عزم، نیا جذبہ، نئی فکر، نئی تدبیر..... اس کیلئے نئے سال کا انتظار کیوں؟
امریکہ اور یورپ میں روحانیت کو اکثر ایک ’لائف اسٹائل پروڈکٹ‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں معاملہ مختلف ہے۔ یہاں روحانیت، ثقافت کا حصہ ہے۔ بھجن کلبنگ نہ تو مکمل مذہبی تقریب ہے، نہ ہی مکمل پارٹی۔ یہ ایک درمیانی راستہ ہے۔ بقول جین زی یہ انہیں اپنی جڑوں سے جوڑتے ہوئے جدید دنیا میں فٹ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ رجحان بیرونِ ملک مقیم ہندوستانی نوجوانوں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ خیال رہے کہ ہر نیا ثقافتی رجحان اپنے ساتھ کاروباری امکانات لے کر آتا ہے، اور بھجن کلبنگ بھی اس سے مختلف نہیں۔ اس کی آمد سے ان شعبوں کو کافی فائدہ ہورہا ہے:
ایونٹ انڈسٹری: نائٹ کلب، کیفے اور ہوٹل اب ’’اسپیریچول تھیم نائٹس‘‘ متعارف کرا رہے ہیں۔
موسیقی اور ڈی جے کلچر: ایسے ڈی جیز کی مانگ بڑھ رہی ہے جو الیکٹرونک میوزک کے ساتھ بھجن کو مکس کر سکیں۔
فیشن اور مرچنڈائز: ساڑی، کرتہ، منتر پرنٹڈ ٹی شرٹس اور ہینڈ کرافٹ جیولری کا نیا مارکیٹ بن رہا ہے۔
ڈجیٹل پلیٹ فارمز: یوٹیوب چینلز، اسپوٹیفائی پلے لسٹس اور انسٹاگرام پیجز لاکھوں ویوز حاصل کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: اسٹیٹس گیم اور ویلیڈیٹ ٹیکس کی بھول بھلیاں
اس طرح بظاہر ’روحانی‘ رجحان، اصل میں ایک مکمل کریئٹیو اکنامی کو جنم دے رہا ہے۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ اس میں جین زی کی حد سے زیادہ دلچسپی کیوں ہے؟ یہ ایک ایسی نسل ہے جو ہر چیز میں معنی تلاش کرتی ہے۔ محض تفریح اب کافی نہیں، اسے تجربہ چاہئے، کہانی چاہئے، اور کچھ ایسا جسے وہ سوشل میڈیا پر شیئر کرسکے۔ اور بھجن کلبنگ اسے تینوں چیزیں دیتا ہے: تفریح ، شناخت اور کانٹینٹ۔یہی وجہ ہے کہ یہ رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہم نے کبھی دعوت نامے کاانتظار نہیں کیا، اعلان ہی کو دعوت نامہ سمجھا
یقیناً ہر نیا رجحان تنقید سے خالی نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں ’’مذہب کو (بری) تجارت‘‘ بنادیا گیا ہے تو کچھ اسے روحانیت کو ’ٹرینڈ‘ بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ مگر یہ سوال زیادہ اہم ہے کہ کیا یہ رجحان نوجوانوں کو مثبت شناخت اور کمیونٹی فراہم کر رہا ہے؟ اگر جواب ہاں ہے تو یہ محض فیشن نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کی علامت ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ جس طرح فیک ویڈنگز کچھ عرصے بعد محدود ہو گئیں، ویسے ہی بھجن کلبنگ بھی بدل سکتا ہے۔ مگر ایک بات واضح ہے: نوجوان نسل روحانیت کو نئے انداز میں اپنا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سردیوں میں سورج نظرآتے ہی خواتین چار پائی پر گیہوں پھیلا کر بیٹھ جاتی ہیں
ہندوستانی معیشت کیلئے یہ ایک اشارہ ہے کہ ثقافت، کاروبار اور ڈجیٹل دنیا اب الگ الگ نہیں رہیں۔ جو برانڈز، فنکار اور ادارے اس ملاپ کو سمجھ لیں گے، وہ آنے والے وقت میں آگے ہوں گے۔ بھجن کلبنگ صرف ایک عجیب سا ٹرینڈ نہیں، بلکہ یہ اس دور کی کہانی ہے جہاں جین زی اپنے سوالوں کے جواب موسیقی، کمیونٹی اور روایت میں تلاش کر رہی ہے۔ یہ رجحان بتاتا ہے کہ مستقبل کی معیشت صرف مصنوعات سے نہیں بلکہ تجربات اور احساسات سے بھی جڑی ہوگی۔ اور شاید یہی اس کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو ہے۔