Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشیانہ: کیا ’کام والی بائی‘ نے چھٹی کرلی ہے؟ اب اس پریشانی کا بھی حل ہے

Updated: May 10, 2026, 9:33 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ڈجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے یہ باقاعدہ منظم شکل اختیار کر رہا ہے۔ ’اربن کمپنی‘ اور ’پرونٹو‘ جیسےپلیٹ فارمز نے گھریلو خدمات کو ایک ایسی سروس میں بدل دیا ہے جسےکہیں سے بھی بُک کیا جاسکتا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

آج کے بیشتر ہندوستانی گھروں میں صبح کا آغاز اکثر ایک ہی جملے سے ہوتا ہے ’’آج بائی (کام والی) نہیں آئے گی۔ ‘‘کبھی یہ جملہ پورے دن کا نظام درہم برہم کر دیتا تھا کیونکہ گھریلو کام رک جاتے تھے اور وقت کی کمی مزید نمایاں نظر آنے لگتی تھی لیکن ۲۰۲۶ء کے شہری ہندوستان میں یہ بحران اب زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ چند لمحوں میں ایک موبائل ایپ کھولا جاتا ہے، ایک سروس منتخب کی جاتی ہے، اور کچھ ہی دیر میں دروازے پر کوئی موجود ہوتا ہے جو برتن دھونے، صفائی کرنے یا دیگر گھریلو کام سنبھالنے کیلئے تیار ہوتا ہے۔ یہی تبدیلی instant home-help services یعنی ’فوری طور پر گھر کے کاموں میں مدد کی خدمات‘ کی صورت میں سامنے آئی ہے، جس نے نہ صرف سہولت فراہم کی ہے بلکہ ایک نئی معاشی دنیا بھی تشکیل دی ہے۔ 
ہندوستان میں گھریلو مدد کا نظام طویل عرصے سے موجود رہا ہے اور اسے عام طور پر ’بائی کلچر‘ کہا جاتا ہے۔ یہ نظام بنیادی طور پر غیر رسمی تھا، جس میں مستقل ملازمت کے بجائے ذاتی تعلقات اور روزمرہ کی ضرورتیں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔ اس نظام کی سب سے بڑی کمزوری اس کی غیر یقینی تھی کیونکہ ملازمین کی دستیابی ہمیشہ یقینی نہیں ہوتی تھی۔ اب یہی نظام ڈجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک منظم اور باقاعدہ شکل اختیار کر رہا ہے۔ اربن کمپنی اور پرونٹو جیسے پلیٹ فارمز نے گھریلو خدمات کو ایک ایسی سروس میں بدل دیا ہے جسے کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ سے بک کیا جا سکتا ہے، اور یہی تبدیلی اس شعبے کو ایک نئی معیشت میں تبدیل کر رہی ہے۔ اس نئے ماڈل کی نمایاں خصوصیت اس کے ہمہ وقت رسائی اور واجبی دام ہے۔ کئی اسٹارٹ اپس نے گھریلو خدمات کو انتہائی کم قیمت پر فراہم کرنا شروع کیا ہے، جو عالمی سطح پر ایک منفرد مثال ہے۔ یہ قیمتیں صرف صارفین کو متوجہ کرنے کیلئے نہیں بلکہ ایک بڑے کاروباری ماڈل کا حصہ ہیں، جہاں کمپنیاں ابتدائی مرحلے میں زیادہ سے زیادہ صارفین حاصل کرنے کیلئے کم منافع یا نقصان برداشت کرتی ہیں۔ یہ حکمت عملی پہلے بھی ٹیکنالوجی اور ڈیلیوری سیکٹر میں دیکھی جا چکی ہے، جہاں صارفین کو سہولت کا عادی بنا کر طویل مدتی مارکیٹ تیار کی جاتی ہے۔ 
اس رجحان کی اصل طاقت اس کی رفتار میں ہے۔ شہری زندگی میں وقت سب سے قیمتی اثاثہ بن چکا ہے، اور اسی لئے ہر سروس کو فوری ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہی instant gratification economy ہے، جہاں صارفین انتظار کرنے کے بجائے فوری حل چاہتے ہیں۔ پہلے یہ رجحان کھانے کی ڈیلیوری اور ٹرانسپورٹ تک محدود تھا، مگر اب یہ گھریلو کاموں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر کے اندر ہونے والے کام بھی اب ایک سروس بن چکے ہیں، جنہیں ضرورت کے مطابق خریدا جا سکتا ہے۔ معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ تبدیلی ایک بہت بڑے بازار کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہندوستان میں گھریلو مدد اور صفائی کا شعبہ اربوں ڈالر کی مالیت رکھتا ہے اور کروڑوں گھروں میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کا بڑا حصہ اب تک غیر رسمی معیشت کا حصہ تھا، مگر ڈجیٹل پلیٹ فارمز اسے آہستہ آہستہ رسمی یا منظم معیشت میں تبدیل کر رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف کاروباری مواقع پیدا ہو رہے ہیں بلکہ سرمایہ کاری بھی اس شعبے کی طرف بڑھ رہی ہے، کیونکہ سرمایہ کار اس میں طویل مدتی ترقی کی صلاحیت دیکھ رہے ہیں۔ 
اس تبدیلی کا ایک اہم پہلو روزگار کے مواقع بھی ہیں۔ گھریلو خدمات فراہم کرنے والے زیادہ تر افراد خواتین ہیں، جو اب ڈجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک منظم آمدنی حاصل کر رہی ہیں۔ انہیں تربیت دی جاتی ہے، ان کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جاتا ہے، اور انہیں ایک ایسا نظام فراہم کیا جاتا ہے جس میں وہ زیادہ محفوظ اور خودمختار محسوس کر سکیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف معاشی خودمختاری کو فروغ دیتی ہے بلکہ ایک ایسے شعبے کو باقاعدہ شکل بھی دیتی ہے جو طویل عرصے سے غیر رسمی تھا۔ تاہم، اس تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت کے ساتھ کئی چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔ گھریلو کام کا ماحول حساس ہوتا ہے کیونکہ یہ نجی گھروں کے اندر انجام دیا جاتا ہے، جہاں حفاظت، رازداری اور وقار کے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ اسی لئے پلیٹ فارمز نے مختلف حفاظتی اقدامات متعارف کروائے ہیں، جیسے بیک گراؤنڈ چیکس، ایمرجنسی بٹن اور تربیتی پروگرامز، مگر یہ اقدامات اب بھی ارتقائی مرحلے میں ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس صنعت کی کامیابی کا انحصار صرف رفتار اور قیمت پر نہیں بلکہ اعتماد اور تحفظ پر بھی ہوگا۔ 
ایک اہم سوال اس ماڈل کی پائیداری سے متعلق ہے۔ بہت سی کمپنیاں اس وقت کم قیمتوں پر سروس فراہم کر رہی ہیں مگر یہ طویل مدت تک برقرار رہ سکے گا یا نہیں، یہ ابھی واضح نہیں۔ اگر قیمتیں بڑھتی ہیں تو صارفین کا رویہ بدل سکتا ہے، اور اگر نہیں بڑھتیں تو کمپنیوں کیلئے منافع مشکل ہو سکتا ہے۔ یہ وہی چیلنج ہے جو پہلے دیگر ڈجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی درپیش رہا ہے۔ سماجی سطح پر یہ تبدیلی ایک گہرے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔ پہلے گھریلو مدد ایک تعلق پر مبنی نظام تھا، جہاں اعتماد اور مستقل مزاجی اہم تھے۔ اب یہ ایک لین دین پر مبنی سروس بن گئی ہے، جہاں رفتار اور سہولت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ شہری زندگی میں وقت کی قدر بڑھ چکی ہے اور لوگ ہر کام کو زیادہ مؤثر اور تیز طریقے سے مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ 
مستقبل میں یہ رجحان مزید ترقی کرے گا۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈجیٹل پلیٹ فارمز اس صنعت کو مزید منظم اور مؤثر بنا سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں گھریلو کاموں کا پورا نظام ایک ہی پلیٹ فارم کے ذریعے چلایا جائے، جہاں صفائی، کھانا پکانے اور دیگر خدمات ایک مربوط نظام کا حصہ ہوں۔ یہ صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ایک نئی معاشی اور سماجی حقیقت ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جدید شہری زندگی کس سمت میں جا رہی ہے، جہاں ہر چیز کو وقت کے مطابق ڈھالنا ضروری ہو گیا ہے۔ یہ رجحان بتاتا ہے کہ معیشت صرف بڑی صنعتوں سے نہیں بنتی بلکہ روزمرہ کے چھوٹے کاموں سے بھی بنتی ہے، اور جب یہی کام ڈجیٹل پلیٹ فارمز کا حصہ بن جاتے ہیں تو وہ ایک مکمل کاروباری نظام میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK