اسٹریمنگ کا سب سے بڑا وعدہ تھا ’ایڈ فری تجربہ‘ ،مگر جیسے ہی پلیٹ فارمز پر صارفین کی تعداد بڑھی اور مسابقت میں اضافہ ہوا، کمپنیوں نے اشتہارات دکھانا شروع کردیا۔
آن لائن اسٹریمنگ کو کبھی ’آزادی کی ایک علامت‘ تصور کیا جاتا تھا۔ ہندوستان میں جب یوٹیوب، نیٹ فلکس، امیزون پرائم ویڈیو اور دیگر او ٹی ٹی پلیٹ فارمز مشہور ہوئے تو ناظرین نے سکون کا سانس لیا۔ انہیں اس بات کی خوشی تھی کہ اب نہ بار بار اشتہارات دیکھنے پڑیں گے، نہ پسندیدہ شو مقررہ وقت پر نشر ہوگا، اور نہ ہی کیبل آپریٹرز کی من مانی جھیلنی پڑے گی، مگر وقت بدلا، اور اسٹریمنگ کی دنیا بھی اسی راستے پر آگئی جہاں سے صارف نے راہ فرار اختیار کی تھی۔ اگر آپ غور کریں تو احساس ہوگا کہ آج اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اشتہارات، مہنگے سبسکرپشنز اور ’’غیر منظم‘‘ مشمولات کے باعث کیبل ٹی وی جیسے محسوس ہونے لگے ہیں۔
کچھ سال پہلے تک صورتحال آسان تھی: ایک یا دو او ٹی ٹی کے سبسکرپشنز لیں، اور جو چاہیں، جب چاہیں، اور جیسے چاہیں دیکھیں، مگر آج ہندوستان جیسے بڑے مارکیٹ میں اسٹریمنگ کی دنیا پیچیدہ ہو چکی ہے۔ ہر ماہ چند سو روپوں میں تفریح کا وعدہ کرنے والےپلیٹ فارمز اب صارفین سے مختلف طریقوں سے پیسے نکال رہے ہیں، مثلاً اشتہارات والے پیکیج، پریمیم اور سپر پریمیم پیکیج (بغیر اشتہار والے)، اور اسپورٹس، فلموں اور ویب سیریز کے علاحدہ علاحدہ پیکیج۔ ان تمام کا خرچ ملا لیا جائے تو اوسط ہندوستانی خاندانوں کے بجٹ پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی قیمت کیبل ٹی وی سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اسٹریمنگ کا سب سے بڑا وعدہ تھا ’ایڈ فری تجربہ‘ ،مگر جیسے ہی پلیٹ فارمز پر صارفین کی تعداد بڑھی اور مسابقت میں اضافہ ہوا، کمپنیوں نے منافع میں اضافہ کی خاطر اشتہارات متعارف کروائے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کچھ ویڈیوز میں ایسے اشتہارات دکھائے جاتے ہیں جنہیں آپ ’اِسکپ‘ نہیں کر سکتے، کچھ پلیٹ فارمز ہر ایپی سوڈ کے آغاز میں ایک منٹ تک کا اشتہار چلاتے ہیں، اور لائیو اسٹریمنگ، خاص طور پر کرکٹ اور دیگر کھیلوں میں، بار بار ’بریکس‘ اب معمول بن چکے ہیں۔ ناظرین کیلئے یہ تجربہ کسی ڈرامے کے جذباتی لمحے کے دوران کیبل ٹی وی کے اچانک آجانے والے اشتہار سے کم تکلیف دہ نہیں ہے۔
دنیا بھر میں، خاص طور پر امریکہ، یورپ اور ہندوستان میں، اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بہترین فلمیں اور شوز مختلف پلیٹ فارمز پر بکھر گئے ہیں۔ ایک فلم نیٹ فلکس پر، تو دوسری پرائم ویڈیو پر، کرکٹ کہیں اور، تو ہندی ویب سیریز کہیں اور۔ ہندوستان میں آئی پی ایل اور دیگر کھیلوں نے اس مسئلے کو دوگنا بڑھا دیا ہے۔ اسپورٹس دیکھنے کی الگ فیس، فلموں کی الگ، اور بچوں کے پروگراموں کی الگ۔ یعنی ایک خاندان کو مختلف او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے سبسکرپشن لینے پڑرہے ہیں۔ اس صورتحال نے ناظرین کو پرانی یادوں میں واپس دھکیل دیا ہے جہاں کیبل والے سے بحث ہوتی تھی کہ ’’یہ چینل کیوں غائب ہے؟‘‘
ہندوستانی مارکیٹ قیمتوں کے لحاظ سے حساس ہے۔ کمپنیاں جانتی ہیں کہ زیادہ سبسکرپشن فیس صارفین کو فوراً دور کرسکتی ہے اس لئے اشتہارات کے ذریعے آمدنی بڑھانا ایک مجبوری بنتی جا رہی ہے۔ پلیٹ فارمز اب دو راستوں پر چل رہے ہیں:(۱) سستا پیکیج + زیادہ اشتہارات (۲) مہنگا پیکیج + کم یا نہ ہونے کے برابر اشتہارات۔ یہ ماڈل عالمی سطح پر بھی اپنایا جا رہا ہے، مگر ہندوستان میں اس کا اثر زیادہ نمایاں ہے کیونکہ یہاں ناظرین کی تعداد بڑی ہے مگر ادائیگی کی صلاحیت محدود۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا اسٹریمنگ واقعی کیبل ٹی وی بن رہا ہے؟ اگر جائزہ لیں تو جواب کافی حد تک ’’ہاں‘‘ ہے۔ پہلے صرف کیبل تھا، اب اسٹریمنگ، کیبل اور ڈی ٹی ایچ سب بوجھ بن رہے ہیں۔ پہلے اشتہارات کی بھرمار تھی مگر اب اسٹریمنگ کا بھی یہی حال ہے۔ پہلے پیکیجز سمجھنا مشکل تھا، اب سبسکرپشن کے مختلف پلان ناظرین کو کنفیوژ کررہے ہیں۔ البتہ ایک فرق اب بھی موجود ہے: اسٹریمنگ آپ کو کنٹرول دیتا ہےکہ آپ کیا اور کب دیکھیں۔ مگر اس ’’آزادی کی قیمت بڑھتی‘‘ جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہندوستان میں اسٹریمنگ کا مستقبل کچھ یوں ہوسکتا ہے: کم قیمت والے اشتہاری پیکیج عام ہوں گے۔ پلیٹ فارمز ایک دوسرے کے ساتھ بنڈل آفرز نکالیں گے،جیسے موبائل کمپنی + اسٹریمنگ پلیٹ فارم۔ مقامی زبان کے مشمولات اور مختصر ویڈیوز مزید مقبول ہوں گے کیونکہ ہندوستان کا نوجوان طبقہ فوری اور تیز تفریح چاہتا ہے۔اسٹریمنگ کمپنیاں کھیلوں پر سرمایہ کاری بڑھائیں گی کیونکہ ہندوستان میں اس کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹریمنگ کمپنیاں سمجھتی ہیں کہ اشتہارات ان کے کاروبار کو فائدہ دیں گے جبکہ ناظرین محسوس کرتے ہیں کہ ان کی آزادی محدود ہو رہی ہے۔ دونوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہی مستقبل کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اسٹریمنگ سروس کیبل ٹی وی جیسی کیوں بن رہی ہے،سوال یہ ہے کہ کیا اسٹریمنگ دوبارہ اپنی اصل آزادی واپس حاصل کرسکے گا؟ ناظرین کو اب بھی اس سوال کے جواب کا انتظار ہے؟