Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشیانہ: اسٹیٹس گیم اور ویلیڈیٹ ٹیکس کی بھول بھلیاں

Updated: January 04, 2026, 5:38 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ٹوکیو سے نیویارک اور دبئی سے دہلی تک، ہر جگہ دِکھاوے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

یہ دسمبر کی ایک خوشگوار صبح تھی۔ عامر سگنل پر کھڑا اس کے ’گرین‘ ہونے کا انتظار کررہا تھا کہ اس کے بائیں جانب ایک چمچماتی، سیاہ لگژری سیڈان آکر رُکی، بالکل نئی اور بے داغ۔ اس کے مالک کی طاقت اور حیثیت کا اعلان کرتی ہوئی۔ انسانی جبلت کے تحت عامر نے سوچا ’’کاش! اس کار کا مالک مَیں ہوتا!‘‘ عامر نے شیشوں سے اندر دیکھا تو ڈرائیونگ سیٹ پر ایک نوجوان تھا جس کی قیمتی گھڑی سورج کی روشنی میں چمک رہی تھی اور آنکھوں سے اعتماد عیاں تھا۔ اس نے عامر کو ایک نظردیکھا، اور پھر دوسری جانب یوں دیکھنے لگا جیسے عامر اس منظر کا حصہ ہی نہ ہو۔ سگنل گرین ہوا اور عامر سڑک پار کرکے اپنی دس سال پرانی درمیانی سائز کی کار کے قریب پہنچا۔ عامر نے سادہ لباس پہنا تھا۔ کلائی میں گھڑی نہیں تھی اور وہ ایک عام کار کا مالک تھا۔ اور پھر وہی ہوا جو انسانی دماغ ہمیشہ ’بہترین‘ انداز میں کرتا ہے: موازنہ اور فیصلہ۔ 
انسان لگژری کار والے کو فوراً ’امیر‘ اور نارمل کار والے کو’عام‘ مان لیتا ہے۔ لیکن اگر حقیقت اس کے برعکس ہو تو؟ اگر وہ چمچماتی گاڑی قرضوں کے بوجھ کی علامت ہو، اور نارمل کار والا قرض کے بوجھ سے آزاد ہو تو؟ یہی وہ فرق ہے جو آج کے ہندوستان اور دنیا بھر میں دھندلا دیا گیا ہے: در حقیقت امیر ہونا، یا امیر دکھائی دینا۔ ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں کامیابی دکھائی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا نے کامیابی کو ’بصری‘ بنا دیا ہے۔ آپ قرض سے آزادی یا ذہنی سکون کی تصویر پوسٹ نہیں کر سکتے مگر چھٹیاں، گاڑیاں اور برانڈیڈ مصنوعات کی تصویر پوسٹ کرکے فوراً داد وصول کرسکتے ہیں۔ ٹوکیو سے نیویارک اور دبئی سے دہلی تک، ہر جگہ یہی دوڑ لگی ہے: دکھاوے کی دوڑ۔ مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ اچھی چیزیں چاہتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اچھی چیزیں اس لئے چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں کچھ سمجھیں۔ 
کیا آپ جانتے ہیں ’’ویلیڈیٹ ٹیکس‘‘ (Validate Tax) کیا ہے؟ یہ وہ ٹیکس ہے جو انسانی آبادی کا ایک بڑا حصہ روزانہ صرف اس لئے ادا کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو بتا سکے کہ اس کے پاس پیسہ ہے۔ یعنی یہ بتانے کیلئے پیسہ خرچ کرنا کہ آپ کے پاس پیسہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ویلیڈیٹ ٹیکس، باقاعدہ یا حکومت کی طرف سے عائد کردہ کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ اس کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔ یہ صرف ایک اصطلاح ہے جو دنیا کا تقریباً ہر تیسرا شخص ہر’اپ گریڈ‘ یا ’بس ایک بار‘ کے تحت اشیاء و مصنوعات خریدنے کیلئے (بطور قیمت) ادا کررہا ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ بیشتر افراد دوسروں کی چیزوں سے متاثر نہیں ہوتے؛ وہ ان چیزوں میں اپنی خواہشات دیکھتے ہیں۔ اور پھر اس خواہش کے تحت وہ قرضوں کے بوجھ تلے دبتے چلے جاتے ہیں یا اپنا بینک اکاؤنٹ ’غیر ضروری‘ سامان خریدنے میں ’ڈِس بیلنس‘ کردیتے ہیں۔ 
اصل دولت وہ نہیں جو انسان خرچ کرتا ہے؛ اصل دولت وہ ہے جو خرچ نہیں کی جاتی۔ وہ ٹرپ جو آپ نے پیسے بچانے کیلئے نہیں کی۔ وہ ’اپ گریڈ‘ جو آپ نے پیسے بچانے کیلئے ٹال دیا۔ یہی بچت ایک شخص کی دولت میں اضافہ کرتی ہے۔ آپ دکھاتے نہیں بلکہ خاموشی سے اپنے آپ کو مضبوط بنارہے ہوتے ہیں۔ آج کی معاشی دنیا میں اصل اثاثہ آزادی ہے۔ دنیا بھر میں کاروبار اور معیشت ایک نازک موڑ پر ہیں۔ ٹیکنالوجی تیزی سے بدل رہی ہے جس کے ساتھ ملازمتوں کی نوعیت اور مہارتوں کی مانگ بھی بدل رہی ہیں۔ آزادی کا مطلب ہے:زہریلی ملازمت ترک کرنا، مشکل وقت میں گھبراہٹ کے بغیر فیصلے کرنا، ایک سال وقفہ لے کر کچھ نیا سیکھنا، سفر کرنا، یا کچھ نیا شروع کرنا، اور سب سے اہم یہ کہ کوئی قرض نہ ہو، کوئی ای ایم آئی نہ ہو۔ 
اگر آپ غور کریں تو احساس ہوگا کہ دنیا میں ایسے افراد کی تعداد تیزی سے بڑھتی جارہی ہے جو ’امیر‘ نظر آنے کی چکر میں قرضوں میں ڈوب چکے ہیں۔ اس ضمن میں کئی تحقیقی سروے دستیاب ہیں۔ لیکن سادہ انتخاب کے ذریعے ایسی زندگی جینا آسان ہے جہاں انسان حقیقتاً آزاد محسوس کرتا ہو، مثلاً وہ چیز نہ خریدنا جس کے بغیر بھی زندگی چل سکتی ہے اور ایسے مقابلوں کا حصہ نہ بننا جو کبھی ختم نہیں ہوتے (مثلاً سوشل میڈیا ٹرینڈز)۔ 
اس لئے انسان کو اپنا نظریہ بدلنا ہوگا۔ ہر لگژری ’امارت‘ اور ہر سادگی ’غربت‘ کی علامت نہیں۔ ہر امیر’آزاد‘ نہیں اور ہر عام شخص ’قید‘ نہیں۔ پیسے کمانے کا ہدف یہ نہیں کہ انسان امیر نظر آنے کیلئے پوری قوت صرف کردے۔ ہدف یہ ہے کہ آپ کے پاس پیسہ ہو مگر ساتھ ہی وقت، اختیار، اور سکون بھی۔ ایسے افراد کو متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں جنہیں آپ کی پروا نہیں ۔ یہ کھیل آپ کبھی نہیں جیت سکتے۔ اسٹیٹس گیم جیتنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اسے کھیلنا ہی چھوڑ دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کا فیصلہ کیا ہے؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK