• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

مہاراشٹر میں منشیات کا پھیلتا جال اور ریاستی حکومت کی بے حسی

Updated: October 29, 2023, 1:21 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

چند دنوں سے مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں کئی ہزار کروڑ روپوں کی منشیات برآمد ہونے سے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ریاست کو منشیات کا ایک بڑا مرکز بنانے کی تیاری کی جارہی ہے۔

Lalit Patil is accused of running a drug racket from Pune`s Sassoon Hospital. Photo: INN
للت پاٹل پرپونے کے ساسون اسپتال سے منشیات کا ریکٹ چلانے کا الزام ہے۔ تصویر:آئی این این

چند دنوں سے مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں کئی ہزار کروڑ روپوں کی منشیات برآمد ہونے سے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ریاست کو منشیات کا ایک بڑا مرکز بنانے کی تیاری کی جارہی ہے۔۳۰۰؍ کروڑ روپوں کی میفیڈرون کی ضبطی کے معاملے میں ملزم للت پاٹل کی گرفتاری کے بعد ریاست میں اس کے منشیات کے گٹھ جوڑ پر جلد ہی کسی بڑے انکشاف کی امید کی جارہی ہے۔ منشیات کی تجارت ایک بڑا عالمی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ہندوستان سمیت دنیا بھر میں سیکوریٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں سے مہاراشٹر اس طرح کی خبروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں منشیات کے کاروبار پر مراٹھی اخبارات نے کیا کچھ لکھا ہے۔
لوک مت(۲۵؍اکتوبر)
 اخبار نے اداریہ لکھا ہے کہ’’ پچھلے چند دنوں سے مہاراشٹر ایک الگ ہی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔ پونے کے ساسون اسپتال سے منشیات کاریکٹ چلانے والے للت پاٹل کے کارناموں سے پردہ اٹھ ہی رہا تھا کہ پال گھر، ٬پیٹھن اور اورنگ آباد ایم آئی ڈی سی میں ڈرگس بنانے کی کمپنی کے انکشاف سے پورا مہاراشٹر ہل گیا ہے۔ کون جانتا تھا کہ صنعتی ٬سماجی اور تعلیمی لحاظ سے ترقی یافتہ ریاست میں منشیات ہول سیل مقدار میں تیار کی جارہی ہے۔ شوگر فیکٹریوں کیلئے مشہور ریاست اب منشیات کی آماجگاہ بن گئی ہے۔نوجوانوں کو برباد کرنے والی منشیات کی اس فیکٹری کا ملک اور معاشرہ متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔اب تک صرف ہوائی اڈوں اور بندر گاہوں سے آنے والی ’چرس، کوکین ٬براؤن شوگر،ایم ڈی اور میفیڈرون اب پال گھر کے دور دراز موکھاڑا ٬کانچن واڑی اور والوج جیسے علاقوں میں تیار ہورہی ہے۔ منشیات کی لت سے ایک نوجوان نسل کس طرح برباد ہوگئی اس کی سب سے بڑی مثال پنجاب ہے۔پہلے جو منشیات بیرون ممالک سے اسمگلنگ کی جاتی تھی اب اس کا گجرات کنکشن سامنے آیا ہے۔ گزشتہ مہینوں یہاں بڑی مقدار میں  مختلف بندرگاہوں سے منشیات پکڑی گئی تھی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی مالیت کروڑوں ڈالر ہے۔ ڈرگس اسمگلروں نے اپنا نیٹ ورک اسکول کالج تک پھیلارکھا ہے۔ گجرات میں گزشتہ ۶؍ ماہ سے منشیات اسمگلنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ یہیں سے اورنگ آباد میں ڈرگس فیکٹری کا انکشاف ہوا۔ مہاراشٹر میں تیار ہونے والی ڈرگس اتر پردیش،مدھیہ پردیش، پنجاب،راجستھان اور دیگر صوبوں میں سپلائی کی جارہی تھی۔ اس کا علم ہوتے ہی پورے پولیس محکمہ میں ہلچل مچ گئی ہے۔‘‘
مہاراشٹرٹائمز(۲۰؍اکتوبر )
اخبار اپنے اداریہ میں لکھتا ہے کہ’’منشیات کا مارکیٹ عالمی سطح پر پھیلا ہوا ہے۔ترقی یافتہ امریکہ سے لے کر تباہ شدہ افغانستان تک میں اس کی تجارت زور وشور سے جاری ہے۔کوئی بھی ملک منشیات سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ طویل عرصے سے ہندوستان بھی منشیات کی جال میں پھنسا ہوا ہے لیکن پنجاب میں خوفناک شکل اختیار کرنے کے بعد منشیات کا خطرہ کافی سنگین ہوگیا ہے۔ ایسا سمجھا جاتا تھا کہ ڈرگس کا معاملہ ممبئی میں واقع فلمی دنیا سے وابستہ مشہور شخصیات تک ہی محدود ہے لیکن پونے کے ساسون اسپتال میں زیر علاج قیدی کے پکڑے جانے کے بعد واضح ہوا کہ منشیات کا کروڑوں روپوں کا کاروبار پورے مہاراشٹر میں سرایت کرچکا ہے۔ اسپتال میں علاج کرنے والا للت پاٹل پولیس کو چکمہ دے کر فرار ہوگیا تھا جو بعد میں چنئی سے گرفتار ہوا۔ بعدازاں ممبئی پولیس نے ناسک میں واقع اس کی ڈرگس فیکٹری کا پتہ لگایا۔ اب اس طرح کی فیکٹری شولا پور میں بھی پائی گئی ہے۔ منشیات سے متعلق یومیہ آنے والی خبروں سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کاروبار  پولیس اور انتظامیہ کی پشت پناہی کے بغیر جاری نہیں رہ سکتا ہے۔ ناسک میں پہلے کئی کروڑ روپوں کی منشیات برآمد ہوئی پھر ایک پورے کارخانے کا پتہ چلا۔ مقامی پولیس کو اس کارخانے کا علم نہ ہو؟ یہ سمجھنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ اس کاروبار میں ملوث ملزمین کا سیاسی آقاؤں سے تعلق پر سیاسی بحث و مباحثہ جاری ہے جو کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا ہے۔محکمہ داخلہ کو اتنے بڑے ریکٹ کے سامنے آنے کے بعد جس طرح کی فعالیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا وہ کہیں نظر نہیں آرہا ہے۔ممکن ہے کہ اس تجارت کا دائرہ جو ممبئی سے شولا پور کے راستے ناسک  اورپونے تک نظر آرہا ہے، وہ اب پورے مہاراشٹر اور پورے ملک میں پھیل گیا ہو۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس بحران کے حوالے سے حکومتی سطح پر ابھی تک کوئی سنجیدگی نظر نہیں آرہی ہے۔ پولیس ہر جگہ آزادانہ تحقیقات کررہی ہے، ان کے درمیان کسی طرح کی کوئی ہم آہنگی بھی نہیں ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کسی بڑی مچھلی کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘‘
سامنا(۲۰؍اکتوبر )
 اخبار لکھتا ہے کہ ’’عوام مخمصے میں  ہیں کہ آیا مہاراشٹر میں کوئی حکومت ہے بھی یا نہیں؟ چونکہ یہاں کوئی فعال اور مضبوط حکومت نہیں ہے، اسلئے منشیات کا کاروبار اور استعمال تیزی سے پھیلتا جارہا ہے۔ ناسک میں مینڈریکس نامی منشیات کی فیکٹری سیاسی سرپرستی میں رہی تھی جس کا سربراہ للت پاٹل ساسون اسپتال سے فرار ہوگیا تھا جسے ممبئی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’میں اسپتال سے بھاگا نہیں تھا بلکہ ٬مجھے بھگایا گیا تھا۔میں صحیح وقت پر سب کو بے نقاب کردوں گا۔‘گرفتاری کے بعد للت پاٹل یہ پہلا رد عمل تھا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ للت کا فرار ہونا اور اب اس کی گرفتاری میچ فکسنگ ہے جس کے پیچھے۲؍ ریاستی وزیروں کا ہاتھ ہے۔ اگر مہاراشٹر میں منشیات فروشوں کواسی طرح  سیاسی پشت پناہی ملتی رہی تو مہاراشٹر دوسرا اُڑتا پنجاب بن جائے گا۔پڑوسی ریاست گجرات میں بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر کروڑوں کی منشیات پکڑی گئی لیکن جو مال پکڑا نہیں گیا وہ بلا روک ٹوک مہاراشٹر میں آگیا۔ یہاں کے کئی شہر اور اضلاع منشیات کے جال میں پھنس گئے ہیں جس سے نوجوان نسل تباہ ہورہی  ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK