ایم بی اے نوجوان، صنعت و تجارت کا جہان،امکان اور رجحان

Updated: November 27, 2021, 7:10 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

پہلے ہمارے ملک میں اس کورس کے تعلیمی ادارے کم تھے لیکن اب کافی ہوگئے ہیں ، لٹل انڈیا کی ۲۰۱۸ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں کم وبیش ۴؍ ہزار بزنس اسکول ہیں جن سے ہر سال ۳؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار طلبہ ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرتے ہیں ۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان میں دستیاب پرکشش کورسیز میں سے ایک ایم بی اے (ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن) یا ایم ایم ایس (ماسٹرز اِن مینجمنٹ اسٹڈیز) ہے۔ اس کی اہمیت ۲۰۰۰ء کے عشرے میں بڑھی تھی اور آج بھی ہزاروں طلبہ ہر سال اس کورس میں داخلہ لیتے ہیں ۔ ابتداء میں یہ محض چند مضامین تک ہی محدود تھا لیکن آج مختلف شعبہ ہائے حیات میں ایم بی اے کی پڑھائی کی جاسکتی ہے۔ یہ ۲؍ سالہ کورس کرنے والے طلبہ دوسرے سال میں بزنس کے کسی ایک شعبے (مارکیٹنگ، فنانس، ایچ آر، سسٹمز یا آپریشنز اور دیگر) میں اسپیشلائزیشن کرتےہیں اور پھر کارپوریٹ ورلڈ میں قدم رکھتے ہیں ۔ یہاں سے ان کے کریئر کا آغاز ہوتا ہے، اور پھر وہ آہستہ آہستہ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے کاروباری دنیا میں اپنی شناخت قائم کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں ۔
 ابتداء میں ہمارے ملک میں اس کورس کے تعلیمی ادارے کم تھے، اور اس میں داخلہ لینے والے طلبہ کی تعداد بھی کم تھی۔ لیکن چند برسوں بعد جب اس کی مانگ میں اضافہ ہونے لگا تو کئی تعلیمی اداروں نے اپنے ہاں ایم بی اے کی ڈگری تفویض کرنے کا سلسلہ شروع کیا، اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد یہ کورس کرنے لگی۔ لٹل انڈیا کی ۲۰۱۸ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں کم وبیش ۴؍ ہزار بزنس اسکول ہیں جن سے ہر سال ۳؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار طلبہ ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرتے ہیں ۔
 ایک طالب علم کے طور پر، ہم سے ہمیشہ تعلیم میں اعلیٰ اور بہترین نمبر حاصل کرنے کی توقع کی جاتی ہے، اور یہی توقع زندگی کے دیگر پہلوؤں پر بھی لاگو ہوتی ہے کہ ہم زندگی کے ہر موڑ پر کامیابی سے ہمکنار ہوں ۔ ۲۰۰۰ء کے عشرے میں ایم بی اے کے حامل ایک شخص کو خاصی پرکشش تنخواہ کی پیشکش کی جاتی تھی۔یہی وجہ تھی کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس جانب متوجہ ہوئی، اور اس طرح ایم بی اے کا رجحان بڑھا۔ آج ایم بی اے اتنا مقبول ہوگیا ہے کہ انجینئر اور سائنسداں بھی انٹرپرینیور بننے کیلئے اس کورس کی جانب رُخ کررہے ہیں ۔ایم بی اے ایک کورس کے طور پر اپنے آپ میں بڑی وسعت رکھتا ہے اور اس میں سکھائی جانے والی مہارتیں صرف ایک شعبے تک محدود نہیں ہیں ۔یہ ڈگری حاصل کرنے سے طلبہ کو بھی حوصلہ ملتا ہے کہ وہ اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلیں اور کچھ نیا کرنے کی کوشش کریں ۔
 تاہم، ملک کےبزنس اسکولوں میں یہ رجحان ہے کہ ایم بی اے کرنے والے زیادہ تر طلبہ اسپیشلائزیشن کیلئے سیلز اینڈ مارکیٹنگ کا انتخاب کرتے ہیں ۔ اس کے بعد بالترتیب فنانس، آپریشنز، ایچ آر اور پھر سسٹمز اور دیگر شعبوں کی جانب توجہ دی جاتی ہے۔ ۲۰۱۳ء میں رِضوی انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اسٹڈیز (باندرہ) سے راقم الحروف نے مارکیٹنگ سے ایم بی اے مکمل کیا تھا۔ ہمارے بیچ میں کم و بیش ۲۰۰؍ طلبہ تھے جن میں سے ۶۲؍ فیصد نے مارکیٹنگ کا انتخاب کیا تھا۔ بیشتر طلبہ کا آج بھی سیلز اینڈ مارکیٹنگ کا شعبہ منتخب کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ مارکیٹنگ کے شعبے کو مستقبل میں بھی کمپنیاں متروک نہیں کریں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کاروبار میں مصنوعی ذہانت کا بول بالا ہوگا، تب بھی مارکیٹنگ کے شعبے کی اہمیت نہیں ختم ہوگی۔ کمپنیوں کو اپنی اشیاء اور خدمات کو فروخت کرنے کیلئے پبلٹسی اور مختلف حکمت عملیوں کی ضرورت ہمیشہ رہے گی، اور یہ کام اس کا مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ ہی انجام دے گا۔
 امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق کہتی ہے کہ سیلز اور مارکیٹنگ کے شعبے سے ایم بی اے کرنے والے افراد دیگر اسپیشلائزیشن کے طلبہ کے مقابلے میں آسانی سے کاروباری دنیا میں قدم رکھ لیتے ہیں ، چند برسوں کی مشقت کے بعد انہیں کارپوریٹ ورلڈ میں اچھی پوزیشن بھی مل جاتی ہے جبکہ دیگر اسپیشلائزیشن کرنے والے طلبہ کو ملازمت کی تلاش میں تھوڑی تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ مارکیٹنگ کے شعبے میں کریئر کے کئی مواقع ہوتے ہیں ۔ ہر سال ایف ایم سی جی، ریٹیل، ملبوسات اور ہیلتھ کیئر کمپنیاں نئی ​​مصنوعات لانچ کرتی ہیں جنہیں بہتر طریقے سے عوام کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ فروخت ہو۔ مارکیٹنگ سے ایم بی اے کرنے والے آج بھی میرے متعدد دوست رابطہ میں ہیں اور وہ ایچ یو ایل، ایشین پینٹس، کیفے کافی ڈے، اسٹاربکس، ٹاٹا گروپ، اور ایچ ڈی ایف سی جیسی ملک کی مشہور کمپنیوں میں مارکیٹنگ کے شعبوں کے مختلف عہدوں جیسے مارکیٹنگ ایگزیکٹیو، مارکیٹنگ منیجر، برانڈ منیجر، ایریا منیجر، اور برانڈ پروموٹر کے عہدے پر فائز ہیں ۔ 
 مارکیٹنگ کی جانب طلبہ کے رجحان کے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کئی کمپنیاں اپنے مارکیٹنگ ایگزیکٹیو کو ہر ماہ تنخواہ دینے کے ساتھ ہی اس کی کارکردگی کی بنیاد پر ’’زرِ حوصلہ افزائی‘‘ اور مراعات (انسینٹیوز) بھی دیتی ہیں ۔ یہ ایک ایسی وجہ ہے جو ایگزیکٹیو کو متحرک بھی رکھتی ہے اور اس کی کارکردگی کو بہتر بھی بناتی ہے۔ 
 گلوبلائزیشن نے اب کسی ایک ملک کی کمپنیوں کیلئے دوسرے ملک میں کاروبار کرنے کو آسان کردیا ہے اس لئے انہیں ہمیشہ قابل اور باصلاحیت افراد کی تلاش رہتی ہے تاکہ وہ اپنی مصنوعات کو بہتر طریقے سے بازار میں پیش کرسکیں ۔ علاوہ ازیں ، اگر ایک مارکیٹنگ ایگزیکٹیو اپنے کام میں ماہر ہے تو کوئی بھی کمپنی نہیں چاہتی کہ وہ اسے چھوڑ کر دوسری کمپنی سے وابستہ ہوجائے۔ اس کے پاس کمپنی کی اشیاء اور خدمات کی پوری تفصیل ہوتی ہے۔اس لئے ہر سال ایسے ایگزیکٹیوز کو پروموٹ کیا جاتا ہے اور ان کی صلاحیتوں کو سراہا جاتا ہے۔ کئی تحقیقات میں یہ بھی واضح ہوا ہے کہ مارکیٹنگ میں ایم بی اے کرنے والوں کی تنخواہ دیگر فیلڈ کے امیدواروں سے زیادہ ہوتی ہے۔ تاہم، ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ایم بی اے کے دیگر شعبے بھی یکساں طور پر پر کشش ہیں ، اور ان میں بھی ترقی کے امکانات ہوتے ہیں ۔ 
 اہم سوال یہ ہے کہ کمپنیاں دیگر کورسیز کے امیدواروں کے مقابلے میں ایم بی اے گریجویٹس کو کیوں ترجیح دیتی ہیں ؟ کمپنیاں جانتی ہیں کہ ایم بی اے مکمل کرنے کے دوران طلبہ کو کاروباری امور کے متعلق صرف تعلیم ہی نہیں دی جاتی بلکہ عملی زندگی میں قدم رکھنے کیلئے ان کی بہترین طریقے سے تربیت بھی کی جاتی ہے۔ یہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایک طالب علم کاروباری معاملات کو بہتر طریقے سے سمجھنے لگتا ہے۔ ایم بی اے ختم کرنے تک ایک طالب علم میں بہت سی مہارتیں پیدا ہوجاتی ہیں جو اسے کاروباری صنعت کیلئے موزوں بنا دیتی ہیں ۔اسی طرح اپنے طلبہ کو بہتر مواقع فراہم کرنے کیلئے بزنس اسکول ملک کی متعدد کمپنیوں کے ساتھ ٹائی اپ بھی کرتے ہیں ۔اس سے طلبہ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور حقیقی دنیا میں قدم رکھنے کیلئے ان کے عزم و اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔۲۰۱۸ء میں شائع ہونے والی ایک بزنس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایم بی اے کرنے والے ۶۱؍ فیصد طلبہ کو فوری طور پر ملازمت نہیں ملتی۔اس کی وجوہات بیان کی گئی تھیں : (۱) کئی طلبہ ایسے ہوتے ہیں جو گریجویشن مکمل کرنے کے فوراً بعد اس کورس کا رخ کرتے ہیں ۔ ایم بی اے کرنے کے دوران وہ بہت سی چیزیں سیکھ ضرور لیتے ہیں مگر ان میں کاروباری دُنیا کی مانگ کی مناسبت سے وہ مہارت اور صلاحیت نہیں پیدا ہوپاتی جو کمپنیوں کو درکار ہوتی ہے ۔ یعنی وہ کاروباری دنیا کیلئے عملی طور پر تیار نہیں ہوپاتے ہیں ۔ (۲) چونکہ انہوں نے گریجویشن کے فوراً بعد ایم بی اے کیا ہوتا ہے اس لئے ان کے پاس کام کا تجربہ بھی نہیں ہوتا ۔ نتیجتاً ایم بی اے مکمل کرنے کے بعد ان کیلئےفوری طور پر پر کشش ملازمت پانا آسان نہیں ہوتا۔ انہیں ’’انٹری لیول‘‘ کی ملازمتوں کی پیشکش کی جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ چند برس میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ان کی ترقی ہوتی ہے، اور پرکشش تنخواہ کی پیشکش کی جاتی ہے۔ 
 بزنس اسکولوں کے بیشتر اساتذہ کا ماننا ہے کہ اگر کوئی شخص ایم بی اے کرنے کا خواہشمند ہے تو وہ گریجویشن کے بعد کم از کم ۲؍سال تک ملازمت کرے، پھر یہ کورس کرے۔ 
 ایم بی اے آج بھی لوگوں میں مقبول ہے اور ہزاروں طلبہ اس کورس میں داخلہ لے رہے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کورس نے اپنا انوکھا پن کھودیا ہے۔ ہندوستان میں کئی بزنس اسکولوں کی ایم بی اے کی دستیاب سیٹیں اب مکمل طور پر نہیں بھر پاتیں اسلئے سیٹوں کی تعداد کو کم کر دیا گیا ہے۔ متعدد بزنس اسکول بند بھی ہوگئے ہیں لیکن ملک کے معروف اداروں میں آج بھی ایم بی اے پروگرامز اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہیں ۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کورس اپنا دَور گزارنے کے بعد اب زوال کی جانب گامزن ہے ۔ درحقیقت، دنیا کا ہر شعبہ عروج بھی دیکھتا ہے اور زوال بھی مگر وہ مکمل طور پر ختم ہوجائے، یہ ممکن نہیں ہے۔ ہندوستان سمیت بیشتر ممالک میں بزنس مین اور انٹرپرینیور کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ افراد اپنی اشیاء اور خدمات صرف اپنی سرحدوں تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ انہیں پار کرنا چاہتے ہیں ، ایسے میں انہیں ایسے پروفیشنلز کی ضرورت ہمیشہ رہے گی جو اپنی مہارت، قابلیت اور صلاحیت سے ان کیلئے منافع بخش ثابت ہوں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK