Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی میں نئے اندراج والے رائے دہندگان میں مسلمانوں کی حصہ داری ۳۵؍ فیصد ہونے کا شوشہ

Updated: June 23, 2026, 11:54 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

یوپی میں ۲۰۲۷ء کے اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر فہرست کے اعداد و شمار نے نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

Muslim.Photo:INN
مسلم۔ تصویر:آئی این این
 یوپی میں ۲۰۲۷ء کے اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر فہرست کے اعداد و شمار نے نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے بعد سامنے آنے والے بعض تجزیاتی دعوؤں کے مطابق ریاست میں مسلم ووٹروں کی تعداد اور ان کا تناسب پہلے کے مقابلے میں بڑھا ہے، جس پر سیاسی حلقوں میں مختلف نوعیت کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔غیر سرکاری تجزیوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاست میں مسلم ووٹروں کا تناسب تقریباً ۱۸ء۶؍ فیصد سے بڑھ کر ۱۹ء۵؍فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح نئے رجسٹرڈ ہونے والے ووٹروں میں مسلمانوں کی حصہ داری تقریباً  ۳۵؍ فیصد بتائی جا رہی ہے، تاہم الیکشن کمیشن مذہب کی بنیاد پر ووٹروں کا سرکاری ڈیٹا جاری نہیں کرتا، اسلئے ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
 
 
ذرائع کے مطابق ووٹر فہرست کے تفصیلی جائزے کے دوران بعض تکنیکی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔ کئی معاملات میں ایک ہی شخص کے نام پر مختلف ووٹر شناختی نمبر اور مختلف مقامات پر اندراجات سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ ایسے معاملات کی جانچ اور تصدیق کا عمل جاری ہے۔ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر نو دیپ رِنوا نے واضح کیا ہے کہ الیکشن کمیشن مذہب کے اعتبار سے ووٹروں کا ریکارڈ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈپلیکیٹ یا مشتبہ اندراجات کی شکایات موصول ہوتی ہیں تو مقررہ ضابطوں کے تحت ان کی جانچ کی جاتی ہے اور ضرورت پڑنے پر نام ووٹر فہرست سے خارج کئے جاتے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق اتر پردیش میں مسلم ووٹرز کئی حلقوں میں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ووٹر فہرست میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی کو سیاسی جماعتیں گہری دلچسپی سے دیکھ رہی ہیں۔ گزشتہ چند انتخابات میں مسلم ووٹروں کے رجحانات بھی مختلف سیاسی جماعتوں کیلئے اہم موضوع رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک سرکاری سطح پر مکمل تصدیق اور جانچ کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا، تب تک ووٹروں کے مذہبی تناسب سے متعلق دعووں کو حتمی حقیقت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ اس کے باوجود یہ معاملہ آنے والے دنوں میں اتر پردیش کی سیاست میں اہم بحث کا موضوع بنا رہنے کا امکان ہے۔
 
 
خیال رہے کہ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق، اتر پردیش کی کل آبادی کا مسلمانوں کی حصہ داری تقریباً۱۹ء۳؍ فیصد ہے۔ ایسے میں ووٹر لسٹ کے حوالے سے جو شوشہ چھوڑا گیا ہے،اس کی وجہ سے ایک طبقے میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ کہنے کے باوجود کہ الیکشن کمیشن مذہب کی بنیاد پر کوئی فہرست جاری نہیں کرتا، یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ نئے اندراج میں مسلمانوں کی حصہ داری ۳۵؍ فیصد ہے۔ اسی دعوے کے ساتھ اس طرح کی الزام تراشیاں بھی شروع ہوگئی ہیں کہ نئے اندراج میں بہت ساری خامیاں ہیں۔اسی کے ساتھ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یوپی کی سیاست میںمسلم ووٹ بینک گزشتہ تین انتخابات سے مسلسل سماج وادی پارٹی کے اتحاد کے حق میں متحد  ہورہاہے۔۲۰۱۹ء کے لوک سبھا انتخابات میں، یہ طبقہ ایس پی،بی ایس پی اتحاد کے حق میں نظر آیا جبکہ ۲۰۲۲ء کے اسمبلی انتخابات میں اس نے ایس پی عظیم اتحاد اور ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخابات میں ایس پی،کانگریس اتحاد کی حمایت کی۔ اسی حوالے سے مسلم ووٹروں میں اضافے کے بارے میں طرح طرح کے دعوے کئے جارہے ہیں۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK